وزیراعظم عمران خان نے منصب سنبھال لیا

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ملک کے 22 ویں وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد منصب سنبھال لیا ہے۔  حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی، صدر مملکت ممنون حسین نے ان سے حلف لیا۔ بعد ازاں تینوں مسلح افواج کے چاق چوبند دستے نے وزیراعظم عمران خان کو گارڈ آف آنرپیش کیا، انہوں نے گارڈ آف آنرکا معائنہ کیا اور وزیراعظم ہاؤس کے عملے سے تعارف کرایا گیا، انہوں نے عملے سے فرداً فرداً مصافحہ بھی کیا۔ جس کے بعد عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے وزیراعظم آفس پہنچے جہاں انہوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں، اس موقع پروزیراعظم عمران خان کوحکومتی امور پربریفنگ دی گئی۔

Advertisements

وزیراعظم عمران خان کیلئے چیلنجز

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ ان کے مد مقابل امیدوار مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کو مشکل ترین حالات میں حکومت ملی ہے۔ ملکی معیشت زبوں حال ہے تو اندرونی بیرونی خطرات بھی دوچند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خارجہ امور درستی کے متقاضی ہیں تو اندرون ملک عوامی ریلیف بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔ انہی عوامل کے باعث بعض تجزیہ کار بجا طور پر کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کے لئے حکمرانی پھولوں کی سیج ثابت نہ ہو گی تاہم بعض دانشوروں کو قوی امید ہے کہ چیلنجز قبول کرنے والے عمران خان اپنی محنت، لگن اور دیانت داری سے مسائل کا حل نکالنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔

کوئی شک نہیں کہ اگر قیادت واقعی کچھ کرنا چاہے تو کوئی بھی چیلنج اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ حکومت کو سردست جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ معاشی ہے کہ حکومت کو آتے ہی بیرونی قرضے ادا کرنے کیلئے 12 ارب ڈالر کی ضرورت پڑے گی۔ کرنٹ تجارتی خسارہ جو کبھی دو ارب ڈالر سالانہ تھا پچھلے دو تین ماہ میں دو ارب ڈالر ماہانہ ہو چکا ہے۔ ملکی معیشت تقریباً 95 ارب ڈالر کے قرضوں تلے دبی سسک رہی ہے، درآمدات و برآمدات میں تفاوت نصف سے بھی زیادہ ہے۔ خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد اور بیروزگاری میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

ان حالات میں اگرچہ چین اور سعودی عرب پاکستان کی مدد کیلئے آگے آئے ہیں تاہم یہ ناکافی ہے۔ اس حوالے سے حکومت کو دوست ممالک پر زیادہ توجہ دینا ہو گی، ٹیکس سسٹم کو ٹھیک کرنا ہو گا تاکہ آئی ایم ایف پر کم ہی انحصار کرنا پڑے۔ معاشی مسائل کے حل کے بعد ملک کے اندر فکر و عمل کی تقسیم کا خاتمہ ضروری ہے خواہ یہ علاقائی، سیاسی، نظریاتی یا کسی اور بنیادوں پر ہو۔ یہ وقت انتشار کا نہیں متحد ہو کر ایک یادگار قوم ہونے کا ثبوت دینے کا ہے۔ ایک مضبوط اپوزیشن جمہوری نظام کا جزو لانیفک ہے اس کی بات کو بھی اہمیت دی جانی چاہئے تاکہ اسے بھی یہ احساس ہو کہ وہ ملکی فیصلوں میں برابر کی شریک ہے۔اپوزیشن بھی ملکی اورعالمی حالات کے پیش نظر تعمیر کی راہ پر چلے کہ اس کے برعکس رویہ اپنانے والا وطن دوست قرار نہیں پائے گا۔

عمران خان نے حکومت کے پہلے 100 دن کا جو پروگرام دیا ہے اس پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ نہ صرف حکومت بلکہ پوری اسمبلی ملک کی ترقی کیلئے یکسو ہو کر تاریخ میں امر ہو جائے۔ عوام کی تمنا ہے کہ قومی اسمبلی ہی نہیں چاروں صوبائی اسمبلیاں ملک کو مشکلات کے گرداب سے نکالنے کیلئے ایک دوسرے کی دست و بازو بنیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی موثر تبدیلیاں ناگزیر ہیں کہ بھارت اور امریکہ نے مل کر ہمیں دنیا میں تنہا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، اس محاذ پر عمران خان کو ذہین لوگوں کو تعینات کرنا ہو گا تاکہ بھارتی پروپیگنڈے کا توڑ ممکن ہو اور بیرونی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کریں۔ عمران خان اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ کامیابی ہمیشہ ٹیم ورک کے نتیجے میں ملتی ہے، لہٰذا انہیں انتہائی دانش مندی سے صرف اور صرف میرٹ پر اپنی ٹیم سلیکٹ کرنی ہو گی تاکہ مسائل کو حل کیا جا سکے، کمزور ٹیم کے ساتھ کامیابی کا حصول ممکن نہ ہو گا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کو نئے وزیراعظم سے بہت سی توقعات ہیں، وہ کہتے ہیں کہ عمران خان جو کہتا ہے کر کے دکھاتا ہے، چنانچہ عمران خان کو وہ سب کچھ کر کے دکھانا پڑے گا جس کا وہ اعلان انہوں نے انتخابی کامیابی کے بعد اپنی تقریر میں کیا تھا، جس میں صلح کل کی بات بھی تھی اور عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کا عزم صمیم بھی۔ عمران خان سادگی کو شعار بنائیں، صلح جوئی کی راہ اختیار کریں اور آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں کہ اسی راہ پرچل کر تمام اندرونی و بیرونی مسائل ہو سکتے ہیں۔

