ایٹمی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے ذخائر

نیویارک میں امریکی سائنسدانوں کی تنظیم ’’فیڈریشن آف امریکن سائنس دانوں‘‘ نے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کے حوالے سے نئی فہرست جاری کر دی ہے جس کے مطابق ایٹمی طاقت کے حامل ممالک کے پاس ہتھیاروں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ دنیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار روس کے پاس ہیں جن کی تعداد 7 ہزار ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ کے پاس 6800، فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 270، برطانیہ کے پاس 215، پاکستان کے پاس 140، بھارت کے پاس 130، اسرائیل کے پاس 80 اور شمالی کوریا کے پاس 60 ایٹمی ہتھیار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ’’ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار‘‘ بھی تیار کر رہا ہے جو سائز میں اس قدر چھوٹے ہیں کہ انہیں انتہائی آسانی سے میدان جنگ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس روایتی ایٹمی ہتھیار صرف شہروں یا دیگر بڑے انفراسٹرکچر پر ہی گرائے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکٹیکل ہتھیار جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے ذریعے بھی انتہائی مختصر نوٹس پراستعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ’’نیوکلیئر ٹرائی ایڈ‘‘ کی تیاری کے بھی قریب پہنچ چکا ہے جس سے وہ زمین، فضاء اور سمندر تینوں جگہوں سے ایٹمی میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ بھارت نے 1960ء کی دہائی میں اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر دیا تھا اور 80 کی دہائی میں ایٹمی طاقت بن چکا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو مجبوراً اپنا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی ترغیب ملی اور آج اس کے پاس بھارت سے زیادہ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

محمد ابراہیم

تالی سے تھالی اور گالی تک

ابھی تیرہ روز پہلے ہی 22 مارچ کو بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی اپیل پر پورے ملک میں آزمائشی طور پر ایک دن کے لیے ’’ جنتا کا کرفیو‘‘ لگایا گیا اور شام پانچ بجے پانچ منٹ تک کورونا سے نبرد آزما ڈاکٹروںاور طبی عملے کی حوصلہ افزائی اور شکریہ ادا کرنے کے لیے علامتی طور پر نہ صرف تالیاں اور تھالیاں بجائی گئیں بلکہ سماجی فاصلے کے اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے کئی شہروں میں بی جے پی کے حامیوں نے چھوٹے چھوٹے جلوس بھی نکالے۔ مگر پھر دلی کے ایک علاقے سے یہ خبر بھی آئی کہ کچھ ڈاکٹروں اور نرسوں کو مکان مالکان نے فوری طور پر گھر خالی کرنے کو کہا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ ڈاکٹر اور نرسیں اسپتال میں کورونا کے مریضوں کے ساتھ رہ کر خود بھی وائرس زدہ ہو گئے ہیں۔ ایسی اکا دکا خبریں بھی آئیں کہ ڈاکٹروں یا نرسوں کو مجبور کرنے کے لیے مکان مالکوں نے گھر کی بجلی بھی کاٹ دی۔

اور کل ہی یہ خبر بھی آئی کہ اندور اور حیدرآباد میں جب طبی عملے نے کورونا کے ممکنہ مریضوں کے معائنے کے لیے ان کے محلوں میں جانے اور مبتلا ہونے کی صورت میں قرنطینہ منتقل کرنے کی درخواست کی تو اہلِ محلہ نے انھی ڈاکٹروںاور طبی عملے پر پتھراؤ کیا۔ چنانچہ جان بچانے کے لیے جانے والے مسیحاؤں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ یہ وہی ہیرو تھے جن کے لیے تیرہ دن پہلے تالیاں اور تھالیاں بج رہی تھیں۔ ’’ جنتا کے کرفیو‘‘ کے دو تین روز بعد جب مودی سرکار نے پورے ملک میں اچانک صرف چار گھنٹے کے نوٹس پر نتائج کا سوچے بغیر مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو ہر طبقے میں بھگدڑ مچ گئی۔ جن کے پاس پیسے تھے وہ دکانوں اور سپر مارکیٹوں کی جانب ایک اژدھام کی صورت میں دوڑے تاکہ جتنی اشیا خرید سکتے ہیں خرید لیں۔

