ایٹمی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے ذخائر

نیویارک میں امریکی سائنسدانوں کی تنظیم ’’فیڈریشن آف امریکن سائنس دانوں‘‘ نے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کے حوالے سے نئی فہرست جاری کر دی ہے جس کے مطابق ایٹمی طاقت کے حامل ممالک کے پاس ہتھیاروں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ دنیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار روس کے پاس ہیں جن کی تعداد 7 ہزار ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ کے پاس 6800، فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 270، برطانیہ کے پاس 215، پاکستان کے پاس 140، بھارت کے پاس 130، اسرائیل کے پاس 80 اور شمالی کوریا کے پاس 60 ایٹمی ہتھیار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ’’ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار‘‘ بھی تیار کر رہا ہے جو سائز میں اس قدر چھوٹے ہیں کہ انہیں انتہائی آسانی سے میدان جنگ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس روایتی ایٹمی ہتھیار صرف شہروں یا دیگر بڑے انفراسٹرکچر پر ہی گرائے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکٹیکل ہتھیار جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے ذریعے بھی انتہائی مختصر نوٹس پراستعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ’’نیوکلیئر ٹرائی ایڈ‘‘ کی تیاری کے بھی قریب پہنچ چکا ہے جس سے وہ زمین، فضاء اور سمندر تینوں جگہوں سے ایٹمی میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ بھارت نے 1960ء کی دہائی میں اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر دیا تھا اور 80 کی دہائی میں ایٹمی طاقت بن چکا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو مجبوراً اپنا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی ترغیب ملی اور آج اس کے پاس بھارت سے زیادہ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

محمد ابراہیم

Advertisements

آخر ترکی کو شام کے کردوں سے مسئلہ کیا ہے؟

ترکی نے شمال مشرقی سرحدی علاقے میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ انقرہ نے سرحدی علاقے میں فضائی کارروائی سے شروع ہونے والے آپریشن کو پیس سپرنگ کا نام دیا ہے۔ ترکی کی کارروائی کا ہدف کرد ملیشیا پیپلز پروٹیکشن یونٹ وائی پی جی ہے۔ انقرہ اپنی سرحد سے ملحق علاقے کو ایسا محفوظ زون بنانا چاہتا ہے جہاں کرد ملیشیا کا وجود نہ ہو۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اس زون میں شامی پناہ گزینوں کو رکھا جائے گا۔ انقرہ وائی پی جی کو دہشت گرد قرار دی گئی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی ایک شاخ سمجھتا ہے۔ پی کے کے گذشتہ تین دہائیوں سے ترکی کے کرد اکثریتی علاقے کی خود مختاری کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

وائی پی جی شام اور عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا حصہ ہے اس لیے یہ تنظیم امریکہ اور ترکی کے درمیاں تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنتی آئی ہے۔ جب دسمبر 2018 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے امریکی افواج افواج کے انخِلا کا اعلان کیا تو شام کے کردوں نے ان خدشات کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا کہ اب ترکی ان کے خلاف فوجی کارروائی تیز کرے گا۔ ان کردوں نے امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ جنوری 2019 میں ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ترکی نے امریکہ کے حمایت یافتہ کردوں پر حملہ کیا تو ترکی پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔

آخر ترکی کو شام کے کردوں سے مسئلہ کیا ہے؟
تقریباً 30 لاکھ کرد مشرق وسطیٰ کے ممالک ایران، عراق، شام اور ترکی میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کرد ترکی کی سات کروڑ 90 لاکھ آبادی کا پانچواں حصہ قرار دیے جاتے ہیں۔ اسیر کرد رہنما عبداﷲ اوجلان کی تنظیم پی کے کے نے ترکی کے خلاف 1984 سے مسلح بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ پی کے کے ترکی کے کردوں کے لیے زیادہ ثقافتی و سیاسی حقوق اور علاقے کی خودمحتاری کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ترکی کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی پی کے کے کی بیناد عبداﷲ اوجلان نے 1978 میں رکھی تھی۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد کردوں کے لیے ایک الگ ریاست کا قیام ہے۔ ترکی کے کرد علاقو ں میں جاری شورش سے ابھی تک 40 ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

ترک صدر طیب اردوغان نے اپنے دور حکومت میں کردوں کے ساتھ بات چیت شروع کی، اس دوران کرد باغیوں اور حکومت کے درمیاں جنگ بندی بھی ہوئی تاہم بعد ازاں کرد گروپوں کے ساتھ ترک حکومت کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ پیپلز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) کو ترکی سیرین ڈیموکریٹک یونین پارٹی کا مسلح ونگ قرار دیتا ہے، اس تنظیم کے تعلقات پی کے کے کے ساتھ ہیں جس نے ترک حکام کے خلاف شمال مشرق میں کئی حملے کیے ہیں۔ جولائی 2015 میں ترک حکومت اور پی کے کے کے درمیان دو سال سے جاری جنگ بندی کا معاہدہ اس وقت ختم ہو گیا تھا جب شام کی سرحد کے ساتھ ترک علاقے میں بم دھماکے میں 30 کرد ہلاک ہو گئے تھے۔ اکتوبر 2015 میں ترکی کی تاریخ کا بدترین دہشت گردی کا واقعہ ہوا جب ایک امن مارچ کو بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا۔

جولائی 2016 میں ترکی میں ہونے والے فوجی بغاوت کے بعد ناصرف بغاوت میں مبینہ طور پر ملوث گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا بلکہ ترک حکومت نے ملک کے جنوب مشرق میں پی کے کے کے خلاف بھی فضائی کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔ ترک حکومت نے شام میں وائی پی جی اور داعش کے خلاف بھی فوجی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ ترکی کی سرحد کے باہر کرد جنگجو، امریکہ کے حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ مل کے داعش کے خلاف لڑ رہے تھے، اس دوران انہوں نے شمالی شام میں ایک نیم خودمختار خطہ تشکیل دے دیا تھا۔ ستمبر 2014 میں پی کے کے کے اسیر رہنما عبد اللہ اوجلان نے تمام کردوں پر زور دیا تھا کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں حصہ لیں۔

اس کے اگلے مہینے داعش نے کردوں کے زیر کنٹرول شام کے کوبانی پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد ہزاروں کرد جان بچا کر ترکی میں داخل ہوئے۔ تاہم کردوں کی زیر کمان ایس ڈی ایف کے دستوں نے جنوری 2015 میں کوبانی کا کنٹرول دوبارہ داعش سے حاصل کر لیا تھا۔ اگست 2016 میں ایس ڈی ایف نے شام کا اہم شہر منبج بھی داعش سے آزاد کرا لیا۔ تاہم اس دوران وائی پی جی کے جنگجوؤں کی ترک حمایت یافتہ فری سیرین آرمی کے دستوں سے جھڑپیں ہوئیں جو کہ شہر کا کنٹرول سنبھالنا چاہتے تھے۔ تاہم جب ایس ڈی ایف اور وائی پی جی نے شمالی شام کے بہت سارے علاقے داعش سے واپس لے کر وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کر لیں تو ترکی کے حمایت یافتہ جنگجو بشمول فری سیرین آرمی کردوں کو ان علاقوں سے نکالنے کے لیے حرکت میں آگئے۔

ترک افواج اور ایف ایس اے نے جنوری 2018 میں آفیرین شہر پر حملے شروع کر دیے اور مارچ 2018 میں شہر کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس کے بعد ترکی مسلسل شام میں کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ ترک فضائیہ نے شام کے اندر کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں کارروائیاں بھی کی ہیں۔ ترکی کو خدشہ ہے کہ اگر کردوں نے شام میں اس شورش کے ماحول میں آزاد کرد ریاست قائم کر لی تو یہ ترکی کے کرد علاقوں میں علیحدگی کی تحریکوں کو جلا بخشے گا۔