اداریہ روزنامہ جنگ

ٹرمپ کا نیا عالمی ہتھیار ۔ پابندیاں

امریکی صدر ٹرمپ نے ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کے نعرے کو ترجیح دیتے ہوئے مختلف ممالک پر بھاری ٹیرف (تجارتی ٹیکس) اور پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ چین سے امریکہ کو ایکسپورٹ کی جانیوالی متعدد مصنوعات مثلاً اسٹیل وغیرہ پر اربوں ڈالرز کے ٹیرف عائد کر کے ایک کشیدہ صورتحال پیدا کی جا چکی ہے۔ چند سال قبل عالمی سپر پاور امریکہ گلوبلائزیشن اور فری ٹریڈ کا زبردست حامی تھا اب اس کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ عالمی فوجی معاہدہ نیٹو کا سب سے بڑا محافظ اور پروموٹر اب اس معاہدہ کے یورپی رکن ممالک سے نیٹو کے اخراجات میں شیئرنگ کا مطالبہ کر کے خاموش مگر ناموافق صورتحال پیدا کر چکا ہے۔

امریکہ، کینیڈا اور میکسکو کے ہمسایہ ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت کے علاقائی معاہدہ پر دستخط کرنے اور عمل کرنے والے امریکی پالیسی ساز اس کو نمونہ بنا کر جنوبی ایشیا میں پاکستان کو بھی یہ تلقین کیا کرتے رہے کہ وہ بھارت اور افغانستان کے درمیان راہداری اور تجارتی سہولتوں کا ایسا ہی معاہدہ کر کے امن کیلئے اپنا رول ادا کرے بلکہ جنوبی ایشیا میں ’’نافٹا‘‘ معاہدہ کی نقل ہوتے دیکھنے کا اتنا شوق تھا کہ بھارت کے ساتھ تنازع کشمیر اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم سمیت تمام پاک۔بھارت تنازعات کو بھارت کے حق میں فراموش کردینے کا درس بھی دیا جاتا رہا۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ خود صدر ٹرمپ نے نہ صرف امریکہ، کینیڈا، میکسکو کے درمیان آزادانہ تجارت کا سہ فریقی معاہدہ ’’نافٹا‘‘ (N.A.F.TA) اب ناموافق قرار دے رکھا ہے بلکہ پڑوسی کینیڈا سے امریکہ کیلئے ایکسپورٹ پر بھاری ٹیکس عائد کر دیئے ہیں اور میکسکو، امریکہ سرحد پر دیوار کی تعمیر بھی شروع کر رکھی ہے۔

دنیا میں مہلک ایٹمی ہتھیاروں، میزائلوں اور کیمیکل ہتھیاروں پر عالمی طاقتوں کی اجارہ داری کی گرفت کمزور ہو رہی ہے۔ لہٰذا مہلک ایٹمی اور دیگر ہتھیاروں سے لیس اکیسویں صدی کی دنیا میں برتر قوتوں نے دوسروں کو تباہ کرنے کے نئے ’’ہتھیار‘‘ ایجاد کر لئے ہیں۔ ٹارگٹ شدہ ملکوں کو ان کے اپنے ہی جغرافیہ، تاریخ، معیشت، سیاست اور معاشرت میں موجود اختلافات اور متضاد عوامل کو متحرک کر کے عدم استحکام اور داخلی تصادم سے تباہی پھیلانا ایٹمی ہتھیار سے بھی زیادہ مہلک ہے۔ موجودہ دور میں کسی اعلان جنگ کے بغیر ہی دنیا کے کئی ممالک میں ان نئے ہتھیاروں سے ان کی آزادی ختم کرنے اور تاریخی تباہی و تبدیلی کی دھیمی رفتار کی مہلک جنگ بیک وقت جاری ہے۔

طیب اردوان کے ترکی کو بھی صدر ٹرمپ نے نہ صرف اپنی اس ’’ٹریڈ وار‘‘ کا نشانہ بنا لیا ہے بلکہ اس مضبوط نیٹو اتحادی اور مسلم ملک کی معیشت کو اجاڑنے کیلئے جو آپریشن شروع کیا ہے اسے ترکی کے صدر طیب اردوان نے غیر ملکی ’’آپریشن‘‘ کا نام دیا ہے۔ ترک کرنسی کی غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں شرح تبادلہ میں جو تاریخی گراوٹ آئی ہے وہ ترک معیشت کیلئے ایک تاریخی جھٹکا ہے جس کیلئے ترکی نے 12 اگست کو چند اقدامات تو کئے ہیں لیکن ترکی کو طیب اردگان کو پھر سے منتخب کرنے، فوجی بغاوت ناکام بنانے اور روس سے تعلقات میں بہتری کی سزا دینے کا اہتمام ان نئے ’’ہتھیاروں‘‘ کے ذریعے دینے کی کوشش ہے جو عالمی نظام میں برتر قوتوں نے پہلے ہی تیار کر رکھے ہیں۔ ترک وزیر خزانہ نے اپنے بینکنگ کے نظام کو سہارا دینے اور کاروباری اداروں کو اس غیر ملکی ’’آپریشن‘‘ کے نقصانات سے حتی المقدور بچانے کا ایک ہنگامی پلان تیار کیا ہے ہم نے حالیہ دنوں میں پاکستان کی کرنسی بمقابلہ ڈالر کی شرح تبادلہ کا بحران بھی دیکھا ہے جس کے اثرات جلد ہی حقائق کی شکل میں ہمارے سامنے آنے والے ہیں۔

گو کہ ترک صدر کے بعض ناقدین اور مخالفین ترکی کے اس معاشی بحران کو غیر ملکی ’’آپریشن‘‘ کی بجائے طیب اردگان کی اپنی پالیسیاں قرار دے رہے ہیں لیکن ترکی میں کرنسی کا بحران شدید ہونے کی وجہ امریکی صدر ٹرمپ کا وہ ٹوئٹ تھا جو انہوں نے 10 اگست کو جاری کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ترکی سے امریکہ ایکسپورٹ کئے جانے والے اسٹیل اور المونیم پر ڈبل ڈیوٹی ٹیرف عائد کر رہے ہیں۔ ترک صدر اس کو ترکی کے خلاف امریکہ کا نام لئے بغیر ’’گلوبل فنانشل سسٹم کے سب سے بڑے کھلاڑی‘‘ کا ’’اٹیک‘‘ قرار دے کر وارننگ دے رہے ہیں کہ اس کے اثرات دیگر ابھرتی معیشتوں پر بھی ہوں گے۔ ترکی 880 ارب ڈالرز کی معیشت کا حامل ہے جسے بچانے کیلئے ترک صدر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے تکیوں اور گھروں میں رکھے ہوئے ڈالرز اور غیر ملکی کرنسیاں، سونا، زیورات باہر نکال کر ترک کرنسی میں تبدیل کر کے قومی آزادی کی حفاظت کریں۔ترکی کا معاشی بحران حل کریں۔

