عید پر طالبان اور افغان فوجی بغل گیر ہو گئے

افغانستان میں عید کے دن کئی علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور طالبان نے مل کر نماز عید ادا کی۔ غیر مسلح طالبان دارالحکومت کابل میں داخل ہوئے اور انہوں نے عید کے علاوہ ’غیرمعمولی جنگ بندی‘ کی خوشیاں بھی منائیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے مقامی میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغانستان میں عید کے دن خوشی کی ایک غیرمعمولی کیفیت دیکھی گئی۔ عید کی تین دن کی چھٹیوں کے دوران طالبان جنگجوؤں نے بھی جنگ بندی کا اعلان کر رکھا ہے، جو افغان حکومت کی طرف سے محدود فائر بندی کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔ طالبان نے کہا تھا کہ اس جنگ بندی کے باوجود غیر ملکی فورسز پر حملے نہیں روکے جائیں گے۔

افغانستان کے نائب وزیر داخلہ مسعود عزیزی نے بتایا کہ اس جنگ بندی کو مانیٹر کیا جا رہا ہے اور ’خوش قسمتی سے کوئی نیا حملہ نہیں ہوا‘۔ کابل حکومت کی طرف سے اعلان کردہ فائر بندی آئندہ بدھ کے روز تک مؤثر رہی گی، جس میں صرف طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی جبکہ داعش سمیت دیگر مسلم انتہا پسند گروپوں کے خلاف عسکری کارروائیاں جاری رہیں گی۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عید کے دن طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں اور عید کی خوشیاں منا رہے ہیں۔ لوگر صوبے، کابل کے جنوب، زابل اور وردک میں طالبان اور سکیورٹی فورسز نے مل کر عید کی نماز ادا کی اور خوشیاں منائیں۔ ہلمند، قندھار اور زابل نامی صوبوں میں حکام نے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی پرتشدد واقعہ رونما نہیں ہوا۔

گزشتہ سولہ برسوں سے جنگ کے شکار ہندوکش کے اس ملک میں طالبان کی طرف سے پہلی مرتبہ لچک دکھائی گئی ہے، جسے افغانستان میں قیام امن کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ زابل کے رہائشی قیس لیوال نے روئٹرز کو بتایا، ’’یہ سب سے زیادہ پرامن عید ہے۔ میں خود کو محفوظ تصور کر رہا ہوں۔ اس خوشی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔‘‘ جلال آباد میں درجن بھر طالبان نے بچوں کے ساتھ عید منائی اور کھانا کھایا۔ افغان شہری محمد عامر کا کہنا تھا اس کے چھوٹے بھائی نے اسے بتایا کہ طالبان بغیر کسی خوف و خطرے کے شہر میں داخل ہوئے، ’’میں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر سکتا کہ طالبان اور سکیورٹی فورسز آپس میں پیار سے ملے اور انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سلفیاں بھی بنائیں۔‘‘

افغان صدر اشرف غنی کے مطابق حکومت اور طالبان کی طرف سے الگ الگ کیے جانے والے فائر بندی کے اعلانات ملک میں پائیدار قیام امن کی کوششوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ انہوں نے طالبان کو ایک مرتبہ پھر یہ دعوت دی کہ وہ امن مذاکرات کا حصہ بن جائیں۔ تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ جب تک غیر ملکی فورسز افغان سرزمین سے نکل نہیں جاتیں، تب تک کابل حکومت کے ساتھ کوئی امن مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

ع ب / م م / خبر رساں ادارے

بشکریہ DW اردو

Advertisements

ٹرمپ کا شمالی کوریا کے جنرل کو انوکھا سلیوٹ

شمالی کوریا کے سرکاری ٹیلی وژن نے دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے ایک جنرل کے درمیان سلام اور مصافحے کے مناظر نشر کیے تھے جس کے بعد امریکا میں “میڈیا” تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اس مختصر وڈیو کلپ میں ٹرمپ نے پہلے شمالی کوریا کے مسلح افواج کے وزیر نو کوان چول کی طرف مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تاہم شمالی کوریا کے جنرل نے ہاتھ ملانے کے بجائے انہیں فوجی سلیوٹ کیا۔ اس پر ٹرمپ کے پاس بھی جوابی سلیوٹ کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اس کے فوری بعد جنرل چول نے مصافحے کے لیے ٹرمپ کی جانب ہاتھ بڑھا دیا جس پر امریکی صدر یک دم بوکھلا گئے اور اس بوکھلاہٹ اور شرمندگی کو کیمروں کی آنکھ نے بھی محفوظ کر لیا۔