جن کے پاس سکت نہیں تھی اور جو اپنے اپنے گاؤں سے بڑے شہروں میں محنت مزدوری کے لیے آئے تھے۔ ان کو صرف ایک بات ہی سمجھ میں آئی کہ واپس گھر کو چلو۔ چنانچہ شہروں سے گاؤں جانے والی سڑکوں پر مزدور اور دہاڑی دار اور ان کے اہلِ خانہ لاکھوں کی تعداد میں نکل کھڑے ہوئے۔ صوبوں نے سرحدیں بند کر دیں اور ٹرانسپورٹ معطل ہو گئی۔ جو تھوڑی بہت بسیں چل رہی تھیں ان کے انتظار میں ہزارں لوگ بس ٹرمینلز پر جمع تھے۔ بھارت میں اب تک کورونا وائرس سے سرکاری طور پر چالیس کے لگ بھگ اموات ہوئی ہیں مگر سیکڑوں ہزاروں میل کے فاصلے پر موجود گاؤں کی جانب پیدل چلنے والوں میں سے تادمِ تحریر کم ازکم پچیس افراد سفر کی تھکن کے سبب جان دے چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ شہر سے گاؤں کی جانب ہجرت کرنے والوں کی تعداد تقسیم کے وقت ہجرت کرنے والوں سے کئی گنا زائد ہے۔

جب مودی حکومت کو احساس ہوا کہ پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر انتہائی قلیل نوٹس پر لاک ڈاؤن کا اعلان انسانی المیہ بن رہا ہے تب کہیں جا کے کمزور طبقات کی مادی و مالی امداد کے پیکیج کا اعلان کیا گیا۔ حالانکہ عقلِ سلیم کا تقاضا یہ تھا کہ لاک ڈاؤن سے پہلے پیکیج کا یقین دلا دیا جاتا تو اتنی افراتفری نہ مچتی کہ وزیرِ اعظم کو اس تکلیف پر پوری قوم سے معافی مانگنا پڑتی۔ اس المیے سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی قربانی کے بکرے کی تلاش تھی اور وہ بکرا فوراً ہی دلی کی درگاہ نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کی شکل میں ہاتھ آ گیا۔حالانکہ یہ اجتماع لاک ڈاؤن سے بہت پہلے تیرہ سے پندرہ مارچ تک دو دن جاری رہنے کے بعد ختم ہو گیا۔ بھارت میں کورونا کا پہلا مریض انتیس فروری کو سامنے آیا تھا۔ اس کے باوجود حکومت نے تبلیغی اجتماع سمیت کسی ہندو مسلم مذہبی یا سیاسی اجتماع کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ تبلیغی اجتماع کے اختتام کے تین روز بعد اٹھارہ مارچ کو مرکزی وزارتِ صحت نے اعلان کیا کہ ابھی حالات اتنے نہیں بگڑے کہ اجتماعات پر پابندی لگائی جائے۔

چنانچہ لاک ڈاؤن سے پہلے پوری کے مندر میں ہزاروں پجاریوں کا عبادتی اجتماع ہوا۔ مدھیہ پردیش میں نئے وزیرِ اعلی کی تقریب حلف میں بی جے پی کے سیکڑوں حامیوں نے شرکت کی۔ یوپی کے وزیرِ اعلی یوگی ادتیاناتھ نے ایودھیا میں رام مندر کی جگہ پر خصوصی عبادت کا اہتمام کیا جس میں ہزاروں یاتری شریک ہوئے۔ مگر لاک ڈاؤن کے بعد انسانی المیے پر جب حزبِ اختلاف نے سرکار کے لتے لینے شروع کیے تو توجہ ہٹانے کی خاطر بی جے پی کے آئی ٹی سیل ، ٹرول بریگیڈ اور طفیلی میڈیا نے ایک ساتھ کورونا جہادیوں کا نعرہ بلند کیا اور یہ تاثر عام کیا گیا کہ کورونا دراصل مسلمان جان بوجھ کر پھیلا رہے ہیں تاکہ ہندوؤں سے انتقام لیا جا سکے۔ جب کسی نے توجہ دلائی کہ ہندوؤں کے اجتماعات میں کیا کورونا کا ایک بھی مریض نہیں تھا تو اسے ہندو دشمن قرار دے کر مغلظات کے سیلاب میں ڈبونے کی کوشش کی گئی۔