پاکستان میں انتخابی موسم کے دوران پاکستانی کرنسی کی شرح تبادلہ میں بھی ایک ایسا بحران ڈالر کو بڑھا کر 125 روپے تک کر گیا ہے۔ اس کے اثرات و خطرات سبھی جانتے ہیں۔ چونکہ ہمارے ممکنہ وزیر خزانہ اسد عمر ملکی معیشت سے ڈیل کرنے کیلئے آج کل انٹرنیشنل امور اور اکنامی کے بارے خود کو اپ ڈیٹ کرنے میں مصروف ہیں۔ لہٰذا ترکی اور پاکستان کے کرنسی بحرانوں کا تقابلی مطالعہ اور مشترکہ مسائل پر توجہ دینا بھی بہتر رہے گا۔ گلوبل فنانشل سسٹم کے سب سے بڑے کھلاڑی امریکہ کے صدر ٹرمپ اپنی برتر معاشی قوت کو دنیا میں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے اور نیشنل سیکورٹی مفادات کیلئے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور امریکہ کے تجارتی قانون کا سیکشن 232 صدر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کانگریس سے کسی منظوری کے بغیر ٹیرف میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔

مختصر یہ کہ صدر ٹرمپ اقتصادی پابندیوں کو فارن پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ترکی اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا آغاز ترکی میں ناکام فوجی بغاوت سے ہوا۔ ترکی میں ایک امریکی پادری اینڈریو برنسن کو جاسوسی، دہشت گردی اور دیگر الزامات میں گرفتار کر کے دوسال سے مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ بقول صدر اردوان امریکہ اس پادری کی رہائی چاہتا ہےاور گزشتہ بدھ ڈیڈ لائن مقرر کی تھی کہ ترکی اسے رہا کردے مگر یہ ڈیڈ لائن گزر گئی اور دو روز بعد صدر ٹرمپ نے ترکی پر یہ پابندیاں عائد کر کے کرنسی کا بحران پیدا کر دیا۔

ترکی نے بھی بدلتی ہوئی صورتحال میں روس سے قریبی تعلقات بنائے ہیں بلکہ بعض حلقوں کے مطابق طیب اردوان کو روس نے ہی مطلع کیا تھا کہ ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی فوجی سازش ہو رہی ہے۔ صدر اردوان نے اسے ناکام بنانے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد روس سے تعلقات مزید بہتر بنا لئے ہیں۔ پاکستان نے بھی امریکہ سے تعلقات ناموافق ہونے کے بعد روس سے تعلقات کو فروغ دیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان سیکورٹی تعلقات میں بھی قربت ہوئی ہے جو امریکہ کو یکساں ناپسند ہے۔ ترکی اور پاکستان دونوں کے معاشی بحران کا ایک حل آئی ایم ایف سے قرضوں کا حصول ہے۔ لیکن دونوں سے امریکہ ناراض ہے اوروہ آئی ایم ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا موثر اور طاقتور ممبر ہے جو 17 فیصد شیئر بھی کنٹرول کرتا ہے لہٰذا آئی ایم ایف سے سخت شرائط کے ساتھ اور امریکی منظوری سے ہی پیکیج ملنے کا امکان ہے۔ لہٰذا دونوں کو متبادل ذرائع سے قرضے حاصل کرنا ہیں۔

ترکی میں گرفتار پادری اینڈریو برنسن کی طرح ہمارے ہاں بھی پاکستانی شہری ڈاکٹر شکیل آفریدی کی امریکہ رہائی اور حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کسی مرحلے پر امریکی صدر ٹرمپ اپنے ایسے ہی اختیارات کا استعمال کر کے ہمارے لئے بھی کوئی ناخوشگوار بحرانی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں کیا نئے قائدین ایسے حالات سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں؟ امریکہ افغانستان میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے باوجود پاکستان سے اپنی کشیدگی کو اس لئے بڑھا رہا ہے کہ اب بھارت اور امریکہ کی ترجیحات مشترک ہیں اور امریکہ کو بھارتی سہارا حاصل ہے۔ فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ حال ہی میں اپنا بیان دہرا چکے ہیں کہ پاکستان کو غیر ملکی خطرات لاحق ہیں۔ کچھ دنوں قبل پاکستان، چین، روس اور ایران کے حساس اداروں کے سربراہوں کی خاموش ملاقات کی خبریں بھی عالمی امور کے حلقوں میں زیر تبصرہ ہیں۔

امریکہ نے پاکستان کے فوجی افسروں کی امریکہ میں (I.M.E.T) پروگرام کے تحت ٹریننگ کو روک دیا ہے۔ یہ اقدام بھارتی لابی کی خواہش اور کوشش سے ہوا ہے لیکن یہ پاکستان پر دبائو ڈالنے کا ایک اقدام بھی ہے۔ ماضی میں بھی جب پاکستان پر ایٹمی حوالے سے امریکی پابندیاں عائد کی گئیں تو اس میں بھی کئی سال تک امریکہ کے (I.M.E.T) پروگرام کے تحت پاکستانی فوجی افسروں کی امریکہ میں ٹریننگ بند رہی لیکن یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ اس پابندی سے امریکہ کے مفادات کو بھی نقصان پہنچا تھا اور اس کا اعتراف خود امریکی اداروں کی ماہرانہ رپورٹس میں سرکاری طور پر کیا گیا۔ اب ویسے بھی بدلتے ہوئے حالات میں روس اور چین سے رابطے اور ساز و سامان سے واقفیت کے مواقع زیادہ ہیں۔ ادھر ترکی بھی اسی روش پر چل کر روس سے تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ بعض غیر ترک حلقوں کا کہنا ہے کہ 29اکتوبر کو ترکی کے 95 قومی دن کی تقریبات سے قبل ہی طیب اردگان کی تبدیلی آجائیگی۔ ہمارے پاکستان کے 71ویں یوم آزادی سے قبل ہمارے ہاں بھی حکمرانوں کی تبدیلی آ چکی ہے۔ دیکھئے نئے حکمران عالمی تناظر میں پاکستان کی آزادی کو مستحکم کرنے کیلئے اپنے فکر و عمل میں کیا تبدیلی دکھاتے ہیں؟