اس حوالے سے ٹرمپ کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ عام سی بات تھی اور اس میں کوئی شرمندگی کی بات نہیں۔ دوسرے جانب بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ “بوکھلاہٹ” پر مبنی عجیب سا منظر تھا۔ علاوہ ازیں اس بات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ امریکی صدر نے ایک ایسی حکومت کے جنرل کو سلیوٹ کیا جو “کریک ڈاؤن” کی پالیسی کے سبب معروف ہے۔ دوسری جانب وہائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے تبصرہ کرتے ہوئے باور کرایا کہ امریکی صدر کا تصرّف طبعی اور مماثل تھا۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے 12 جون کو سنگاپور کے جزیرے سینتوزا میں شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن سے تاریخی ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان ایک اہم دستاویز پر دستخط بھی کیے گئے۔ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تلفی کا عزم بھی سامنے آیا۔

دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکہ نے غیر قانونی مہاجرین کے بچوں کو پنجروں میں بند کر دیا

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ چھ ہفتوں میں امریکی سرحد پر تقریباً 2000 مہاجر بچوں کو ان کے گھر والوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے میکسکو سے امریکہ آنے والے غیر قانونی مہاجرین کے خلاف شدید کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں والدین کو قید کر کے ان کی تحویل سے ان کے بچوں کو لیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر امریکہ میں سخت سیاسی نقطہ چینی جاری ہے۔ انٹرنیٹ پر آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین کے بچوں کو پنجروں میں رکھا جا رہا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے اس ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے انجیل کا حوالہ دیا تھا۔ ٹرمپ انتظانیہ کا یہ کریک ڈاؤن امریکہ کی طویل المدتی پالیسی میں تبدیلی ہے جس کے تحت پہلی مرتبہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے آنے والوں کو مجرمانہ سزاؤں کا سامنا ہے جو پہلے صرف ایک چھوٹا سا جرم تصور کیا جاتا تھا۔

ہمیں بچوں کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
امریکی محکمہِ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق 19 اپریل سے 31 مئی تک 1995 بچوں کو 1940 افراد سے علیحدہ کیا جا چکا ہے۔ ان بچوں کی عمروں کے بارے میں معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ ان بچوں کو امریکی محکمہِ صحت اور ہیومن سروسز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انھیں یا تو حکومتی حراستی مراکز میں رکھا جائے گا یا پھر انھیں کسی فوسٹر فیملی کے حوالے کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ نے امریکہ سے فوری طور پر بچوں کو ان کی فیملیوں سے علیحدہ کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے کہا ہے۔ اٹارنی جنرل جیف سیشنز کا کہنا ہے کہ بچوں کو ساتھ لانے سے کوئی بھی غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے جرم کی سزا سے بچ نہیں سکتا۔ انھوں نے سینٹ پالز کے رومی قوم کو لکھے ایک خط کا حوالہ دیا ہے جس میں حکومت کے قوانین کی اطاعت کی تائید کی گئی ہے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ خط غلامی کے نظام کو بچانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔

ملک میں سیاسی ردِعمل کیا ہے؟
ٹرمپ انتظامیہ کو کچھ ریپلکنز کی حمایت حاصل ہے تاہم کچھ سیاسی عناصر نے تشویس کا اظہار کیا تھا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہاؤس سپیکر پال رائن کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے استعمال کیے گئے حربے ان کے خیال میں درست نہیں۔ اسی ہفتے امریکی ایوانِ زیریں میں ریپلکنز نے ایک نیا امیگریشن قانون کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں سرحد پر بچوں کو ان کے گھر والوں سے علیحدہ کرنے کا طریقہ کار ختم کر دیا جائے گا۔