بشکریہ اردو نیوز

’لنگر خانہ کھل گیا ہے، جب بھوک لگے آ جانا

جب سوشل میڈیا پر پہلی دفعہ وزیراعظم صاحب کی ماڈل لنگر خانہ والی تصویر دیکھی تو میں نے ہنسی والی ایموجی بھیج دی۔ ایک دفعہ بھی گمان نہیں ہوا کہ حقیقت میں ایسا ہو سکتا ہے۔ سوچا کسی نے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے کوئی تصویر فوٹو شاپ کر کے سوشل میڈیا پر ڈال دی ہو گی لیکن تھوڑی ہی دیر میں آن لائن اخبارات کی مصدقہ خبریں نظروں سے گزرنے لگیں تو حیرت کے ساتھ ساتھ بے حد غصہ بھی آیا۔ جب اخبار کی خبر پڑھی کہ حکومت سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے ساتھ مل کر ملک میں لنگر خانے کھولنے جا رہی ہے تو ایسے لگا جیسے کسی نے میرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کرمجھ سے کہا ہو کہ لنگر خانہ کھل گیا ہے جب بھوک لگے آ جانا۔ ان الفاظ سے عزت نفس کو کیسی ٹھیس پہنچی، اس کا اظہار لفظ نہیں کر سکتے۔ آخر غریب آدمی کے پاس عزت نفس کے سوا ہوتا ہی کیا ہے۔ اگر وہ بھی تضحیک کا نشانہ بن جائے تو کس قدر اذیت ہوتی ہے اس کو سمجھنے کے لیے دل چاہیے۔

لنگر خانے سے کھانا کھانا معیوب نہیں لیکن اگر حکومت لوگوں کو روزگار دینے کے بجائے لنگرخانے کھولنے کا اعلان کر دے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی روزگار مانگے والے کے منہ پر تھپڑ مار کر کہا جائے، یہ لو اپنے لیے دو وقت کی روٹی اور اپنا منہ بند رکھو۔ جب کوئی حکومت سے روزگار مانگتا ہے تو صرف اپنے لیے نہیں مانگتا، اس کے خاندان میں والدین، بہن، بھائی، بیوی بچے بھی ہوتے ہیں جن کے لیے اسے روٹی کمانا ہوتی ہے۔ اور روٹی کا مطلب صرف روٹی نہیں ہے۔ سر پر چھت بھی چاہیے اور بدن پر کپڑے بھی۔ وزیراعظم عمران خان صاحب سے عاجزانہ سا سوال یہ ہے، کیا یہ لنگر خانے چھت اور کپڑے بھی مہیا کریں گے؟ اگر نہیں تو وہ ضرورتیں کیسے پوری ہوں گی؟ چند لوگوں کے پیٹ میں دو وقت کی روٹی تو چلی جائے گی شاید، لیکن زندہ رہنے کے لیے ہر دن سر پر چھت بھی چاہیے اور بدن ڈھاپنے کے لیے کپڑے بھی اور خدانخواستہ بیمار پڑ گئے تو دوا دارو الگ۔ تعلیم کو توچلو ایک طرف رکھ دیتے ہیں شاید وہ صرف زندہ رہنے کے لیے اتنی اہم نہیں۔ کیا آپ نے اس بارے میں بھی کوئی پلان ترتیب دیا ہے؟

وزیراعظم صاحب دنیا کی بہت مثالیں دیتے ہیں، ماڈل لنگر خانے کا افتتاح کرتے ہوئے کسی ایسے ملک کی مثال بھی دے دیتے جہاں حکومت لوگوں کو روزگار دینے کے بجائے ان کے لیے لنگر خانے کھولتی ہو، تاکہ ہمارے دل کو بھی تسلی ہو جاتی کہ دنیا میں صرف ہم ہی بدنصیب نہیں ہیں جو روزی کما کر کھانا چاہتے ہیں لیکن ہماری اس خود داری کی کوئی وقعت نہیں۔ خان صاحب نے اپنی 20، 22 سالہ سیاسی جدوجہد کے دوران ایک دفعہ بھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ ہماری حکومت آئے گی تو ہم آپ کے لیے لنگرخانے کھولیں گے۔ اس کے علاوہ باقی سب وعدے کیے۔ جیسے کہ تعلیم اور علاج سستے ہوں گے۔ بے گھروں کو گھر ملیں گے۔ بے روزگاروں کو روزگار ملے گا، مہنگائی ختم ہو گی وغیرو وغیرہ۔ جو وعدے کیے تھے وہ تو وفا نہیں ہوئے البتہ جو وعدہ تھا ہی نہیں اسکی تکمیل میں ذرا دیر نہیں لگائی۔ کاش یہ نعرہ الیکشن کمپین کے دوران بھی لگایا ہوتا کہ ہم آپ کی بھوک مٹانے کے لیے لنگر خانے کھولیں گے تاکہ لوگوں کو پہلے سے ہی آپ کے ویژن کا ادراک ہو جاتا۔

لنگرخانہ کھولنا کوئی بری بات نہیں۔ لیکن یہ کام یا تو وہ لوگ کرتے ہیں جوصاحب استطاعت ہوں یا پھر وہ جنہیں اپنا کالا دھن سفید کرنا ہو۔ حکومتیں تو الیکشن کے دوران کیے گئے جھوٹے سچے وعدوں کو کسی حد تک پورا کرنے کی کوششیں کرتی ہیں لیکن ہمیں وزیراعظم صاحب کی طرف سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ عوام بے صبری ہے۔ جناب! جب گھر میں بچے بھوکے پیٹ سوئیں اور بدلتے موسم کے مطابق پہننے کو کپڑے نہ ہوں تو صبر کیسے آتا ہے اس کی رہنمائی آپ ہی کر دیں تو اچھا ہے۔ ایک سادہ اورعامیانہ ذہنیت کا انسان تو اس کا جواب ڈھونڈنے سے قاصرہے۔

قیصرہ اکرام

بشکریہ اردو نیوز

ہاتھوں میں پلیٹ یا لیپ ٹاپ

بھوک فرماتی ہے پھیلا ہاتھ لنگر کیلئے
پیاس کا اصرار چل ان آستانوں سے پرے

آئیے طے کرتے ہیں۔ پاکستانیوں کو بھوک زیادہ لگتی ہے یا پیاس۔ ہمارے امراء اور رئوسا اقتدار کے بھوکے رہتے ہیں اور ہماری اکثریت زندگی کی آسانیوں کے لئے پیاسی۔ علم کی پیاس بجھانے کے لئے دینی مدارس بھی کھلتے ہیں، یونیورسٹیاں بھی قریہ قریہ وجود میں آرہی ہیں۔ تاریخ سرگوشی کر رہی ہے کہ جن قوموں کی علم کی پیاس بجھانے کے سامان کیے جاتے ہیں وہ اپنے پائوں پر کھڑی ہوتی رہیں۔ اپنے وسائل سے فائدہ اٹھا کر زندگی کے سامان بہم پہنچاتی رہیں۔ سب اپنے دستِ بازو آزماتے تھے، تیشہ اٹھاتے تھے، نہریں نکالتے تھے۔ خود بھی فیض یاب ہوتے تھے اور خلقتِ شہر کی بھوک پیاس مٹانے کا اہتمام بھی ہو جاتا تھا۔ دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے کو کسی قوم نے بھی اچھا نہیں جانا۔