مقبوضہ جموں کشمیر میں اب تک کورونا کے بیس سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں اور ایک موت بھی ہو گئی ہے۔ مگر چھ ماہ سے جاری لاک ڈاؤن میں ایک دن کی بھی ڈھیل نہیں دی گئی۔ وادی میں ڈاکٹر اور نیم طبی عملہ دواؤں کی شدید قلت کے ساتھ کورونا سے نہتے ہاتھوں لڑ رہا ہے۔ ایک ادھیڑ عمر مریض کو اس کے ورثا ایک ایمبولینس میں فرضی مردے کی طرح لٹا کر وادی سے جموں لے گئے تاکہ کم ازکم علاج تسلی بخش ہو سکے۔ مگر جموں کے قریب ایک چیک پوسٹ پر کھڑے پولیس والوں کو شک ہو گیا اور انھوں نے ’’مردے سمیت ’’ ایمبولینس میں سفر کرنے والوں کو ڈرائیور سمیت حراست میں لے کر جیل بھیج دیا۔ اس ایک واقعہ سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت کشمیر میں طبی سہولتوں کی کیا حالت ہے۔

پاکستان میں بھی صورت ِحال کو شروع میں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ جب پہلا مریض ایران سے تفتان کے راستے آیا تو سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ پھبتیاں اور فقرے بازی شروع ہو گئی۔ گویا مریض نہ ہو آٹھواں عجوبہ ہو۔ ابتدا میں جتنے بھی مریض دریافت ہوئے وہ ایران سے ہی تفتان پہنچنے تھے۔ مگر انھیں اور ان کے ہمراہیوں کو جس طرح تفتان میں قرنطینہ کے نام پر ایک دوسرے کے ساتھ رکھا گیا اس بدانتظامی نے کورونا کو محدود کرنے کے بجائے اور بڑھا دیا۔ تفتان المئے کے چند دن بعد رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع میں شریک حضرات میں شامل متاثرین کی خبریں آنی شروع ہو گئیں۔ اگرچہ شروع کی انتظامی غفلت و بے احتیاطی کے بعد انتظامیہ نے قدرے مربوط انداز میں صورتحال کو قابو میں لانے کی کثیر سمتی کوششیں شروع کر دیں مگر تب تک تیر کمان سے نکل چکا تھا۔

صوبہ سندھ کو حالات کی سنگینی کا سب سے پہلے احساس ہوا اور اس نے بلا تاخیر جو بھی بس میں تھا کرنا شروع کیا۔ باقی صوبوں کو دیر میں ادراک ہوا۔ جب کہ وفاق کو سب سے آخر میں کورونا کے خطرے کو سنجیدگی سے لینے کی بابت غور و فکر کی عادت پڑی۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں اگر اب تک کچھ بہتر ہوا ہے تو یہ کہ لاک ڈاؤن سے پہلے لوگوں کو ذہنی تیاری کی مہلت مل گئی۔اگرچہ ریل سروس کی معطلی کے نتیجے میں کراچی سے ملک کے بالائی علاقوں کو جانے والے مزدوروں اور غربا کو آخری دنوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بالخصوص کراچی کے ریلوے اسٹیشنوں پر اژدھام ہو گیا مگر صوبائی حکومت اس دوران چونکہ ریلیف کے اقدامات کا متواتر اعلان کرتی چلی گئی اور بین الصوبائی بس سروس سب سے آخر میں بند ہوئی لہذا گاؤں جانے کے بیشتر خواہش مند بروقت نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور کہیں بھی ایسے مناظر دکھائی نہیں دیے کہ ایک انسانی ہجوم سیکڑوں میل کے سفر پر پیدل روانہ ہے۔

البتہ امداد اور خوراک گھر کی دہلیز تک پہنچانے کے بجائے ہجوم میں بانٹنے کی عادت نے لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس بے احتیاطی میں صرف عوام ہی ملوث نہیں بلکہ خوراک و امداد بانٹنے والے افراد ، فلاحی تنظیمیں اور قانون نافذ کرنے والے کچھ ادارے بھی برابر کے قصور وار ہیں۔ نیت بھلے مدد کی ہو مگر نادانی اور بد سلیقگی سے کی جانے والی مدد انسانوں کو کورونا کے اور قریب کر دیتی ہے۔ اس غفلت پر اگر فوری قابو نہ پایا گیا تو کورونا نے اب تک جو تھوڑی بہت مہلت دی ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی اور اب تک کی جانے والی محنت دھری کی دھری رہ جائے گی۔