اس پلان کے تحت فیملیوں کو اکھٹے حراست میں رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس مسودے میں 18 لاکھ ڈاکہ ڈریمرز کو تحفظ فراہم کرنا، امریگیشن میں لاٹری کے نظام کو ختم کرنا اور سرحدی حفاظت کے لیے 25 ارب ڈالر مختص کرنا بھی شامل ہے۔ یہ بل قدامت پسندوں اور معتدل رہنمائوں کے درمیان سمجھوتا ہے اور آئندہ ہفتے اس پر ووٹنگ ہو گی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایک سمجھوتے پر مبنی بل کو منظور نہیں کریں گے چاہے اسے ریپبلکن پارٹی کی حمایت حاصل ہو۔

بشکریہ بی بی سی اردو

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کا آغاز ہو گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے ہونے والی درآمدات پر 50 ارب ڈالر کے محصولات عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ چین نے اس کا فوری جواب دیتے ہوئے امریکی درآمدات پر بھی 50 ارب ڈالر کے ہی محصولات عائد کر دئے ہیں۔ یوں دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان باضابطہ طور پر طبل جنگ بجا دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے چین سے درآمد ہونے والی 800 کے لگ بھگ حصاص نوعیت کی اشیا کی نشاندہی کر دی ہے جن پر 25 فیصد محصولات عائد کئے جا رہے ہیں۔ ان محصولات کے نفاظ کا آغاز 6 جولائی سے ہو گا۔ ان درآمدات میں گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

چین کی وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ چین جواب میں برابر کی سطح کے محصولات عائد کرے گا۔ شن ہوا نیوز ایجنسی کے مطابق چین امریکہ سے درآمد ہونے والی 659 اشیا پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کرے گا جن میں سویابین سے لیکر گاڑیاں اور سمندری خوراک تک شامل ہے۔ چین کی طرف سے امریکی درآمدات پر لگائی جانے والی ڈیوٹی بھی 50 ارب ڈالر کی سطح کی ہو گی۔ تاہم ڈیوٹی عائد کی جانے والی اشیا کی فہرست سے زیادہ قیمت کی اشیا کو نکال دیا گیا ہے جن میں ہوائی جہاز شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر چین نے جواب میں امریکی درآمدات پر ڈیوٹی عائد کی تو امریکہ محصولات میں مزید اضافہ کر دے گا۔

اس وقت امریکہ چین تجارت میں امریکہ کا تجارتی خسارہ 375 ارب ڈالر کا ہے۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ محصولات چین کو غیر منصفانہ طور پر منتقل ہونے والی ٹکنالوجی کو روکنے اور امریکیوں کی ملازمتوں تحفظ دینے کیلئے ضروری ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی طرف سے عائد ہونے والے محصولات سے چین کی معیشت کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچے گا اور دونوں ملکوں کی تجارتی محاذ آرائی ممکنہ طور پر بڑھتی رہے گی۔ امریکہ کے تجارتی نمائیندے کے دفتر کا کہنا ہے کہ امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کے حکام چین سے درآمد ہونے والی 818 اشیا پر 6 جولائی سے محصولات وصول کرنا شروع کر دیں گے جن کی مالیت 34 ارب ڈالر ہو گی۔

سو سے زائد ممالک کی جانب سے اسرائیل کی مذمت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 120 ممالک کی جانب سے غزہ میں تشدد کے واقعات اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی گئی ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے یہ قرارداد جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عرب ممالک کی حمایت سے پیش کردہ اس قرارداد میں غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں پر اسرائیل کی مذمت کے ساتھ ساتھ امریکا کی جانب سے اس تشدد کی ذمہ داری فلسطینی عسکری تنظیم حماس پر عائد کرنے کو مسترد کیا گیا ہے۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کے خلاف ’طاقت کا غیرضروری اور بلاتخصیص‘ استعمال کیا اور غزہ اور مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینیوں کو تحفظ دینے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔