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

پرواز قوموں کی اصل ضرورت ہے۔ پرواز علم کی، دانش کی، تخیل کی، تحقیق کی۔ تحقیق سے ہی وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔ تحقیق ہی تخلیق کو تحریک دیتی ہے۔ تحقیق نے ہی صنعتی ادوار کو جنم دیا۔ تحقیق سے ہی انسان نے فضائوں اور سمندروں کو مسخر کیا۔ تحقیق لنگر خانوں میں پروان نہیں چڑھ سکتی۔ وہاں تو یہ امید ہوتی ہے کہ قطار میں کھڑے ہونے سے روٹی مل جائے گی۔ ہاتھ پھیلانے والی قطاروں نے اپنے حوصلے، ہمت اور خود داری کو ہمیشہ آخری سلام کہا ہے۔ لنگر کے ذریعے معتقدین، معذوروں اور مستحقین کو کھانا کھلانا آستانوں کی روایت ہے، اکیسویں صدی کی نہیں۔ اطلاعات اور معیشت کی یہ صدیاں تو اپنے دماغ اور بازوئوں کو بروئے کار لاکر حصولِ رزق کے راستے ایجاد کر رہی ہیں۔

لنگر جیلوں میں لگتے ہیں۔ بڑے کھانے لشکروں میں۔ زراعت پیشہ قوموں کی روٹی تو گھروں سے پک کر آتی ہے۔ وفادار بیویاں بڑے پیار اور خلوص سے لذیذ کھانا تیار کر کے، توے پر روٹی اچھی طرح سینک کر، رنگین چنگیر میں خوبصورت رومالوں میں لپیٹ کر اپنے سر پر جما کر کھیتوں میں سے ہوتی اور ہاں چنگیر پر لسی کا مٹکا بھی رکھ کر کھیتوں میں پہنچتی ہیں۔ جہاں پسینے میں شرابور مگر بہت مطمئن اپنے گھٹنوں کو ہاتھوں اور اجرک سے حمائل کیے کسان کھانے کا کم بیوی کا زیادہ انتظار کررہا ہوتا ہے۔ اس کھانے کے بعد اسے پھر کیاریاں اور پگڈنڈیاں بلا لیتی ہیں۔ وہ کسی لنگر کے کھانے کے انتظار میں نہیں بیٹھا رہتا۔

یہ ہمارے حکمران بھی کیا کریں۔ انہیں بھی لنگروں اور بڑے کھانوں کی عادتیں ڈال دی گئی ہیں۔ جدید دور کے یہ لنگر واشنگٹن میں کھلے ہیں۔ تیسری دنیا کیا آزاد دنیا کی بہت سی قومیں بھی ان لنگروں کے کھلنے کے انتظار میں رہتی ہیں۔ یو این ایڈ کے لنگر ہیں۔ آئی ایم ایف کے لنگر ہیں۔ عالمی بینک کے دستر خوان۔ پینٹا گون کے بڑے کھانے۔ چھوٹی قوموں کی قطاریں بندھی ہیں۔ ہاتھ پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر سال ستمبر میں نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کا لنگر کھلتا ہے۔ افریقہ، ایشیا، یورپ، کالے، گورے، گندمی، سانولے سب لائن میں لگے ہوتے ہیں۔ مسلم امہ کے لئے لنگر ریاض میں لگائے جاتے ہیں۔ بیسویں صدی میں لندن کو ان لنگروں کی توفیق زیادہ تھی جب سلطنتِ برطانیہ میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اب تو خود وہ بریگزٹ کے لنگر میں الجھے ہوئے ہیں۔

اب ادھر مشرق بعید میں بیجنگ میں دستر خوان سجائے جاتے ہیں۔ بھوکے پیاسے کشاں کشاں وہاں پہنچتے ہیں۔ بار بار جاتے ہیں۔ سمجھتے تو یہ ہیں کہ مال مفت۔ اس لئے دل بے رحم ہوتا ہے۔ لنگر واشنگٹن کا ہو لندن کا یا ریاض کا، بیجنگ یا منیلا کا۔ یہ راشن ہمارے اپنے وسائل کی کشید ہے۔ ہماری فصلیں رہن رکھی ہوئی ہیں۔ ہمارے اثاثے گروی ہیں۔ سامراجی طاقتیں ہمارے ملکوں کی قیمتی چیزیں اڑا لے گئیں۔ ہمارا سونا لے گئیں۔ اب ہمارے دماغ لے جارہی ہیں۔ ہمارے بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں ان کے کارخانے کمپنیاں چلا رہے ہیں۔ ان کی تحقیق میں نئے منصوبے دے رہے ہیں۔ یہ ممالک ہمارے مال پر قبضہ کر کے اسے اپنی سخاوت قرار دے رہے ہیں۔ ہم اپنی خودی سے بیگانہ، اپنے وسائل کی قدر و قیمت سے بے خبر نئے دَور کے بظاہر حاتم طائیوں لیکن دراصل سلطانا ڈاکوئوں کے لنگروں کو انسانیت کی خدمت سمجھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی لنگر خانے قوموں کو ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ کئی کئی ہزار سال سے تہذیب و تمدن کی وارث قوموں کو اپنی تخلیقی اور علمی صلاحیتیں استعمال کرنے سے روک رہے ہیں۔ اپنا دست نگر بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ چھوٹی قوموں کے حکمران منتخب، غیر منتخب، حکام، عمال جن کی پلیٹوں میں زیادہ بوٹیاں ڈال دی جاتی ہیں۔ وہ اپنے اپنے ملکوں میں اپنی قوم کی ذہنی، جسمانی، طبعی، تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال روکنے کے لئے ایسے ہی لنگر کھولتے ہیں تاکہ قوم کی ہاتھ پھیلانے کی عادت اور مستحکم ہو جائے۔ وہ اپنی غربت، مفلسی، بےبسی کو اپنا مقدر سمجھ کر سڑک کنارے بیٹھ جائیں، لنگر کھلنے کا انتظار کریں۔

زندہ قومیں کارخانے لگاتی ہیں۔ زرعی زمینوں کی پیداوار میں اضافہ کرتی ہیں۔ اپنے ایک ایک ہاتھ بازو اور افرادی طاقت کو ملت کی طاقت بڑھانے کا وسیلہ بناتی ہیں۔ کوئی بھوکا نہیں سوتا۔ کسی کو پیاس نہیں ستاتی۔ اپنی محنت کی کمائی سے اپنا اور بچوں کا پیٹ بھرنے والا خودداری، خود کفالت اور خود اعتمادی کا پیکر ہوتا ہے۔ یہ جو کچھ لنگروں میں حکومت ان داتا بن کر دے رہی ہے۔ یہ مال یہ راشن آپ کے اپنے وسائل ہیں۔ آپ کے دیے گئے ٹیکس ہیں، آپ کے عطیات ہیں، حکمران اپنے خزانوں سے نہیں دے رہے۔ آپ اپنا مال ہی بھکاریوں کی طرح کیوں لیتے ہیں۔ احسان دانش یاد آتے ہیں

میں تو ہر زندہ مردے سے کہتا ہوں یہ
چھین کر پیٹ بھر لے بھکاری نہ بن

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

وسل بلوئر کسے کہتے ہیں؟ امریکی قانون ایسے شخص کو کیوں تحفظ فراہم کرتا ہے ؟

امریکی کانگریس میں ان دنوں ایسے مخبروں کا چرچا ہے، جن کی شکایت کے باعث امریکہ کے موجودہ صدر کے احتساب اور مواخذے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مخبروں کی شناخت خفیہ رکھنے کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے اس خواہش کا اظہار بھی سامنے آچکا ہے کہ وہ اس اولین مخبر کو جاننا چاہتے ہیں، جس نے ان کی یوکرین کے صدر کے ساتھ گفتگو کی تفصیلات امریکی کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی تک پہنچائیں۔ امریکی اخبارات اور خود وائس آف امریکہ کی رپورٹس میں خبر کی جزئیات بیان کرنے کے لئے ‘وسل بلوئر’ کا لفظ استعمال کیا جا رہا ہے۔