وسعت اللہ خان  

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کورونا وائرس کیخلاف ترکی کے بروقت اقدامات

اس وقت موجودہ حکومت کو ایک ایسے بحران کاسامنا کرنا پڑرہا ہے جو صرف پاکستان ہی کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ چین سے ابھر کر سامنے آنے والے اس بحران نے ابتدا میں پاکستان پر زیادہ منفی اثرات مرتب نہ کیے کیونکہ پاکستان نے بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو کچھ حد تک محفوظ کرلیا تھا لیکن بھلا ہو ہمارے چند ایک وزرا و مشیروں کا جنہوں نے تفتان کی سرحد ایران سے دھکیل دیے جانے والے زائرین کے لیے کھول دی اور پھر ہمیں اس طبی بحران کا سامنا کرنا پڑا جس پر اب پاکستان میں قابو پانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ترکی بھی ایران کا ہمسایہ ملک ہے لیکن اس نے پاکستان سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی سرحدیں فوری طور پر بند کر دیں اور یوں ایران سے آنے والے خطرے کے آگے دیوار کھڑی کر دی۔

ترکی کو دراصل یورپ میں سب سے زیادہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کیونکہ ترکی میں سارا سال لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن ترکی نے اپنے تمام ہوائی اڈوں پر تھرمل کیمرے نصب کرتے ہوئے فوری طور پر متاثرہ افراد کو قرنطینہ میں لینا شروع کر دیا جس نے ترکی کو اٹلی جیسی صورتِ حال سے بچنے میں نمایاں کردار ادا کیا تاہم اگر لاک ڈائون کی پابندی نہ کی گئی تو پھر ترکی شدید مشکلات سے بھی دوچار ہو سکتا ہے۔ ترکی یورپی ممالک کے مقابلے میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں جرمنی کے شانہ بشانہ آگے بڑھتا جا رہا ہے جبکہ دیگر تمام یورپی ممالک اس جنگ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ترکی اپنے انتہائی نگہداشت کے یونٹس اور وینٹی لیٹرز کی تعداد کے لحاظ سے او ای سی ڈی ممالک پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔

ترکی کو اس وقت یورپی ممالک پر یہ بھی برتری حاصل ہے کہ ترکی میں حالیہ چند سالوں میں بڑی تعداد میں جدید ٹیکنالوجی، مشینریز، سہولتوں اور رقبے کے لحاظ سے بہت بڑے رقبے پر مشتمل تمام ہی شہروں میں بڑی تعداد میں ’’شہر اسپتال‘‘ جسے ترکی زبان میں ’’شہر حستحانے‘‘ یعنی شہری ہسپتال کہا جاتا ہے، تعمیر کیے گئے اور ان اسپتالوں کے شہر سے دور ہونے کی وجہ سے مرِیضوں کے وہاں نجانے پر ترکی کے جلد ہی اقتصادی لحاظ سے دیوالیہ ہونےکے الزامات اپوزیشن کی جانب سے لگائے گئے تھے لیکن اب یہی اپوزیشن صدر ایردوان کی جانب سے وقت سے پہلے ہی ان اسپتالوں کو تعمیر کرنے کی تعریف کر رہی ہے۔ صدر ایردوان نے اسی دوران ’’قومی یکجہتی مہم‘‘ جس کا سلوگن ہے ’’اے میرے ترکی، اپنی قوتِ بازو پر بھروسہ کر‘‘ میں اپنی سات ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے آغاز کر دیا ہے اور کابینہ کے تمام وزرا، تاجر برادری اور مخیر حضرات سے بھی بڑھ چڑھ کر کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کو بلدیاتی اداروں ہی کے ذریعے رقوم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترکی دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں اس لیے بھی آگے ہے کہ ترک زندگی بھر” کولون cologne (جس میں 80 درجے الکحل موجود ہوتی ہے) اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ ہر ترک کے گھر میں ہاتھوں کی صفائی کیلئے ” کولونیا یا کولون” ایک لازمی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ترکی نے کورونا کی وبا پھیلنے پر سب سے پہلے تمام شہروں پر لاک ڈائون پر عمل درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کو کسی بھی صورت گھروں سے باہر جانے سے روک دیا۔ تاہم اس موقع پر ترکی کے بلدیاتی ادارے جو بہت ہی مضبوط ہیں اور جمہوریت کی بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں، ترکی میں عوامی خدمت کے لحاظ سے اپنا ثانی نہیں رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ملازمین کے ذریعے 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو ہر ممکنہ امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے شاپنگ کرنے سے لے کر بینک سے تنخواہ نکلوانے اور بل کی ادائیگی تک کے فرائض بڑے احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں۔