مارچ کے اختتام سے غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر احتجاج کرنے والے فلسطینیوں میں سے اب تک کم از کم 129 افراد مارے جا چکے ہیں، جب کہ اس دوران کسی اسرائیلی شہری کی جان نہیں گئی۔ ترکی اور الجزائر کی جانب سے عرب ممالک کی معرفت سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کو 193 رکنی جنرل اسمبلی میں پیش کیا گیا، جس کے حق میں 120 ووٹ ڈالے گئے، جب کہ آٹھ ممالک نے اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ اس دوران 45 ممالک نے اپنے ووٹ کا حق محفوظ رکھا یا اس ووٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔

امریکا نے اس قرارداد کا ایک ترمیم شدہ مسودہ پیش کیا تھا، جس میں حماس تنظیم پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ اسرائیلی سرحد کے قریب ’تشدد کو ہوا‘ دے رہی ہے، تاہم یہ امریکی قرارداد جنرل اسمبلی کے ارکان کی دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ سلامتی کونسل میں یکم جون کو عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کی مذمت سے متعلق ایک قرارداد پیش کی تھی، تاہم اسے امریکا نے ویٹو کر دیا تھا اور اسی وجہ سے عرب ممالک نے یہ قرارداد جنرل اسمبلی میں پیش کی۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کے برعکس جنرل اسمبلی کی قرارداد ’نان بائینڈنگ‘ ہوتی ہے اور یہاں کسی ملک کے پاس ’ویٹو’ کی طاقت نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک اپنا ووٹ دیتے ہیں۔

ع ت / ع ب / اے ایف پی

یورپ میں بڑھتی مسلم نفرت اور اس کا حل

’’مسلمانوں کا رمضان میں کام کرنا ہمارے لیے خطرناک ہے، اگر مسلمانوں کو روزے رکھنے ہیں تو کام سے چھٹیاں لیں وگرنہ معاشرے پر رمضان کا منفی اثر ہو گا اور ہم سب کا نقصان ہو گا۔ 1400 سالہ پرانی یہ روایت 2018 کی ہماری جاب انڈسٹری میں فٹ نہیں بیٹھتی۔‘‘ ڈنمارک کی انٹگریشن کی وزیر کا یہ بیان صرف ایک جھلک ہے اس اینٹی مسلم سیاست کا جو پچھلے چند سالوں سے یورپ کی سیاست کا محور بننا شروع ہوئی۔ موافق ہو یا مخالف لیکن آج یورپ کی ہر سیاسی جماعت کی سیاست اسی ایشو کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مذکورہ منسٹر کے اس بیان کو گارجین سمیت معتبر یورپین اخبارات نے جلی سرخیوں میں شائع کیا۔

ناروے جیسے تہذیب و اخلاقیات کے چیمپئین نے تمام تعلیمی اداروں میں بُرقعے اور نقاب پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔ کل پاس ہونے والے پارلیمنٹ کے اس قانون کے مطابق کسی بھی تعلیمی ادارے میں طالبات اور ٹیچرز کسی بھی شخص کو اپنا چہرہ جزوی یا کلی طور پر ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ڈے کیئر سینٹرز میں کام کرنے والی خواتین پر اس قانون کا اطلاق ہو گا۔ اگرچہ پورے یورپ میں یہی صورتحال ہے لیکن فرداً فرداً ہر ملک کی تفصیل لکھنا یہاں ممکن نہیں۔ راقم الحروف چونکہ ڈنمارک میں مقیم ہے تو میں یہاں کے حالات کی تصویر کشی کر کے یورپ کی جھلک دکھاتا ہوں۔ ڈنمارک میں بھی نقاب پر پابندی کا بل منظور ہو چکا ہے اور یکم اگست سے لاگو ہونے والا ہے۔