‘وسل بلوئر’ سے کیا مراد ہے اور کس شخص کو ‘وسل بلوئر’ کہا جا سکتا ہے۔ ہم نے یہ جاننے کے لئے قانونی ماہر ڈاکٹر طیب محمود سے رابطہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وسل بلوئر کی اصطلاح پرانی ہے اور یہ کسی ایسے شخص کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو خطرے کی سیٹی بجا دے۔ امریکی قانون ایسے شخص کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر طیب محمود کے مطابق مختلف ادارے یا افراد اپنے فرائض کی بجاآوری کے دوران اگر کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہوں تو اس بارے میں حقیقی معلومات اُنہی لوگوں کے پاس ہوتی ہیں جو ان اداروں میں کام کر رہے ہوتے ہیں یعنی وہ اندر کے لوگ ہوتے ہیں۔

تاہم ایسے افراد اس بات سے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ اگر وہ یہ معلومات منظر عام پر لے آئیں تو انہیں نوکری سے برخواست کیا جا سکتا ہے یا ان پر سختی کی جا سکتی ہے۔ لہذا امریکہ میں وفاقی اور ریاستی سطح پر ایسے قوانین موجود ہوتے ہیں جو ایسے افراد کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں جو ادارے میں کسی غیر قانونی اور غیر اخلاقی چیز کا انکشاف کریں۔ ان قوانین کے تحت اگر ضروری ہو تو ایسے افراد کی شناخت کو بھی خفیہ رکھا جاتا ہے تاکہ اس کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہ کی جا سکے۔ ایسے فرد کے لئے وسل بلوئر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر طیب محمود کہتے ہیں کہ ایسے اقدام کو جاسوسی قرار نہیں دیا سکتا اور حقیقتاً یہ بہت قابل تعریف اقدام ہوتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ ایک سماجی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد یا اداروں کے بارے میں یہ جرات مندانہ اقدام سامنے آتا ہے وہ یقیناً خوش نہیں ہوتے اور اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ شخص یا وسل بلوئر کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے کی کوشش کریں۔ لہذا ایسے قانون بنائے گئے جو یہ فریضہ انجام دینے والوں کو تحفظ فراہم کر سکیں۔

بہجت جیلانی

بشکریہ وائس آف امریکہ

کیا اقوام متحدہ کے پاس پیسے ختم ہونے والے ہیں؟

دنیا بھر میں جنگ اور غربت سے متاثرہ ممالک کو اقوام متحدہ سالوں سے مالی اور دیگر امداد فراہم کرتا آرہا ہے لیکن اب خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس عاملی ادارے کے فنڈز ختم ہو جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو 23 کروڑ ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے پاس فنڈز ختم ہو جائیں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یو این سیکریٹریٹ کے ملازمین کو لکھے گئے ایک خط میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گوٹیرس نے کہا ہے، ’2019 کے بجٹ کے تحت اپنے معمول کا آپریشن چلانے کے لیے جتنی رقم کی ہمیں ضرورت تھی اس کے لیے ممبر ممالک نے کل رقم کا صرف 70 فیصد دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کو 23 کروڑ ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تنخواہیں، پینشن اور طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اضافی ضروری اقدامات لینے ہوں گے۔ اخراجات میں کمی کے لیے اینٹونیو گوٹیرس نے اپنے خط میں کانفرسوں اور اجلاسوں کو ملتوی کرنے کا ذکر کیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا ہے کہ سروسز میں کمی لائی جائی گی، افسران کے دوروں کو ضروری سرگرمیوں تک محدود کر دیا جائے گا اور توانائی کو بچانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ رواں برس کے شروع میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک سے کہا تھا کہ خسارے کی کمی دور کرنے کے لیے رکن ممالک اپنے حصے بڑھا دیں تاہم رکن ممالک نے انکار کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گوٹیرس کے مطابق اخراجات میں خسارے کی کمی کو پورا کرنے کی ذمہ داری رکن ممالک کی ہے۔ امن مشن کے بجٹ کے علاوہ اقوام متحدہ کا سال 2018 اور 2019 کا بجٹ 5.4 ارب ڈالر کے قریب تھا، جس کا 22 فیصد امریکہ نے دیا تھا۔

بشکریہ اردو نیوز

کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے

پرسوں یعنی اتوار تک سعودی حکومت غیر ملکیوں کو تین اقسام کے ویزے جاری کرتی تھی۔ حج و عمرے کا ویزہ، فیملی ویزہ اور کاروباری و ملازمتی ویزہ۔ اب پہلی بار ٹورسٹ ویزہ بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر انچاس ممالک کے شہری آن لائن یا ملک میں آمد کے بعد ایئرپورٹ پر ہی ایک برس کا ملٹی پل ٹورسٹ ویزہ حاصل کر سکیں گے اور ایک دورے میں نوے دن تک قیام کر سکیں گے۔ جب کہ دیگر ممالک کے شہری قریبی سعودی سفارت خانے یا قونصل خانے سے سیاحتی ویزہ حاصل کر سکیں گے۔ سعودی حکومت ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن دو ہزار تیس کے تحت تیل کی آمدنی پر انحصار کم سے کم اور سعودی نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح میں کمی کے لیے اگلے گیارہ برس میں قومی آمدنی کا لگ بھگ دس فیصد سیاحتی و تفریحاتی شعبے سے حاصل کرنا چاہتی ہے۔

اس وقت سعودی باشندے بیرونِ ملک تفریحات پر سالانہ بائیس ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ سعودی حکومت کا ہدف ہے کہ کچھ ایسا سیاحتی ڈھانچہ بنایا جائے کہ سعودی باشندے بیرون کے بجائے اندرونِ ملک سیر سپاٹے اور ثقافتی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لیں اور اپنا کم ازکم ایک تہائی تفریحی بجٹ ملک کے اندر ہی خرچ کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مئی دو ہزار سولہ میں خادمِ حرمین و شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے قیام کا فرمان جاری کیا۔ اس کا مقصد اندرونِ ملک جدید تفریحی سہولتوں کو منظم کرنا ہے۔ اتھارٹی کا سالانہ ابتدائی بجٹ لگ بھگ تین ارب ڈالر ہے۔ گزشتہ برس اتھارٹی کے تحت ریاض اور جدہ سمیت کئی شہروں میں بین الاقوامی شہرت یافتہ مغربی اور عرب کنسرٹس نے پرفارمنس دی۔ مقامی سطح پر تین سو کے لگ بھگ تقریبات ، مقابلوں اور انٹرٹینمنٹ شوز کا اہتمام کیا گیا۔ اس برس زیادہ بڑے پیمانے پر تفریحِ طبع کا اہتمام ہے۔

تنہا ڈرائیونگ پر پابندی ختم ہونے سے گھر سے باہر سماجی زندگی میں خواتین کی شرکت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ اور اب ان میں بلا خوف و خطر گروپ کی شکل میں لمبی ڈرائیونگ اور تفریحی سرگرمیوں اور کھیلوں کے مقابلوں سے محظوظ ہونے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ تازہ پیش رفت یہ ہے کہ خواتین اپنے سرپرست (والد ، بھائی، شوہر وغیرہ ) کی تحریری اجازت یا ہمراہی کے بغیر شناختی دستاویزات دکھا کر کسی بھی ہوٹل میں قیام کر سکتی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم غیرملکی خواتین کو اقامے کی نقل اور سیاح خواتین کو پاسپورٹ کی فوٹو کاپی دکھانے پر کمرہ مل سکتا ہے۔ اب تک ہوٹل میں جوڑے قیام کرنے کے لیے نکاح نامے کی نقل جمع کرانے کے پابند تھے مگر نئے قانون کے تحت غیر ملکی جوڑے اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں اور مقامی سعودی جوڑے کو اگر ہوٹل میں قیام کرنا ہے تو مرد کی شناختی دستاویزات کافی ہوں گی۔