عظیم ایم میاں

یووون رڈلے کون ہیں ؟

ووون رڈلے برطانیہ کے شہر اسٹینلے کی کاؤنٹی ڈرہم میں پیدا ہوئیں، وہ ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں، جنہیں افغانستان کے سفر کے دوران طالبان نے قید کر لیا تھا اور رہائی کے بعد انہوں نے مسیحی مذہب ترک کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا تھا اور اس کی وجہ طالبان کا حسن اخلاق اور سلوک بتایا تھا۔ یووون رڈلے مختلف اخبارات اور نشریاتی اداروں کے ساتھ منسلک رہیں، جن میں سنڈے ایکسپریس، سنڈے ٹائم، آبزرور، روزنامہ مرر اور انڈیپینڈنٹ آف سنڈے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے سی این این، بی بی سی، آئی ٹی این، پریس ٹی وی اور کارلٹن ٹی وی کے لیے بھی خدمات انجام دیں اور اس حوالے سے عراق، افغانستان، فلسطین، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کا دورہ بھی کیا۔ یاد رہے کہ یووون رڈلے عورتوں کے حقوق کی علمبردار ہیں جبکہ انہیں ‘جنگ وجدل’ مخالف گروپ کا بانی بھی تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان سے لاپتا اور افغانستان میں قید کی جانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ بھی یووون رڈلے نے ہی دنیا کے سامنے اٹھایا تھا۔

ترکی کا امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

صدر طیب اردگان نے ترکی پر عائد اقتصادی پابندیوں کے جواب میں امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی نے امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں کے خلاف کمر کس لی ہے۔ اس حوالے سے ترکی کے صدر طیب اردگان نے امریکا کے تیار کردہ برقی مصنوعات سمیت ان تمام چیزوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جس پر ’ میڈ ان امریکا‘ تحریر ہو۔

ترک صد ر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ سے ہمیں کوئی نقصان نہیں ہو گا کیوں کہ دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے اگر امریکی موبائل آئی فون ہے تو مارکیٹ میں سام سنگ بھی موجود ہے اس لیے امریکی پروڈکٹ کو چھوڑ کر ہمیں دوسرے ممالک کی تیار کردہ متبادل مصنوعات کو اپنانا ہو گا۔ طیب اردگان کا مزید کہنا تھا کہ ملکی کرنسی کی قدر کی بحالی اور معیشت کے فروغ کے لیے 4 ممالک سے مقامی کرنسیوں میں تجارت کے ساتھ دیگر انقلابی اقدامات کر رہے ہیں۔ مغرور امریکا کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے اب عوام کو بھی آگے آکر امریکی مصنوعات کو خیر باد کہنا ہو گا۔

ٹرمپ کا ڈالر اور ایردوان کا اللہ

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ میں ترکی پر فولاد اور ایلومینیم پر ٹیرف کو دگنا کر نے کا ا علان کیا جس کے فوراً بعد ہی ترک لیرے کی قدر میں بیس فیصد کمی دیکھی گئی۔ صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں ترکی کو خبردار کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ترک لیرا ہمارے مضبوط ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہے اور امریکہ کے ترکی کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔‘‘ امریکہ نے کئی ایک وجوہات کی بنا پر ترکی کے ساتھ خراب ہونے والے تعلقات کی آڑ میں اور ترکی کو سبق سکھانے کی غرض سے فولاد اور المو نیم پر ٹیرف کو دگنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر کے اس بیان کے فوراً بعد ترک صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ’’ان کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے پاس اللہ اور ہمارے عوام ہیں۔‘‘

ایردوان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ’’امریکہ کے ساتھ شروع ہونے والی اقتصادی جنگ کے نتیجے میں فتح مبین ان کے ملک کو جبکہ امریکہ کو شکست ہو گی۔ وہ کسی بھی صورت امریکی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے۔ 15 جولائی 2016ء میں ترکی کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کی منصوبہ بندی کرنے والے اب ترک معیشت کو ہدف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں صدر ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اپنے یک طرفہ اور غیرمہذب رجحانات کو ترک نہیں کیا تو ترکی اپنے لیے نئے دوستوں اور اتحادیوں کی جانب راغب ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔

انہوں نے لکھا کہ امریکہ کو شرم آنا چاہیے کہ وہ ایک پادری کی خاطر نیٹو اتحادی ملک سے تعلقات خراب کر رہا ہے۔ امریکہ اور ترکی میں پادری انڈریو برنسن کے علاوہ بھی کئی ایک موضوعات پر اختلافات ہیں جن میں شام میں ترکی کی دہشت گرد تنظیم ’’پی کےکۓ‘‘ کی ایکسٹینشن ’’پی وائی ڈی/ وائی پی جی‘‘ کی امریکہ کی جانب سے پشت پناہی، داعش، ترکی کے روس سے میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری، 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کے ماسٹر مائنڈ فتح گولن کی امریکہ میں پناہ اور ترکی کے حوالے نہ کیے جانے جیسے موضوعات سر فہرست ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کی وجہ سے ترک لیرا کی قدر میں اس سال کے آغاز سے اب تک قریب 40 فیصد کمی ہو چکی ہے اور گزشتہ جمعے کے روز ٹرمپ کے ترکی مخالف اعلان کے بعد ترک کرنسی کی قدر و قیمت میں صرف ایک دن میں 20 فیصد کے لگ بھگ کمی دیکھی گئی ہے ۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اس کمی سے ترک معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور اُس کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی سے کاروباری حضرات کو شدید نقصان کا قوی امکان ہے جبکہ امریکہ کے ان اقدامات کی وجہ سے ترکی کی معیشت کو آئندہ چند ہفتوں تک مزید جھٹکے لگنے اور ترک لیرا کی قدر و قیمت میں مزید کمی ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں، ترک کرنسی کی قدر میں کمی سے یورپی مالی منڈیوں میں بھی بے چینی دیر تک رہنے کا امکان موجود ہے۔ علاقائی بینکنگ سیکٹر پر بھی ترک امریکی تنازعے کے منفی اثرات مرتب ہونے کا خطرہ ہے۔

امریکہ کے شدید دبائو کے باوجود پادری انڈریو برنسن کو رہا نہ کئے جانے پر صدر ٹرمپ نے ترکی پر کئی ایک پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ترک نائب وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ امریکہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے دور ہونے کی توقع کی جا رہی تھی لیکن پادری کے مسئلے نے نیٹو کے ان دونوں اتحادیوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا۔ ترک کرنسی کو پہنچنے والے اس نقصان پر صدر ایردوان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امریکی ڈالر ہمارا راستہ نہیں روک سکتا۔ 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت میں منہ کی کھانے والوں کو ترکی کے تمام شعبوں میں ترقی ہضم نہیں ہو پا رہی وہ اب ڈالر کے ذریعے ترکی کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں ۔‘‘

انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کا براہ راست نام لیے بغیر یہ بھی کہا کہ ’’ترکی کے اقتصادی دشمنوں نے انقرہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بد نیت حلقے ڈالر کی قیمت چڑھا کر ترکی کے خلاف آپریشن کرنا اور ملک کے دفاعی میکانزم کو کمزور کر کے ملت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ترکی کے ساتھ کھیلے جانے والے اس کھیل سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ترکی کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع نہیں دیں گے بلکہ ملکی پیداوار اور خاص طور پر جدید دفاعی ہتھیاروں کی مقامی سطح پر پیداوار میں اضافے، برآمدات میں اضافے، روزگار کو فروغ دینے اور ریکارڈ سطح پر ترقی کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اگر آپ ڈالر کو ترک کرنسی کی قدر و قیمت کو کم کرنے کے مقصد کے لیے استعمال کریں گے تو ہم کئی ایک ممالک کے ساتھ ڈالر کے بجائے اپنی اپنی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دیتے ہوئے دنیا کے لیے تجارت کے نئے راستے بھی کھول سکتے ہیں۔‘‘

صدر ایردوان نے بحیرہ اسود کے ساحلی شہر ترابزون میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی پادری کو اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر امریکہ کے حوالے کرنے بصورتِ دیگر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی جو ڈیڈ لائن دی تھی انہوں نے اس کی پروا کیے بغیر امریکی صدر پر واضح کر دیا تھا کہ ترکی قانون کی پیروی کرنے والا ملک ہے اور وہ قانون سے بالا ہو کر کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں اٹھائینگے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے ایسے اسٹرٹیجک پارٹنر کو خدا حافظ ہی کہہ سکتے ہیں، جو 81 ملین آبادی کے حامل ملک کے ساتھ دوستی اور نصف صدی سے زائد عرصے کے اتحاد کو دہشت گرد گروہوں سے تعلقات پر قربان کر سکتا ہے۔‘‘

انہوں نے امریکی صدر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ ہمیں اپنے احکامات سے سر جھکانے پر مجبور نہیں کر سکتے ہیں، ترکی ’’بنانا ریپبلک‘‘ نہیں ہے بلکہ دنیا کا سولہواں بڑا اقتصادی ملک ہے جو آئندہ چند سالوں میں دنیا کے پہلے دس طاقتور ممالک کی صف میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے اپنے عوام سے بھی اس صورتِ حال جسے انہوں نے اسے ’’معاشی جنگ‘‘ کا نام دیا ہے کے موقع پر غیر ملکی کرنسی اور سونے کو ترک لیرا میں تبدیل کرتے ہوئے اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ترکی میں ڈالر کی قدرو قیمت میں ہونے والے اضافے کے بعد مختلف افواہوں نے بھی گردش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس میں ترکی میں مختلف بینکوں میں موجود غیر ملکی کرنسی کو ترک لیرا میں کنورٹ کرنے کی افواہ سر فہرست ہے جس پر ترکی کے وزیر خزانہ برات البائراک نے عوام سے ان افواہوں پر کان نہ دھرنے اور بینکوں میں موجود غیر ملکی کرنسی کے کسی بھی حالت کنورٹ نہ کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے اسٹاک مارکیٹ میں قومی کرنسی کی قیمت کو برقرار رکھنے کے لئے ہرممکن اقدام اٹھائے جانے سے آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے بنکوں اور معاشی شعبے کے لئے ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے، چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کوبھی اس منصوبے کا پابند بنایا جائے گا تاکہ کرنسی کے لین دین میں ہونے والے نقصان سے بچا جا سکے۔

ڈاکٹر فر قان حمید

امریکی ڈالر کی حاکمیت کے دن گنے جا چکے ہیں، روسی وزیرخارجہ

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکی ڈالر تنزلی کا شکار ہے جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی اجارہ داری اب ختم ہونے والی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے ترک ہم منصب سے انقرہ میں ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے امریکا کی متعصبانہ پالیسیوں اور ترکی پر اقتصادی پابندیوں سے پیدا ہونے والی صوررت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کے غلط فیصلوں کے باعث ڈالر تنزلی کی جانب گامزن ہے اور یہی صورت حال برقرار رہی تو بہت جلد ڈالر کا عالمی مارکیٹ سے خاتمہ ہو جائے گا۔ روس اب ترکی اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے قومی کرنسی میں لین دین کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ اس موقع پر ترک وزیر خارجہ نے روسی ہم مننصب کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب ترکی نے بھی امریکی ڈالر کو ترک کر کے مقامی کرنسی میں تجارت کا آغاز کر دیا ہے۔