ترکی کے عوام اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں کہ یہاں کورونا وائرس سے متاثرہ تمام افراد کے ٹیسٹ اور اسپتال میں تمام دیکھ بھال کے اخراجات حکومت کی جانب سے ادا کیے جا رہے ہیں۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی کیے جانے والے تمام اخراجات حکومت ہی کی جانب سے ادا کیے جا رہے ہیں۔ ویسے بھی ترکی میں صحت کا شعبہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے اور کئی یورپی ممالک ترکی کے اس ماڈل کو اپنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور کئی نے اس سلسلے میں اپنے وفود ترکی بھی روانہ کیے ہیں۔ ترک جو دیگر اسلامی ممالک پر صفائی کے لحاظ سے برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ عام طور پر ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ پر پوری طرح عمل درآمد کرتے ہیں۔ کسی بھی اسلامی ملک میں ترکی جیسی ایسی صفائی نہیں۔ ترک بھی جاپانیوں کی طرح گھروں کے اندر باہر پہنے جانے والے جوتوں سے داخل نہیں ہوتے ہیں بلکہ گھر کے باہر یا گھر کے اندر ایک خصوصی جگہ جوتے اتار کر گھر کے سلیپر وغیرہ پہن لیتے ہیں اور اگردنیا میں کہیں بھی کسی بھی عمارت کے شیشے وغیرہ بڑے باقاعدگی سے ہفتے میں یا پندرہ دنوں میں صاف ہوتے دکھائی دیں تو سمجھ جاِئیے اس عمارت میں کوئی نہ کوئی ترک رہائش پذیر ہے۔

اور آخر میں ترکی میں پھنسے ہوئے پاکستانی باشندوں کا ضرور ذکر کرنا چاہوں گا۔ ترکی، پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کی جانب سے بین الاقوامی پروازوں پر بندش کی وجہ سے کئی ایک پاکستانی باشندے استنبول کے ہوائی اڈے پر پھنس کر رہ گئے۔ ان پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئیں جس پر پاکستان کے سرکاری حکام کے علاوہ ترکی میں پاکستان کے سفیر محمد سائرس سجاد قاضی اور استنبول میں پاکستان کے قونصل جنرل بلال پاشا نے فوری طور پر اقدامات اٹھاتے ہوئے اس مسئلے کو ایسے وقت میں حل کرنے کی کوشش کی جس وقت ترکی کو خود اپنے غیر ممالک سے آئے باشندوں کے مسائل اور ان کو قرنطینہ میں رکھنے کے مسئلے کا سامنا ہے۔ سفیر پاکستان اور قونصل جنرل کی ذاتی کاوشوں اور محنت نے اس مسئلے کو حل کرنے میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا اور ان پاکستانیوں کی ایک ہوٹل میں رہائش کا بندو بست کیا۔ اس دوران ترکی کے وزیرخارجہ میولود چاوش اولو اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان ان پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے بارے میں ٹیلی فون پر بات چیت بھی ہوئی اور ترک وزیر خارجہ نے ہر ممکنہ امداد فراہم کرنے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ یہ تمام پاکستانی قرنطینہ کی مدت پوری ہونے کے بعد پاکستان روانہ کر دئیے جائیں گے۔