پہلے کے برعکس غیر ملکی خواتین کے لیے عبایا پہننا لازمی نہیں البتہ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقامی تہذیب و ثقافت کا خیال رکھتے ہوئے شائستہ لباس میں باہر نکلیں۔ سعودی حکومت نے سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے یونیسکو کی عالمی وراثتی فہرست میں شامل پانچ آثارِ قدیمہ و تاریخی مقامات بھی کھول دیے ہیں۔ البتہ مکہ اور مدینہ میں غیر مسلموں کے داخلے پر پابندی بدستور عائد رہے گی۔ اس کے علاوہ بحیرہ قلزم کے ساحل پر غیرملکی سرمایہ کاروں کو ٹورسٹ ریزورٹ میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اگلے گیارہ برس میں ملک گیر سطح پر بیس بڑے انٹرٹینمٹ کمپلیکس تعمیر کیے جائیں گے۔ اس سلسلے کا پہلا منصوبہ ریاض سے چالیس کیلومیٹر پرے القدیا میں سعودی انٹرٹینمٹ وینچرز نامی کمپنی تعمیر کر رہی ہے۔ اس کے امریکی سربراہ بل ارنسٹ کو والٹ ڈزنی انٹرٹینمنٹ کمپنی کے تحت ڈزنی لینڈ تھیم پارکس چلانے اور نت نئی تفریحات متعارف کروانے کا وسیع تجربہ ہے۔

القدیا انٹرٹینمنٹ کمپلیکس کے انتظام کی خاطر ساٹھ سعودی نوجوانوں کے پہلے جتھے کو فلوریڈا یونیورسٹی میں انٹرٹینمٹ کے مختلف شعبوں میں ڈگری کورسز کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہ نوجوان تکمیل کے بعد واپس آ کر ماسٹر ٹرینرز کا بھی کام کریں گے۔ مقامی سطح پر گزشتہ ماہ سے ریاض میں کھلنے والی انٹرٹینمنٹ اکیڈمی میں بھی پڑھائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ تاکہ مقامی لڑکے لڑکیاں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں روزگار کے لیے مختلف شعبوں میں ڈپلومے کی سطح تک تعلیم حاصل کر سکیں۔ پہلا انٹرٹینمنٹ کممپلیکس ایک لاکھ مربع میٹر رقبے پر ہو گا۔ اس میں تقریباً تین سو تفریحی و تعلیمی سہولیات میسر ہوں گی۔ لگ بھگ بائیس ہزار مقامی نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ ملک گیر سطح پر اگلے گیارہ برس کے دوران اس نوعیت کے بیس انٹرٹینمنٹ کمپلیکس تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ اندازہ ہے کہ سالانہ لگ بھگ پانچ کروڑ مقامی و غیر ملکی سیاح ان تفریحی مراکز میں پیسہ خرچ کریں گے۔

سعودی عرب میں انیس سو پچھتر میں آخری سینما بند کر دیا گیا۔ تب سے یہ لگژری صرف ان سعودی شہریوں کی دسترس میں رہی جو بحرین ، متحدہ عرب امارات ، جنوب مشرقی ایشیا، بھارت یا پھر مغربی ممالک میں چھٹیاں گذارنے یا آمدو رفت کی سکت رکھتے تھے۔ مگر اب عام سعودیوں کو بھی سینما بینی کی سہولت حاصل ہو رہی ہے۔ پینتیس برس بعد پہلا ملٹی اسکرین سینما کمپلیکس ریاض میں امریکی کمپنی اے ایم سی نے گزشتہ برس اپریل میں کھولا۔ تب سے کئی شہروں میں سات سینما کھل چکے ہیں اور اگلے تین برس میں ان کی تعداد پچاس تک پہنچ جائے گی۔ ان پچاس سینماؤں میں ساڑھے چار سو اسکرینز ہوں گی۔

سعودی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی محض کنسرٹس، ثقافتی نمائشیں، کھیلوں کے مقابلے اور دیگر مروجہ تفریحات کو ہی فروغ نہیں دے رہی بلکہ دینی ثقافت میں نئی پود کی دلچسپی بڑھانے پر بھی کماحقہ توجہ دے رہی ہے۔ مثلاً اس برس اگست میں اتھارٹی نے قرأت اور اذان کا پہلا بین الاقوامی مقابلہ منعقد کرایا۔ اس کے پہلے مرحلے میں ایک سو باسٹھ ممالک کے بیالیس ہزار سے زائد قاریوں اور موذنوں نے حصہ لیا۔ سب سے زیادہ انٹریز سعودی عرب، مصر ، پاکستان ، بھارت اور انڈونیشیا سے آئیں۔ ستمبر میں دوسرے مرحلے کا مقابلہ ہوا۔ فائنل یعنی تیسرا مرحلہ لائیو ہو گا۔ اس میں کامیاب ہونے والے قاری کو تیرہ لاکھ ڈالر اور موذن کو پانچ لاکھ تیس ہزار ڈالر نقد انعام ملے گا۔

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے

غالب

وسعت اللہ خان

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Inside the U.N. General Assembly

The United Nations General Assembly is one of the six principal organs of the United Nations (UN), the only one in which all member nations have equal representation, and the main deliberative, policy-making, and representative organ of the UN. Its powers are to oversee the budget of the UN, appoint the non-permanent members to the Security Council, appoint the Secretary-General of the United Nations, receive reports from other parts of the UN, and make recommendations in the form of General Assembly Resolutions. It has also established numerous subsidiary organs.
The General Assembly currently meets under its president or secretary-general in annual sessions at the headquarters of the United Nations in New York City, the main part of which lasts from September  to December and part of January until all issues are addressed (which often is just before the next session’s start). It can also reconvene for special and emergency special sessions. Its composition, functions, powers, voting, and procedures are set out in Chapter IV of the United Nations Charter. The first session was convened on 10 January 1946 in the Methodist Central Hall in London and included representatives of 51 nations.
Voting in the General Assembly on certain important questions, namely, recommendations on peace and security, budgetary concerns, and the election, admission, suspension or expulsion of members is by a two-thirds majority of those present and voting. Other questions are decided by a straightforward majority. Each member country has one vote. Apart from approval of budgetary matters, including adoption of a scale of assessment, Assembly resolutions are not binding on the members. The Assembly may make recommendations on any matters within the scope of the UN, except matters of peace and security under Security Council consideration.  The one state, one vote power structure potentially allows states comprising just five percent of the world population to pass a resolution by a two-thirds vote.
During the 1980s, the Assembly became a forum for the “North-South dialogue:” the discussion of issues between industrialized nations and developing countries. These issues came to the fore because of the phenomenal growth and changing makeup of the UN membership. In 1945, the UN had 51 members. It now has 193, of which more than two-thirds are developing countries. Because of their numbers, developing countries are often able to determine the agenda of the Assembly (using coordinating groups like the G77), the character of its debates, and the nature of its decisions. For many developing countries, the UN is the source of much of their diplomatic influence and the principal outlet for their foreign relations initiatives.
Although the resolutions passed by the General Assembly do not have the binding forces over the member nations (apart from budgetary measures), pursuant to its Uniting for Peace resolution of November 1950 (resolution 377 (V)), the Assembly may also take action if the Security Council fails to act, owing to the negative vote of a permanent member, in a case where there appears to be a threat to the peace, breach of the peace or act of aggression. The Assembly can consider the matter immediately with a view to making recommendations to Members for collective measures to maintain or restore international peace and security. 
The first session of the UN General Assembly was convened on 10 January 1946 in the Methodist Central Hall in London and included representatives of 51 nations. The next few annual sessions were held in different cities: the second session in New York City, and the third in Paris. It moved to the permanent Headquarters of the United Nations in New York City at the start of its seventh regular annual session, on 14 October 1952. In December 1988, in order to hear Yasser Arafat, the General Assembly organized its 29th session in the Palace of Nations, in Geneva, Switzerland.
All 193 members of the United Nations are members of the General Assembly, with the addition of Holy See and Palestine as observer states. Further, the United Nations General Assembly may grant observer status to an international organization or entity, which entitles the entity to participate in the work of the United Nations General Assembly, though with limitations.
The agenda for each session is planned up to seven months in advance and begins with the release of a preliminary list of items to be included in the provisional agenda. This is refined into a provisional agenda 60 days before the opening of the session. After the session begins, the final agenda is adopted in a plenary meeting which allocates the work to the various Main Committees, who later submit reports back to the Assembly for adoption by consensus or by vote. Items on the agenda are numbered. Regular plenary sessions of the General Assembly in recent years have initially been scheduled to be held over the course of just three months; however, additional work loads have extended these sessions until just short of the next session. The routinely scheduled portions of the sessions normally commence on “the Tuesday of the third week in September, counting from the first week that contains at least one working day”, per the UN Rules of Procedure. The last two of these Regular sessions were routinely scheduled to recess exactly three months afterwards  in early December, but were resumed in January and extended until just before the beginning of the following sessions.
The General Assembly votes on many resolutions brought forth by sponsoring states. These are generally statements symbolizing the sense of the international community about an array of world issues. Most General Assembly resolutions are not enforceable as a legal or practical matter, because the General Assembly lacks enforcement powers with respect to most issues. The General Assembly has authority to make final decisions in some areas such as the United Nations budget. General Assembly Resolutions are generally non-binding on member states, but carry considerable political weight, and are legally binding towards the operations of the General Assembly. The General Assembly can also refer an issue to the Security Council to put in place a binding resolution.
Courtesy : Wikipedia