ڈنمارک میں آج سے پچاس سال قبل پہلی مسجد قائم ہوئی، یہاں تین لاکھ مسلمان آباد ہیں جن کی آبادی میں پچھلے دس سال میں چالیس فیصد اضافہ ہوا؛ ان میں سے ستر فیصد ڈینش نیشنلٹی رکھتے ہیں۔ 151 مساجد رجسٹرڈ ہیں لیکن مسلمانوں کا عملی کردار معاشرے میں بہت کم ہے۔ ترکی اور عربی مسلم اگرچہ کچھ نہ کچھ لوکل سیاست میں موجود ہیں۔ یہاں کی قومی سیاست میں بہت دیر تک صرف تین یا چار پاکستانی سرگرم رہے۔ اگرچہ اب نوجوان اس طرف آرہے ہیں اور یہاں کی پارلیمنٹ میں حالیہ الیکشن میں آٹھ پاکستانی نوجوان اور دو نوجوان خواتین جیت کر ایوان اقتدار میں پہنچے ہیں لیکن ابھی اس میدان میں بہت کام کرنا باقی ہے۔

اگر میڈیا کا معاملہ دیکھیں تو یہاں بہت ویکیوم ہے، اگرچہ چار مقامی ایف ایم اردو ریڈیو کام کر رہے ہیں لیکن قومی مباحث میں اور ٹی وی چینلز پر مسلم نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستانی تنظیمات کو دیکھیں تو سماجی تنظیمات کافی ہیں لیکن وہ مساجد اور اپنی کمیونٹی تک محدود ہیں۔ پرنٹ میڈیا میں بھی یہی حالات ہیں، لیکن ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر نے مذکورہ منسٹر کو اسی اخبار میں تفصیلی مضمون لکھ کر منہ توڑ جواب دیا ہے، جس بیان کا ذکر اس مضمون کے شروع میں کیا گیا۔ ڈاکٹر عرفان ظہور احمد نہ صرف ایک ماہر معالج ہیں، کوپن ہیگن یونیورسٹی میں لیکچرار ہیں اورمنہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک کے صدر بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے مضمون میں میڈیکل ریسرچ سے ثابت کیا کہ انسانی جسم اور معاشرے پر روزے کے اثرات مثبت ہیں اور اس سے ڈینش معاشرے کو خوف زدہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔

یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر ہیں جو 2005 میں کشمیر زلزلے کے بعد پاکستانی ڈاکٹرز کی پوری ٹیم کے ساتھ ڈنمارک سے زلزلہ زدگان کی مدد کو آئے تھے، ان کی ٹیم نے یہاں فنڈز بھی اکٹھے کیے تھے اور ڈنمارک کی ملکہ نے بھی اس ٹیم کو عطیات دیئے تھے، بعد ازاں ان کو ڈینش حکومت نے اس انسانی ہمدردی پر ایوارڈ بھی دیا تھا، وزیر موصوفہ کے بیان کے واقعے کے بعد ان کی تنظیم نے حالات کا درست ادراک کرتے ہوئے ڈینش معاشرے میں مساجد اور مسلمانوں کے کردار کے موضوع پر ایک مباحثے کا اہتمام کیا، جس میں ڈنمارک کے تمام سیاسی مسلمان راہنماؤں، سیاسی جماعتوں اور چیدہ چیدہ سماجی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔

اس مباحثے میں ڈینش معاشرے میں مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر بحث ہوئی، وجوہ کا تعین کیا گیا اور آئندہ حکمت عملی ترتیب دی گئی۔ اس میں خصوصی طور پر نومسلم ڈینش نوجوان کیسپر مچھیسن نے شرکت کی جو ڈنمارک کی آرہوس یونیورسٹی میں ڈینش معاشرے میں مسلمانوں کے کردار پر ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یورپ اور ڈنمارک کا سب سے بڑا مسئلہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتی نفرت ہے، سنگاپور کی ایک مسجد کو بطور ماڈل پیش کرتے ہوئے انہوں نے اس کا حل مساجد کو صرف عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے سوشل سینٹرز بنانا بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے آپ کو کھولو، یورپین لوگوں کو اپنی سینٹرز میں آنے دو تاکہ ان کا خوف اور تجسس ختم ہو، پھر یہ تمہارے سفیر ہونگے اور یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پراپیگنڈا اپنی موت آپ مر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انٹگریشن کا بہترین حل یہ حدیث ہے کہ اچھا بولو یا چپ رہو اپنے پڑوسی کے ساتھ حلیم بنو اور اچھا سلوک رکھو۔