ڈاکٹر فر قان حمید

بشکریہ روزنامہ جنگ

کرونا وائرس : آپ نے قرنطینہ کیسے ہونا ہے؟

بہت سے لوگ سماجی دوری کی تیاری کے سلسلے میں خوراک اور دیگر سپلائی کو ذخیرہ کر رہے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے سوچا ہے کہ اگر آپ کووڈ19- میں مبتلا ہو گئے ہیں اور آپ نے خود کو قرنطینہ کرنا ہے تو آپ کو کن چیزوں کی ضرورت ہو گی؟ چین میں کووڈ19- کا شکار بننے والے تقریباً 80 فیصد افراد میں کم یا درمیانی شدت کی علامات ظاہر ہوئیں۔ اس کا مطلب ہے کہ گھر پر ہی ہماری بحالی ہو سکتی ہے۔ صحت عامہ کے ماہر اور محقق جینیفر ولیمز کہتے ہیں ”کووڈ 19- میں مبتلا ہونے کا امکان ہو یا پھر ٹیسٹ مثبت آنے پر کم سے درمیانی شدت کی علامات ہوں تو آپ بعض سہل قدم اٹھا سکتے ہیں۔

ایکشن پلان بنائیں: ڈاکٹر لیزاڈ کہتی ہیں ”گھر پر ایک خاص مدت کے قرنطینہ کی تیاری کا مطلب گھریلو پلان آف ایکشن کے ساتھ الگ رہنے کے دورانیے کے لیے اشیائے ضروریہ ذخیرہ کرنا ہے۔‘‘ ان کے مطابق اس امر کو یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس ایمرجنسی رابطے ہوں تاکہ آپ خاندان، دوستوں اور ساتھیوں سے بات کر سکیں اور ضرورت کی چیزیں آپ تک پہنچ سکیں۔ دو سے چار ہفتوں کی خوراک، صفائی کا سامان جیسا کہ سینی ٹائزر اور صابن، اور چند دیگر ضروری چیزیں جیسا کہ ٹشو کا انتظام ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق ”جب آپ خوراک کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو ایسی خوراک جمع کریں جو زیادہ وقت تک خراب نہ ہو اور اس میں غذائیت بھی ہو، مثال کے طور پر چاول، پاستا، دالیں، خشک میوے، ڈبہ بند کھانے کی اشیا اور جمی ہوئی سبزیاں۔‘‘ صحت کے لیے تازہ پھل اور سبزیاں بھی اہم ہیں۔ پھلوں اور سبزیوں سے بہت سے لازمی غذائی اجزا ملتے ہیں۔ انہیں خراب ہونے سے بچانے کے طریقے بھی ہیں۔ مثلاً ان سے سوپ بنا کر اسے جمایا جا سکتا ہے۔ آپ کھانے کی ایسی اشیا کو گھر ہی پر فریز کر سکتے ہیں۔

اشیا کی فہرست کچھ یوں ہونی چاہیے۔
صاف پانی: اگر آپ کووڈ 19- کی لپیٹ میں آ جائیں تو سپلائی کی فہرست میں پانی کو اولیت حاصل ہے۔ ایمورے یونیورسٹی سے منسلک اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رائے بیناروچ کے مطابق ”دیگر کئی وبائی امراض کی طرح کووڈ 19- بھی وبائی ہے، اس کا علاج یہی ہے کہ جب جسم بحالی کی کوشش میں مصروف ہو، اسے سکون ملے اور اس کا خیال رکھا جائے۔‘‘ان کے مطابق ”مطلوبہ مقدار میں پانی پینا اہم ہے، بالخصوص جب بخار زیادہ ہو۔‘‘ ولیمز کا کہنا ہے کہ کووڈ 19- کی علامات میں بخار، کھانسی، اسہال اور قے شامل ہیں۔ ان سے جسم میں پانی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے اور اگر وہ پوری نہ ہو تو جسم میں مائع کم ہو جاتا ہے۔ اگر بحالی کے عمل میں صحت مندانہ غذائیں نہ کھائی جائیں اور مائع نہ پیا جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