نئے پاکستان کا پرانا یوم آزادی

سب سے پہلے والے چودہ اگست سے ہر نئی امید باندھی گئی تھی۔ مثلاً یہ ملک چونکہ ایک ستائی ہوئی اقلیت نے بنایا ہے اس لیے اس ملک میں کسی کو کسی کے ہاتھوں ستایا جانا برداشت نہیں ہو گا۔ یہ ملک ایک وکیل نے قانونی لڑائی جیت کر حاصل کیا لہذا یہاں قانون شکنی یا قانون کو باندی کی طرح استعمال کرنے کی ریت کی پرورش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ملک برِصغیر کے کسی ایک خطے کی کسی مخصوص آبادی یا گروہ یا ادارے نے نہیں بلکہ ہر خطے کے لوگوں کی کوششوں سے وجود میں آیا ہے۔ پہلے چودہ اگست پر نئے ملک کے نت نئے شہریوں کو یقین تھا کہ یہ مملکت کسی سیٹھ کی ذاتی لمیٹڈ کمپنی نہیں بلکہ اس ملک کی اجتماعی روح پاکستان ٹرسٹ کے طوطے میں بند ہے۔ اس ٹرسٹ میں ہر ایک کے شیئرز ہیں۔ ان شیئرز کا بھاؤ گرا تو نقصان برابر کا اور بھاؤ چڑھا تو منافع برابر کا۔ کسی ایک گروہ یا ادارے یا شخص کو اجازت نہ ہو گی کہ وہ پاکستان ٹرسٹ کے اکیاون فیصد حصص خرید لے اور پھر من مانی سے مرضی کا بورڈ آف ٹرسٹیز مسلط کر دے یا کسی غیر ملکی کو دیگر ٹرسٹیوں کی مرضی پوچھے بنا شیئرز فروخت کرے یا علاقائی و بین الاقوامی بازار میں منافع کے سبز باغ میں آ کر یا دکھا کر پورا ٹرسٹ سٹے پر لگا دے۔

مگر اگلے چھبیس برس وہ سب ہوا جو ہرگز ہرگز برداشت نہیں ہونا تھا۔ چودہ اگست انیس سو تہتر کو پھر ایک نیا پاکستان ٹرسٹ نئے ضوابط مرتب کر کے باقی ماندہ حصص یافتگان کو اعتماد میں لے کر تشکیل دیا گیا۔ کم و بیش وہی امیدیں ، ویسی ہی قسمیں جیسی سب سے پہلے والے چودہ اگست کو کھائی گئی تھیں۔ نئے ٹرسٹ کے شیئرز کی من مانی تجارت روکنے کے لیے چارٹر میں کچھ نئی پابندیوں کا اضافہ کیا گیا۔ پھر بھی وہی سب ہوا جو ہرگز ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا۔ آج پھر ویسا ہی چودہ اگست بتایا جا رہا ہے جیسا بہتر یا پینتالیس برس پہلے کے چودہ اگست کو بتایا جا رہا تھا۔ ہم یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے، ہم یہ ضررو کریں گے مگر وہ ہرگز ہرگز نہیں کریں گے۔ اس بار بھی بورڈ آف ٹرسٹیز کے نئے چیئرمین کے بارے میں ویسا ہی کچھ کہا جا رہا ہے جو پچھلوں کے بارے میں ان کے منہ پر کہا جاتا رہا۔

یعنی مخلص ہے، جواں حوصلہ ہے، نئے آئیڈیاز اور منطقی خوابوں سے مالامال ہے، قوم پرست ہے، ایمانداری کوٹ کوٹ کے بھری ہے، کسی کی ناجائز نہیں سنتا، فیصلے ذات کے لیے نہیں اجتماعی فائدے کے لیے کرے گا، خوشامد و نا اہلی کا دشمن اور میرٹ نواز ہے، اوپر سے نیچے تک اپنے پرائے کے بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتا ہے، مالی اعتبار سے بے داغ ہے، وعدے کا پکا، ایک بار کمٹمنٹ کر لے تو پھر اپنی بھی نہیں سنتا، انسان کا درد کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے، جب ٹرسٹ کا چیئرمین نہیں تھا تب بھی فلاحی منصوبوں کی تکمیل سے منہ نہیں موڑا۔ بس اب تک جو ہوا سو ہوا۔ ماضی کو پیٹنے سے کیا فائدہ، اب سے رونا گانا بند، ٹرسٹ کے چیئرمین اور نئے بورڈ آف ٹرسٹیز کا بھرپور ساتھ دیجیے۔آپ چند ماہ میں دیکھئے گا کہ آپ کے شیئرز کی قیمتیں کہاں سے کہاں پہنچتی ہیں۔ جب یہ منزل آئے تو بہتر برس پہلے والے چودہ اگست کو ضرور یاد کیجیے گا جہاں سے آپ نے اوپر کی جانب سفر شروع کرنے کا ارادہ باندھا تھا۔