واضح کرتا چلوں کہ سنگاپور کی یہ مسجد ایسا کمیونٹی سینٹر ہے جہاں ہر وقت چائے کافی کے لوازمات مفت موجود ہیں جن کی بنا پر غیر مسلم لوگ اپنی میٹنگز بھی یہاں کرتے ہیں اور اکثر مسلم ممالک کے سفیر نماز جمعہ بھی یہیں ادا کرتے ہیں۔ میرے خیال میں اس نوجوان مسلم نے درست حل بتایا ہے کہ مسلمان اپنی اقدار کو زندہ رکھتے ہوئے معاشرے میں انٹیگریٹ ہو جائیں تو یورپ کی اینٹی مسلم سیاست کا خاتمہ ممکن ہے۔ کیونکہ انٹگریشن کا یہ ماڈل ہمارے نبی کریم ﷺ دے چکے ہیں جب انہوں نے مدینہ کو مسلمانوں و یہود کی ریاست کا نام دیتے ہوئے ان کی مذہبی اقدار کے تحفظ کا اعلان فرمایا تھا۔

محمد منیر طاہر
بشکریہ ایکسپریس نیوز

افغانستان میں طیارہ حادثے کے تیس سال بعد روسی ہوا باز زندہ نکلا

سابق سوویت یونین کے دور میں افغانستان میں بمباری کے دوران تباہ ہونے والے ایک جنگی جہاز کے پائلٹ کو 30 سال تک مردہ شمار کیے جانے کے بعد آج اس کے زندہ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روس میں پرانے فوجیوں کی ایک تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی ہوا باز کو طیارہ تباہ ہونے کے بعد نہیں دیکھا گیا۔ اس لیے اسے مرنے والوں میں شامل کیا گیا تھا۔ روسی چھاتہ بردار اتحاد کے چیئرمین فالیری فوسزٹرٹین نے خبر رساں ایجنسی ’ریانوفسٹی‘ کو بتایا کہ ’یہ ناقابل یقین ہے کہ وہ پائلٹ  زندہ ہے۔ اب اسے مدد کی ضرورت ہے‘۔

فوسٹروٹٰین جو جنگ میں قید بنائے گئے فوجیوں کی تلاش کے لیے بنائی گئی روسی، امریکی کمیٹی کے چیئرمین ہیں نے تیس سال کے بعد منظرعام پر آنے والے اس ہوا باز کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ تنظیم کے ایک دوسرے عہدیدار فیلاشیسلاو کالینین نے بتایا کہ ہوا باز کا طیارہ 1987ء میں افغانستان میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر غالبا ساٹھ سال تھی۔ اب وہ وطن لوٹنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ کئی سال تک افغانستان میں قید رہنے کے بعد لاپتا ہوا باز پاکستان میں موجود ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 1979ء سے 1989ء تک افغانستان میں چڑھائی کے دوران سوویت یونین کے 125 جنگی طیارے مار گرائے گئے تھے۔ جنگ کے اختتام پر سوویت یونین نے 300 فوجیوں کےلاپتا ہونے کی تصدیق کی تھی جن کے زندہ یا مردہ ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا تھا۔ روسی اخبار ’کومرسنٹ‘ کے مطابق حال ہی میں منظرعام پرآنے والے روسی پائلٹ کی شناخت سیرگی پانٹلیوک کے نام سے کی گئی ہے جس کا تعلق جنوبی روس کے علاقے روسٹوف سے ہے۔ بگرام ہوائی اڈے سے پرواز کے بعد اس کا طیارہ مار گرایا گیا تھا۔ بعد ازاں اس اڈے کو امریکا نے جیل میں تبدیل کر دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