China marks seventy years of communism with massive show of force

The 70th anniversary of the founding of the People’s Republic of China was observed with a series of ceremonial events including a grand military parade as its spotlight to celebrate National Day of the People’s Republic of China that took place on 1 October 2019 in Beijing. Communist Party General Secretary, President and Central Military Commission Chairman Xi Jinping, who was the guest of honor, gave the holiday address to the nation and Chinese expatriates abroad before inspecting the formations along Chang’an Avenue. Premier Li Keqiang was the master of ceremonies and General Yi Xiaoguang was the chief commander of the parade. It was the largest military parade and mass pageant in Chinese history.
The Communist Party of China had defeated the Kuomintang Party following the Chinese Civil War, which occurred intermittently between 1927 and 1949. In the aftermath of the civil war, the Kuomintang and its loyalists then retreated to the island of Taiwan, formerly a prefecture of the Qing Empire, which had been under Japanese colonial rule from 1895 to 1945. The founding of the People’s Republic of China was formally proclaimed by Mao Zedong, the Chairman of the Communist Party of China, on 1 October 1949 at 3:00 pm in Tiananmen Square in Beijing, the new capital (Nanking had been the capital of the former Republic of China). The first public parade of the then new People’s Liberation Army took place there, following the chairman’s address of the formal foundation of the new republic. Before this, as the national anthem March of the Volunteers was played, the new national flag of the People’s Republic of China was officially unveiled to the newly founded nation and hoisted for the first time during the celebrations as a 21-gun salute fired in the distance.
 In its early years, the People’s Republic of China was not internationally recognized as the Republic of China held its seat in the United Nations and the Security Council as the sole legitimate government of “China” by the United States and western nations. In 1971, the PRC was admitted to the United Nations and thus excluded the ROC from United Nations membership. Since the establishment of the PRC, celebrations of varying scales occur on National Day each year. Military parades, presided over by chairman Mao Zedong, were held every year between 1949 and 1959, the first decade of the PRC. In September 1960, the Chinese leadership decided that to save funds and “be frugal”, large-scale ceremonies for National Day would only be held every ten years, with a smaller-scale ceremony every five years. (The tradition of the yearly parade, though, would be partially revived with parades held in 1969 and 1970.) Since China’s opening and reform, the most prominent National Day celebrations have taken place in 1984, 1999, and 2009 at the 35th, 50th and 60th anniversaries respectively. The 70th national anniversary parade was the fifth major parade since Xi Jinping took power as the General Secretary of the Communist Party of China (China’s paramount leader) in 2012, and occurred with the mass protests in Hong Kong that have been on-going since 9 June as backdrop.
The official logo for the 70th anniversary of the founding of the People’s Republic of China was officially unveiled by the State Council Information Office on 3 June 2019. Many celebrations throughout China and overseas Chinese communities have been planned for the year of 2019. In early September, rehearsals took place in central Beijing for the military parade. General Cai Zhijun of the Joint General Staff said in a press briefing that it will not be targeted “at any countries or districts” but rather would be “committed to safeguarding world peace and regional stability”. It is expected to be bigger than the parades commemorating the 50th and 60th anniversary of the PRC, as well as the 2015 China Victory Day Parade. The capital has been covered with red flags, adorning apartment compounds and neighbourhoods; banners reading “Today’s China is the result of the work of Chinese people” have been draped across overpasses, and topiaries have been installed around the roads in Beijing. The authorities have given out 620,000 television sets allowing those not invited to still be able to watch the festivities. Although a massive National Day fireworks display had been planned along the harbour in Hong Kong to celebrate the 70th anniversary – as it has done every year since 1997, Hong Kong government cancelled them “for safety reasons” over the protests in the city that have lasted since March. A more low-key celebration has been planned in the territory.
The city of Beijing has been in virtual lockdown in the run-up to the anniversary. Objects that could overfly the capital – for example kites, balloons, drones and even pigeons – have been banned. The use of walkie-talkies and other devices using radio waves, alcohol have also joined the list of things that are disallowed. Weeks before the anniversary, motorists have been prohibited from refuelling their cars or motorcycles on their own. During rehearsals for a military parade to mark the day, residents close to Tiananmen Square have received instructions to stay away from windows and to keep their curtains drawn. Guests in hotels in the vicinity of Tiananmen Square were told that for several hours each day, they would not be able to leave or return to it for hours at a time. Shops and restaurants in the centre have closed or shortened their opening hours; some metro stations are closed temporarily.
China Central Television (CCTV) is expected to mainly broadcast synchronously for domestic and foreign TV channels with CCTV-1 as the producing channel for the celebrations, while national, provincial and city broadcasters and TV stations, domestic internet video, portals, and live webcast sites may also broadcast the event simultaneously via the CCTV-1 feed. The China Media Group, holding firm of the CCTV network and the CGTN international channels, may also broadcast live overseas through websites such as YouTube not just in Mandarin Chinese but also in many languages. In addition, China National Radio and China Radio International serve as the official radio stations of the festivities. On 4 September 2019, the CMG held a mobilization meeting to celebrate the 70th anniversary. More than 260 representatives from its member companies attended the event. As the focus of the celebration, the company’s radio and television units are bound to take publicity reporting of the celebrations seriously. 
The China TV News published on 19 September announced on the front page that the second issue (published on the 26th) will disclose the relevant live broadcast arrangements of the China Media Group to the event. Various overseas media will also pay attention to the coverage of this event, and those who have met the conditions may broadcast it around the world. The “press center for the celebration of the 70th anniversary of the founding of the People’s Republic of China” is located in Beijing’s Media Center and was officially launched on 23 September. A “special clean-up operation” targeting “harmful political information” and any Sina Weibo accounts or posts that “distort the history of the party and the country”. Furthermore, the regime has intensified the crackdown on virtual private networks that allow users to access websites blocked in the republic, to the extent that it even drew criticism from the editor-in-chief of the Global Times in a Sina Weibo post that has since been deleted.
The big highlight of the celebrations of the anniversary was the grand civil military parade held on 1 October in the grounds of Tiananmen Square to mark this special anniversary of the foundation of the PRC. With an estimated 15,000 marching in the ground column, 600 vehicles in the mobile column and around 180 in the flypast column, alongside a more than 110,000 strong civil column, it was the biggest ever civil-military parade to be held in the history of the PRC. The traditional card stunt display, introduced in 1955, was officially abolished for this year following the success of the 2015 Victory Day parade, and thus on that day audience stands were in place in the grounds of the Square in its place, reflecting the crowds that were there 70 years ago during the foundation ceremony. This was the first parade to include three color guards representing the Flag of China, the flag of the CPC, and the flag of the PLA at incorporated in the guard of honour. President Xi recognized the colors prior to inspecting the troops in another National Day first.
Courtesy : Wikipedia