آج اس قدر شورِِ خوش امیدی برپا ہے کہ سوچتا ہوں خوش امیدی کے ماتھے پر کالا ٹیکہ لگا دوں، بازو پر امام ضامن باندھ دوں اور لال مرچیں جلا کر اس کے کاندھوں پر سے وار دوں۔ ویسے بھی ہمارے پاس اب خوش امیدی کے سوا بچا کیا ہے؟ آج سوائے اس کے کون سی دعا یاد رکھی جائے کہ اے پروردگار جنہوں نے آج تک اس ٹرسٹ کے کسی منتخب چیئر پرسن کو مدت پوری نہیں کرنے دی اور اسے مسلسل کمپنیز ایکٹ کے پیچیدہ شق وار جنگل اور اسمال پرنٹ میں الجھائے رکھا۔ اس بار انھیں باز رہنے اور اپنے اصل کام سے کام رکھنے کی توفیق عطا فرما۔ وہ ہر قدم پر بورڈ آف ٹرسٹیز کو یہ نہ کہتے پھریں کہ بچ کے، سنبھل کے، یہاں قدم مت رکھو، دائیں مت مڑو، اس بل میں ہاتھ نہ ڈالو کہیں سانپ نہ نکل آئے، ارے رکو بنا بتائے کدھر کو چل پڑے، ذرا ہم سے مشورہ تو کر لو، اتنے تیز کیوں چل رہے ہو، بارش ہونے والی ہے، یہ لو چھتری،ارے دھیان سے آگے کیچڑ ہے، ہاتھ پاؤں گندے ہو جائیں گے، یہ لو صابن اور فوراً نہا لو، اچھا صابن ہے ننائوے فیصد جراثیم مار دیتا ہے تم نے اشتہار تو دیکھا ہو گا، تھک گئے ہو تو ذرا دم لے لو، یہ مشروب پی لو، تھوڑی نیند آجائے گی اور تھکاوٹ بھی اتر جائے گی، بن داس سو جاؤ، میں ہوں نا نگرانی کے لیے۔ خدا کے لیے اب ٹرسٹیوں کو بچہ سمجھنا بند کرو،کھلی فضا میں سانس لینے دو، ہٹا لو اپنی چھتری، بارش میں نہانے دو، بخار ہونے دو، خود ٹھیک ہو جائیں گے جب جسم کا مدافعتی نظام ڈویلپ ہونے کی اجازت دو گے اور ہر چھینک پر اینٹی بائیوٹک نہیں ٹھنسواؤ گے۔ کیچڑ میں نہانے دو، تم نے مڈ باتھ سنا تو ہو گا، مٹی میں نہانے سے چہرہ تازہ ہو جاتا ہے۔ ہمیں کھل کے قہقہہ لگائے مدتیں بیت گئیں، تم آگے پیچھے منڈلاتے رہو گے، ہماری آیا، انا، اتالیق بنے رہو گے تو ہم کیسے کھل کے ہنسیں گے۔

بہت تمیز سکھا لی اتنے برس۔ اب ہمیں کچھ بدتمیزی کرنے دو، ہم روبوٹ کی طرح دکھائی ضرور دے رہے ہیں پر ہیں نہیں۔ یار تمہیں بھی تو ڈیوٹی دیتے دیتے بہت برس بیت گئے۔ اب کچھ وقت اپنے ساتھ بھی تو گذارو، کب تک ہماری اتالیقی جاری رکھو گے، اس چکر میں تم اپنا وجود، اپنا کار اور اپنا مقام بھی بھول جاؤ گے۔ تم ہم پر یقین رکھو گے تو یقین جانو ہم تمہاری دل سے عزت کریں گے بالکل ویسے جیسے بہت پہلے کرتے تھے۔ یہ تب کا قصہ ہے جب کسی نے عزت کرنے کا فرمان جاری نہیں کیا تھا، تب کسی نے ہمیں نہیں بتایا تھا کہ احترام کس چڑیا کا نام ہے۔ بس خود سے ہی دل چاہتا تھا اور تمہارے لیے عزت و احترام امڈ آتا تھا۔ پر اگر تم یہی چاہتے ہو کہ عزت و احترام کرانے کے لیے بے ساختگی اور فطری ماحول کے بجائے آرڈر، نوٹیفکیشن، چہرے کی سختی اور لہجے کی کرختگی ہی ضروری ہے تو یونہی سہی۔ ہم بھی ماہر ہو گئے ہیں عزت و احترام دینے کی اداکاری کے۔ مگر یہ کوئی زندگی تو نہیں۔ نہ تمہاری نہ ہماری۔

پھر بھی تم چاہتے ہو کہ اس چودہ اگست سے وہی جذبہ پھوٹے جیسا پہلے چودہ اگست سے پھوٹا تھا تو پلیز ایک طرف ہو جاؤ۔ ہمیں مٹی کے گھروندے بنانے دو، توڑنے دو، دوڑنے دو، بازو کھول کے اڑنے دو، خود بخود ہنسنے اور مرضی سے رونے دو، جھگڑنے دو، پیار کرنے دو۔ ورنہ منالو اپنا چودہ اگست اسی طرح جیسے پچھلے سال، اس سے پچھلے سال، اس سے پچھلے سال مناتے اور منواتے آئے ہو۔ بس ہمیں مسلسل بتاتے رہنا کب خوش ہونا ہے کب نہیں ہونا، کب رکنا ہے کب چلنا ہے، کب بیٹھنا ہے،کب لیٹنا ہے،کب کب کب…

اب میں رکا رہوں یا پھر جاؤں…

وسعت اللہ خان

معاشی بحران، ترکی کا ہنگامی منصوبہ

ترک کرنسی لیرا کی قدر میں نمایاں کمی سے نمٹنے کے لیے شرح سود میں اضافے کا خیال ایردوآن نے مسترد کر دیا ہے، تاہم اس بحران کے سدباب کے لیے ایک معاشی منصوبہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ایشیائی منڈیوں میں لیرا کی قدر میں ابتدا میں کمی دیکھی گئی، تاہم ترک وزیر خزانہ برات البیراک کی جانب سے ایک اقتصادی منصوبے پر عمل درآمد کے اعلان کے بعد لیرا کسی حد تک سنبھلا۔ البیراک نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا، ’’ ہمارے ادارے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے اور اس سلسلے میں اقدامات کی تفصیلات مارکیٹ سے بانٹی جائیں گی۔‘‘