اقوامِ متحدہ میں امریکی مطالبہ مسترد، فلسطینیوں کے حق میں قرار داد منظور

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینیوں کی حمایت میں پیش کی جانے والی قرارداد کو منظور کرتے ہوئے اسرائیل کو غزہ میں جاری پُرتشدد واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا دیا اور طاقت کے استعمال کو افسوس ناک قرار دے دیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قرارداد پیش ہونے سے قبل امریکا نے مطالبہ کیا تھا کہ اس قرار داد میں اسرائیلی فورسز پر ہونے والے حملے کی بھی مذمت شامل کی جائے تاہم اس امریکی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔ عرب ممالک کی جانب سے الجزائر اور ترکی نے اقوامِ متحدہ میں قرار داد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

اقوامِ متحدہ کی 193 ممبران پر مشتمل جنرل اسمبلی میں 120 ووٹ کی بھاری اکثریت کے ساتھ فلسطینیوں کے حق میں پیش کی جانے والی یہ قرارداد منظور ہوئی جبکہ 8 ووٹ اس قرار داد کی مخالفت میں آئے۔ خیال رہے کہ رواں برس مارچ میں شروع ہونے والے نئے مظاہروں میں اب تک سیکڑوں فلسطینی جاں بحق جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس دوران ایک بھی اسرائیلی زخمی نہیں ہوا۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے شکست خوردہ انداز میں اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے اسے یک طرفہ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ عرب ممالک اپنے خطے میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے یہ قرارداد پیش کی گئی۔

اس موقع پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی مندوب ریاض منصور کا کہنا تھا کہ ’ہم صرف ایک ہی چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شہری محفوظ ہوں‘۔ خیال رہے کہ اسرائیل اور غزہ میں موجود تنظیم حماس کے درمیان ماضی میں بھی جنگیں ہو چکی ہیں، تاہم اب اقوامِ متحدہ کی جانب سے مزید ایک جنگ کے خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے 30 مارچ سے 1948 سے ان کی سرزمین چھن جانے اور انہیں اپنی زمین سے بے دخل کیے جانے کے 70 سال مکمل ہونے پر رواں برس 30 مارچ سے اسرائیل کے ساتھ سرحد پر احتجاجی مظاہرہ جاری ہے، جہاں وہ اپنی زمین کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی روز غزہ کی پٹی میں سرحدی باڑ پر احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 15 فلسطینی شہید اور 1400 زخمی ہو گئے تھے جو 2014 کے بعد ایک روز میں پیش آنے والے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل فلسطین میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے اور اس کے افتتاح کے خلاف احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ اور تشدد سے 58 افراد جاں بحق اور 2400 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اے ایف پی کے مطابق 30 مارچ سے جاری مظاہروں کے دوران اسرائیلی شیلنگ سے اب تک غزہ میں 129 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کی تلفی پر راضی نہیں ہو گا

صدر ٹرمپ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن سے ملاقات کے بعد بہت پر اُمید اور خوش دکھائی دیئے ہیں۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں اگرچہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سمجھوتہ محض علامتی ہے اور کم جونگ اُن کبھی بھی اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو ختم کرنے پر سنجیدہ نہیں ہوں گے۔
یونائیٹڈ اسنٹی ٹیوٹ آف پیس میں جنوبی ایشیا پروگرام کے شریک صدر ڈاکٹر معید یوسف نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ شمالی کوریا مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں کو تلف کر دے گا۔

معید یوسف کہتے ہیں کہ شمالی کوریا کے سامنے بھارت اور پاکستان کی واضح مثالیں موجود ہیں جن میں دونوں ممالک جوہری ہتھیار تیار کرنے کے باوجود امریکہ کے قریبی حلیف رہے ہیں۔ لہذا شمالی کوریا کے لیڈر کوئی ایسا راستہ اختیار کر لیں گے جس کے ذریعے امریکہ کو مطمئن بھی رکھا جائے اور اپنا جوہری پروگرام بھی جاری رکھا جائے۔ تاہم معید یوسف کہتے ہیں کہ اس اعلیٰ ترین سطح پر علامتی سمجھوتہ بھی ایک بڑی کامیابی ہے اور اس میں مزید پیش رفت بعد میں ہونے والے رابطوں سے ہی ظاہر ہو گی۔