مصلحت کی سرحد کے اس پار

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آج کرفیو کو دو ماہ ہو گئے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز بھی معطل ہیں۔ گاہے گاہے جو خبریں کان میں پڑتی ہیں وہ کچھ اچھی نہیں۔ عالمی ضمیر نامی وہم بھی خیر سے دور ہوا۔ پاکستان جس حد تک احتجاج کر سکتا تھا کر لیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے نہایت درد مندی سے حالات بیان کیے اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا مگر بات یہ ہے کہ جو عالمی ضمیر دنیا کے دیگر معاملات پہ کنبھ کرن کا روپ دھارے خراٹے لے رہا ہے وہ کشمیر کے لیے کیسے لنکا ڈھانے کھڑا ہو جائے گا ؟ وزیر اعظم عمران خان بار بار فرماتے ہیں کہ ہمیں لڑنے نہ دینا ورنہ ہم بم چلا دیں گے۔ عالمی ضمیر اس بیان پہ اتنا بڑا منھ پھاڑ کے جمائی لیتا ہے اور پھر سے سو جاتا ہے۔

پچھلے ہفتے ایک رپورٹ پڑھی جس میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ سے ہونے والے نقصانات کا بڑے ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لیا گیا تھا۔ رپورٹ پڑھ کر مجھے یوں لگا کہ یہ رپورٹ نہیں، آنے والے حالات کا وہ نقشہ ہے جو پہلے ہی سے تیار کر لیا گیا ہے۔ جو قدم مودی سرکار نے آج اٹھایا وہ انڈیا پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگوں تک کے دوران نہ اٹھایا گیا حالانکہ یہ جنگیں اسی مسئلے پر لڑی گئی تھیں۔ انڈیا دنیا کی ایک بڑی جمہوریت ہے وہاں اس قسم کے غیر انسانی اور غیر جمہوری فیصلے کا ہونا کسی اور ہی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں، جنگ عظیم اول اور دوئم، اپنے اپنے آنگنوں میں لڑ کے بھر پائیں۔ کچھ تجزیہ کار تو یہ تک کہتے ہیں کہ اگر جنگ عظیم دوئم میں برطانیہ کی بنیادیں نہ ہل جاتیں تو انڈیا شاید اگلے پانچ سو برس آزاد نہ ہوتا۔ خیر تجزیہ کاروں کا کیا؟ وہ تو ہر وقت کچھ نہ کچھ کہا ہی کرتے ہیں۔

مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جنگ سے بڑی منڈی کوئی نہیں۔ یہ بڑا منافع بخش کاروبار ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد اپنے مال کی کھپت کے لیے منڈیاں ڈھونڈنے کی جنگ شروع ہوئی جو کالونیل دور پہ منتج ہوئی۔ لیکن مال کی کھپت تو اب بھی ہونی ہے، خام مال تو اب بھی چاہیے۔ کہنے کو مہذب دنیا نے جنگ سے توبہ کر لی۔ وزیر جنگ کو وزیر دفاع بنا دیا لیکن کیا دنیا سے جنگوں کا خاتمہ ہوا؟ بالکل بھی نہیں۔ بس اتنا ہوا کہ اب جنگیں کسی اور کے گھر میں لڑی جاتی ہیں۔ معاشرے بھی وہیں کے برباد ہوتے ہیں اور لوگ بھی ان ہی کے مرتے ہیں۔ جنگ یورپ اور امریکہ کی گلی سے اٹھ کر ایشیا، وسط ایشیا، مشرق بعید اور افریقہ میں ڈیرے لگا بیٹھی۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد، کوریا کی جنگ، ویت نام کی جنگ، افغانستان اور روس کی جنگ، ایران عراق جنگ، کویت کی جنگ، بوسنیا کی جنگ، امریکہ افغانستان کی جنگ، امریکہ عراق کی جنگ، لیبیا پر امریکی حملہ، شام اور یمن کی جنگیں، نام لیتے ہوئے دم اکھڑتا ہے اور کتنے ہی واقعات ذہن سے اتر جاتے ہیں۔

دنیا نے پچھلے 70 برسوں میں کتنا امن دیکھا؟ کیا یہ جنگیں واقعی ان علاقوں کے لوگوں کی خواہش تھیں؟ کیا ویت نام والے امریکہ سے ٹکر لینا چاہتے تھے؟ کیا کویت میں بیٹھے لوگ یا عراق کے لوگ یہ جنگیں چاہتے تھے؟ میرا خیال ہے کہ جنگ ان میں سے کسی کا انتخاب نہیں تھی۔ جیسے کالونیل عہد میں انڈیا کا قصور اس کی خوش حالی تھی۔ اسی عہد میں کیا، ہر عہد میں مفتوح اقوام کا قصور یہ ہی ہوتا ہے کہ ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔ آج ہی خبر سنی کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکن ایل او سی عبور کر کے سری نگر جانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا بیان بھی نظر سے گزرا کہ جو ایل او سی عبور کرے گا وہ انڈین بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان ساری دنیا میں خوب شور مچا چکا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور فی الحال ہمارا مطالبہ صرف وادی سے کرفیو ہٹانے کا ہے۔

ایسے وقت میں اگر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں کو سرحد عبور کرنے دی جاتی ہے تو انڈیا نہ صرف ان سے برسر پیکار ہو گا بلکہ سرحد عبور کر کے کشمیر کے پاکستان کے زیر انتظام حصے میں بھی آنے کی کوشش کرے گا۔ ظاہر ہے یہ کھلی جنگ ہو گی۔ دوسری صورت میں اگر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کو سرحد عبور کرنے سے روکا جائے گا تو یہ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں پر زیادتی ہو گی۔ کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ سری نگر میں عورتیں روز دروازہ کھول کے دیکھتی ہیں کہ پاکستانی فوج وادی میں آ گئی؟ ان باتوں پر نرم دل لوگ رو پڑتے ہیں اگر رونے سے کچھ ہوتا تو ہم روتے رہتے لیکن معاملات بری طرح الجھ چکے ہیں۔ دونوں ملک جو ہر وقت اپنے عوام کو ایک دوسرے سے ڈرا کے رکھتے تھے کہ دیکھنا جنگ ہو جائے گی، آج ایل او سی پر آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہیں۔

لڑنا نہ وہ چاہتے ہیں نہ ہم مگر یوں نظر آتا ہے کہ کہیں دور اس جنگ کا بگل بج چکا ہے۔ مودی نے یہ قدم جن کے ایماء پر اٹھایا انھیں ڈل جھیل کے بجروں اور نیلم کے سنگریزوں سے کوئی لگاو نہیں۔ نہ ان کو سری نگر کی ان دلہنوں سے دلچسپی ہے جن کی شادیاں کرفیو میں چپ چپاتے کی جا رہی ہیں اور نہ ہی ان کو راجہ فاروق حیدر کے جذباتی بیان رلاتے ہیں۔ وہ چیل کوے جو مجھے دو ماہ پہلے ہمالیہ کی چوٹیوں پر بیٹھے نظر آ رہے تھے اب وادی گنگا اور سندھ کے میدانوں کی طرف مائل بہ پرواز نظر آتے ہیں۔ ایک کڑا وقت سامنے کھڑا ہے۔ مصلحت کی سرحد کے اس پار بھی تباہی ہے اور اس پار بھی۔ نو مینز لینڈ پر آج بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ کھڑا ہے۔ ’اوپڑ دی گڑ گڑ دی آف دی انیکس دی آف دی بے دھیاناں دی۔۔۔۔۔۔‘ مگر آج وہ ’انڈیا تے پاکستان گورنمنٹ دی درفٹے منھ‘ کہنے کی بجائے سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ ہائے وہ بد نصیب خطہ، جس میں امن کے لیے سوچنے کی ذمہ داری بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے پاگلوں کے کندھوں پر آ پڑی ہے۔