وزیر خزانہ البیراک، جو ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے داماد بھی ہیں، نے ایردوآن ہی کے ایک بیان کے تناظر میں کہا کہ لیرا کی کم زوری اصل میں ترکی پر حملہ ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لے کر کہا کہ لیرا کی قدر میں کمی کی وجہ ٹرمپ ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس بحران سے نمٹنے کے لیے ترکی کا منصوبہ کیا ہے، اس بابت تفصیلات مبہم ہیں۔ البیراک نے اپنے انٹرویو میں کہا، ’’بجٹ تنظیم ہماری نئی حکمت عملی میں کلیدی نوعیت کی ہے۔ ہم بینکوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے تحفظ کے لیے احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں۔ ہم اپنے بینکوں اور مالیاتی نگران اداروں کے ساتھ مل کر نہایت تیزی سے اقدامات کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو نئے ٹیکس ضوابط بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ترک حکومت کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں کہ وہ غیر ملکی کرنسی کو منجمد کرنے کی کوشش کرے، تاکہ لیرا کو سہارا دیا جا سکے۔ ایشیائی منڈیوں میں ترک لیرا نئی ریکارڈ گراوٹ کا شکار دیکھا گیا اور ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر سات اعشاریہ دو چار فیصد کم ہوئی، تاہم بعد میں لیرا دوبارہ قدرے سنبھل گیا۔ ایک امریکی ڈالر قریب سات لیرا کے برابر تھا۔ جنوری کے آغاز سے اب تک ترک کرنسی کی قدر میں قریب 45 فیصد کمی آئی ہے، جب کہ گزشتہ جمعے کو اس کی قدر میں صرف ایک روز میں اچانک پندرہ فیصد کمی آئی تھی۔ یہ بات اہم ہے کہ ترکی میں قید ایک امریکی پادری اینڈریو برونسن کی رہائی کے امریکی مطالبے کو ترکی نے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد امریکا نے ترکی کے خلاف پابندیوں کے اعلان کے ساتھ ساتھ ترکی کی فولاد اور ایلومینیم کی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس امریکی اعلان کی وجہ سے ترک کرنسی لیرا کو دھچکا پہنچا تھا۔

ع ت، م م – روئٹرز، اے ایف پی، اے پی

بشکریہ DW اردو

اقتصادی جنگ میں ترکی فتح مند ہو گا، ایردوآن

ترک کرنسی لیرا کی قدر میں شدید کمی سے کاروباری حلقوں میں بےچینی پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر نے ترک فولاد اور ایلومینیم پر درآمدی ڈیوٹی دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ شروع ہونے والی اقتصادی جنگ میں انجام کار اُن کے ملک کو فتح اور امریکا کو شکست ہو گی۔ ایردوآن کا یہ بیان ملکی کرنسی’ لیرا‘ کی قدر میں شدید کمی کے بعد سامنے آیا ہے۔ ترک صدر نے اقتصادی جنگ کے نتائج سے بھی خبردار کیا ہے۔ ایردوآن نے کہا کہ وہ امریکی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے۔

اونیے شہر میں ایک عوامی خطاب سے انہوں نے کہا کہ امریکا اور ترکی کے تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یوں ترکی نئے اتحادیوں کی تلاش شروع کر سکتا ہے۔ ترکی میں قید امریکی پادری اور دیگر سفارتی معاملات پر ان دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایردوآن نے کہا کہ امریکا کو شرم آنا چاہیے کہ وہ ایک پادری کی خاطر نیٹو اتحادی ملک سے تعلقات خراب کر رہا ہے۔ امریکا کی طرف سے ترکی کے خلاف اقدامات کی وجہ سے ترک کرنسی لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی ہے۔

لیرا کی قدر میں سولہ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ذرائع بلاغ کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں یہ کمی ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس کمی سے ترک معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور اُس کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی سے کاروباری حضرات کو شدید نقصان کا قوی امکان ہے۔ ایسے امکانات بھی ہیں کہ اگلے ہفتے کے دوران لیرا کی قدر اور گِر سکتی ہے۔ جس طرح لیرا کی قدر میں گراوٹ کا سلسلسہ شروع ہوا ہے، اُس سے لگنے والے معاشی جھٹکے ممکنہ طور پر اگلے ہفتے کے دوران محسوس کیے جا سکیں گے۔ ترک کرنسی کی قدر میں کمی سے یورپی مالی منڈیوں میں بھی بے چینی دیر تک رہنے کا امکان موجود ہے۔ علاقائی بینکنگ سیکٹر کو بھی یہ خطرات لاحق ہیں کہ ترک امریکی تنازعے کے منفی اثرات اُس تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ رواں برس سے اب تک ترک کرنسی کی قدر میں چالیس فیصد کی کمی واقع ہو چکی ہے اور یہ مجموعی طور پر ترک اقتصایات کی داخلی کمزوری کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ کسی حد تک لڑکھڑائی ہوئی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ صدر ایردوآن ملکی کرنسی کو سنبھالنے کے حوالے سے کون کون سے اقدامات کرنے کی کوشش میں ہیں۔ لیرا میں کمی کی وجہ ترک اور امریکی حکومتوں میں پیدا شدہ سفارتی تنازعہ ہے۔ واشنگٹن اور انقرہ کی حکومتوں کے درمیان ترکی میں ایک امریکی پادری کی گرفتاری کشیدگی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

پادری کی رہائی کے معاملے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ایسا امکان تھا کہ ترک نائب وزیر خارجہ کے دورہٴ امریکا کے موقع پر ہی کوئی بات آگے بڑھے لیکن بظاہر ایسا کچھ سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی سے درآمد کیے جانے والے فولاد اور ایلومینیم پر درآمدی ڈیوٹی دوگنا کر دی ہے۔ اس اضافے کے بعد ترک کرنسی پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ٹرمپ نے ترک کرنسی کی قدر کم ہونے کے حوالے سے اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ ترکی کی کرنسی اُن کے مضبوط ڈالر کے سامنے گرنا شروع ہو گئی ہے اور ویسے بھی ان دنوں ترکی کے ساتھ تعلقاتٰ بھی بہتر نہیں ہیں۔

ع ح ⁄ ع الف ⁄ نیوز رپورٹس