امریکہ کے ایک معروف تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی سینئر فیلو اور کوریائی اُمور کی ماہر جنگ پاک کہتی ہیں کہ وہ گذشتہ تیس برس سے کم جونگ اُن کو بڑا ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔ اُن کے مطابق کم اپنے اقتدار کے پہلے چھ برسوں کے دوران امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ محاذ آرائی اور جوہری اور میزائل پروگرام کو فروغ دینے پر پوری طرح کاربند رہے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں اُنہوں نے جس یو ٹرن کا مظاہرہ کیا ہے اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 34 سالہ کم نے اپنے والد اور دادا کی طرح زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے اور سفارتکاری دونوں میں یکساں مہارت حاصل کر لی ہے۔

جنگ پاک کہتی ہیں کہ اُنہوں نے علاقے میں دلچسپی رکھنے والے تمام ممالک کے ساتھ دو طرفہ رابطوں میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ مثال کے طور پر وہ چین سے رابطوں میں چین سے اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور چین کی سائنٹفک اور ٹکنالوجیکل پیش رفت سے فائدہ اُٹھانے کی بات کرتے ہیں جس کی چین اُن سے توقع رکھتا ہے۔ اسی طرح جب وہ جنوبی کوریا کے ساتھ رابطے کرتے ہیں تو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان موجود خونی رشتوں، امن اور اتحاد کی بات کرتے ہیں جس کا تاثر جنوبی کوریا میں انتہائی مقبول ہے۔

جنگ پاک کے مطابق کم امریکہ کے ساتھ رابطوں کو عمومی سطح پر نہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ اُن کی تمام تر توجہ صدر ٹرمپ کے ساتھ رابطے پر ہے۔ یوں وہ اُنہی باتوں پر توجہ دے رہے ہیں جن میں صدر ٹرمپ کو خاص طور پر دلچسپی ہے۔ جنگ پاک کہتی ہیں کہ کم جونگ اُن نے ان ملکوں کی قومی ترجیحات کا بھرپور فائدہ اُٹھانے میں بھی مہارت حاصل کر لی ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے فیلو اور مشرقی ایشیائی اُمور کے ماہر رائن ہس کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ ایک غیر روایتی لیڈر ہیں، اُنہوں نے شمالی کوریا کے حوالے سے سفارتی آداب کو محوظ خاطر رکھتے ہوئے بات چیت کی ہے۔ رائن ہس کہتے ہیں کہ مشترکہ اعلامیے میں جزیر نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم اس کیلئے کوئی ٹائم فریم موجود نہیں ہے۔ لہذا آئندہ ہونے والے رابطوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ دونوں ملکوں کے لیڈر اپنے اس عزم کو عملی جامہ پہنانے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

شمالی کوریا کے رہنما کو دعوت قبول، ٹرمپ شش و پنج کا شکار

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے صدر ٹرمپ کی جانب دی گئی دورہ امریکا کی دعوت قبول کر لی ساتھ ہی انہوں نے امریکی صدر کو بھی دورہ ٔشمالی کوریا کی دعوت بھی دے ڈالی جس پر ٹرمپ شش و پنج کا شکار ہو گئے۔ سرکاری اعلان کے مطابق کم جونگ ان نے صدر ٹرمپ کو دورہ شمالی کوریا کی دعوت دی ہے جس پر غور جاری ہے ، صدر کم جونگ نے کہا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف فوجی اقدامات کو بند ہونا چاہئے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ میں صدر کم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے عوام کے روشن مستقبل کے لیے ایک بولڈ اسٹیپ اٹھایا اور ہماری ملاقات ممکن ہوئی ہمار ی ملاقات بے مثال تھی ۔
انہوں نے کہا کہ اس ملاقات سے ثابت ہوتا ہے کہ تبدیلی ممکن ہے اس کے لیے دونوں ملکوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