آمنہ مفتی
بشکریہ بی بی سی اردو

برکتیں اٹھ گئیں ۔ رحمتیں روٹھ گئیں

’’ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے O جو مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہےO اور خیال کرتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہو گا O ہر گز نہیں وہ ضرور حُطَمہ میں ڈالا جائے گا O اور تم کیا سمجھے کہ حطمہ کیا ہےO وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے O جو دلوں پر جا لپٹے گی O اور وہ اس میں بند کر دیے جائیں گےO یعنی (آگ کے) لمبے لمبے ستونوں میں O‘‘ (سورۃ الھمزہ)

آج اتوار ہے۔ میں تو بار بار یاد دلاتا ہوں۔ معلوم نہیں آپ کو یا آپ کے بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں، پوتیوں، نواسوں، نواسیوں کو فرصت بھی ہوتی ہے ایک دوسرے سے باتیں کرنے کی۔ آپ نے تو ایک لمبی چپ سادھ رکھی ہے۔ بتاتے ہی نہیں کہ آپس میں کیا باتیں ہوئیں۔ ایک دو گھنٹے کے لئے مل بیٹھے۔ اسمارٹ فون کو ایک طرف رکھ دیا۔ ٹی وی کو بھی آف رکھا۔ ناشتے پر ملے یا دوپہر کے کھانے پر۔ کبھی فرصت ملے تو ضرور مطلع کیجئے گا۔ میں اس وقت سخت تشویش میں مبتلا ہوں۔ رشتے بکھر رہے ہیں۔ روایات خاک بسر ہیں۔ اقدار پامال ہو رہی ہیں۔ خود غرضی زوروں پر ہے۔ ہوسِ زر نے ہم سب کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ ماں باپ جیسی مقدس ہستیوں کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سفاک بیٹے مائوں کو بھی گولیاں مار کر ہلاک کر رہے ہیں، چند روپوں کی خاطر، یا کسی کچے مکان کے لئے۔ 

غریب طبقوں میں بھی یہ بھیانک المیے دیکھنے اور سننے میں آرہے ہیں۔ امراء کی پُرشکوہ بستیوں میں بھی یہ ہو رہا ہے۔ بڑے بڑے محلات میں بوڑھے ماں باپ اکیلے اپنے ملازمین کے رحم و کرم پر ہیں۔ بیٹے ڈالر کی تلاش میں امریکہ جا بسے ہیں یا آسٹریلیا میں پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ سگے بھائیوں سے بدسلوکی کی جا رہی ہے۔ بہنوں کو اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ سب سے بڑا روپیہ ہے۔
بعض افراد بہت زیادہ دولت مند ہو گئے ہیں۔ مملکت قلاش ہو رہی ہے۔ ادارے اربوں روپے اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ بہنوں بیٹیوں کے سروں سے چادریں اتر رہی ہیں۔ ہم سسٹم نہیں بنا سکے۔ انگریز جو سسٹم دے گئے تھے وہ ہم نے بتدریج مال کے لالچ میں ختم کر دیا ہے۔ سب نان سسٹم کو فروغ دے رہے ہیں کیونکہ ذاتی فائدہ اسی میں ہے۔ وہ روایتی خاندان جو روپے اور روایت کے درمیان توازن رکھتے تھے، جنہوں نے پاکستان کے قیام کے فوراً بعد افراد کو روزگار اور مملکت کو زرمبادلہ فراہم کیا اب خودرو جھاڑیوں کی طرح اگتے نئے ارب پتی خاندانوں کے پیچھے کہیں دب کر رہ گئے ہیں۔ 

رشوت خور انکم ٹیکس، کسٹم افسروں کی کوکھ سے جنم لینے والی نئی کمپنیاں صنعتی اُفق پر غالب آگئی ہیں۔ سرمایہ دار، زمیندار، جاگیردار پیچھے رہ گئے ہیں۔ ٹھیکیداروں نے صنعت و تجارت کی ساری گدیاں سنبھال لی ہیں۔ مذہبی ادارے، بیورو کریسی، ادب۔ ثقافت، ڈرامے۔ موسیقی، کھیل سب ٹھیکے پر دیے جا رہے ہیں۔ شارٹ کٹ عروج پر ہے۔ جگاڑ سکہ رائج الوقت ہے۔ پرانے رئوسا اپنے متعلقین، ملازمین کا خیال رکھتے تھے۔ انہیں انسان سمجھتے تھے۔ ان کی ضروریات پوری کرنا اپنی ذمہ داری خیال کرتے تھے۔ اب تو برسوں نمک خواری کرنے والے کو پلک جھپکتے میں ایک ایس ایم ایس سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ اب تمہاری خدمات کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ نہیں سوچا جاتا کہ اس کی ایک فیملی ہے، بچے ہیں، ان کی ضروریات ہیں، یہ سہارا ٹوٹ جائے گا تو وہ کیسے سانس لے سکے گا۔

محنت کشوں اور غربا کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والی ٹریڈ یونینیں ختم ہو گئی ہیں۔ کارکنوں کے مقدمات مفت لڑنے والے قانونی ماہرین منوں مٹی تلے سو رہے ہیں۔ قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے۔ ناجائز طریقوں سے اشرفیوں اور ہیرے جواہرات میں کھیلنے والے قانون سے بالاتر ہیں۔ پولیس آفیسر انہیں سلام کرنے ان کے ڈیروں پر، حویلیوں پر حاضری دیتے ہیں۔ نیب، آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے والوں کے خلاف ایکشن تو لے رہا ہے مگر اس کی کارروائیاں اقدار اور روایات واپس نہیں لا سکتی ہیں اور نہ ہی یہ اس کے مقاصد میں شامل ہے۔ ہم نے آزاد ہونے کے بعد روایات، اقدار، اصولوں اور انصاف سے بھی آزادی حاصل کر لی ہے۔ ایسا ماحول تشکیل دے دیا ہے کہ قانون کے دائرے میں رہ کر کاروبار کرنے والوں کے کام میں برکت نہیں ہوتی۔ غیر قانونی طریقِ کار اختیار کرنے والوں کا کاروبار خوب پھلتا پھولتا ہے۔ غیر دستاویزی معیشت باقاعدہ قانونی معیشت سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ یہ افراتفری، طوائف الملوکی اس لئے تو نہیں ہے کہ بے گناہوں کو پھانسیاں دی گئیں۔ کمزوروں کو ہلاک کیا گیا۔ مائوں کی آنکھ کے تارے لاپتا کیے گئے۔ دہشت گردی سے مارے جانے والے بھائی بہنوں بزرگوں کے لواحقین کی خبر گیری نہیں کی گئی۔ پاکستان میں اس وقت اکثر ملکوں سے زیادہ بیوائیں، یتیم، معذور اور اپاہج موجود ہیں۔ مملکت ان کی دیکھ بھال نہیں کرتی۔ اٹھتے بیٹھتے ان کے دلوں سے بددُعائیں نکلتی ہیں۔ مجبوروں، بے کسوں کی سسکیاں، آہیں فلک پر جا رہی ہیں۔ ہمارے بازاروں سے برکت اٹھ گئی ہے۔ کھیتوں کھلیانوں سے رحمتیں روٹھ گئی ہیں۔ آفریں ہے ان افراد پر، خاندانوں پر، اداروں پر، جو اب بھی دل میں خوفِ خدا رکھتے ہیں۔ رزق حلال کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔ مملکت کے محصولات بھی ادا کرتے ہیں۔ اپنے متعلقین اور ملازمین کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔ ان کی بدولت ہی ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