جسم میں پانی کی صحت مندانہ مقدار سے ناک کی بلغمی جھلی ٹھیک اور مستحکم رہے گی۔ اس سے کھانستے، چھینکتے، یہاں تک کہ سانس لیتے ہوئے ناک میں سوزش یا خراش پیدا نہیں ہو گی۔ نمی کے باعث جھلیاں نہیں پھٹتیں، اس لیے جسم میں مزید بیکٹیریا داخل نہیں ہوتے۔ عام صاف پانی بھی ٹھیک رہتا ہے، اگر آپ بوتل والا پیتے ہیں تو وہ بھی مناسب ہے، البتہ ماہرین کم از کم 15 دنوں کی سپلائی کی موجودگی ضروری بتاتے ہیں۔ اگر آپ کے گھر میں پینے کا صاف پانی آتا ہے اور دوسروں نے بھی وہیں سے پانی استعمال کرنا ہے تو اپنا پانی الگ بوتلوں میں جمع کر لیں۔

نیشنل اکیڈمیز آف سائنسز، انجینئرنگ اینڈ میڈیسن (امریکا) کے مطابق ساڑھے 15 کپ (3.7 لیٹر) مائع مردوں اور 11.5 کپ (2.7 لیٹر) عورتوں کو روزانہ لینا چاہیے، البتہ بیمار قدرے زیادہ پی سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ خوراک سے ہمیں 20 فیصد کے قریب مائع حاصل ہوتا ہے۔ کبھی کبھار کووڈ 19- کے کیسز میں معدے اور انتڑیوں کا شدید ورم ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں پانی کی کمی دور کرنے والے سالوشن ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

درد کی دوا: سب سے مفید وہ دوا ہو گی جس سے سر اور جسم کے درد اور بخار کو کم کیا جا سکے۔

ٹشو: وائرس سے آلودہ قطرے یا چھینٹے جو کھانستے، چھینکتے یا تھوکتے ہوئے نکلتے ہیں کووڈ 19- کے ایک سے دوسرے فرد میں انتقال کی بنیادی وجہ ہیں۔ اس لیے آپ کے پاس ٹشو پیپر ہونے چاہئیں تاکہ آپ انہیں ضرورت کے وقت استعمال کر سکیں۔

کھانسی کی دوا: زیادہ تر افراد کو شدید کھانسی ہوتی ہے۔ اگر آپ کو دمہ ہے یا نظام تنفس کی کوئی دوسری بیماری ہے، تو اس کی ادویات کا ہونا بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر سے مشورہ کیجیے۔ کھانسی کی عام ادویات اکثر مؤثر نہیں رہتیں۔ گلے کے لیے شہد مفید ہے۔ اگر آپ کو دمہ ہے یا نظام تنفس کا کوئی مرض ہے تو اضافی انہیلر اور ادویات آپ کے پاس ہونی چاہئیں۔ دیگر دیرینہ امراض کے لیے بھی یہی بات درست ہے۔ ذیابیطس، دل کے امراض اور نظام مدافعت کی خرابی سے کووڈ19- کے بگڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے لہٰذا ان مسائل کی صورت میں ان کی دوائیں آپ کے پاس ہونی چاہئیں۔ ان ادویات کی، جن کا ڈاکٹر نے مشورہ دیا ہے، چار ہفتوں کا ذخیرہ ہونا چاہیے۔

زنک: انڈیانا یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے ڈاکٹر مورٹن ٹاول کے مطابق کورونا وائرس کی علامات کو کم کرنے میں سب سے مقبول مشورہ زنک کا استعمال بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وبا میں زنک کی مقدار کچھ زیادہ لینے سے فائدہ ہونے کے براہ راست شواہد نہیں ملے لیکن اس میں ردِ وائرس خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ ایک لیبارٹری ٹیسٹ کے مطابق اس سے خلیوں میں کورونا وائرس کی نقول بننے کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

وٹامن سی: اس سے قوت مدافعت کے خلیوں کی سرگرمی اچھی ہوتی ہے، بالخصوص اس وقت جب وبا میں انہیں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔

ادرک اور ہلدی: یہ دونوں سوزش کے خلاف لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور بہت اچھی اینٹی آکسیڈنٹ ہیں۔ ہلدی میں وہ تمام اہم کیمیکلز ہیں جو زکام سے لڑتے ہیں اور معدے سے متعلق مسائل میں راحت دیتے ہیں۔

تھرمامیٹر: اگر آپ کو کووڈ 19- کا خدشہ ہے اور آپ کو ہلکی پھلکی علامات ہیں، تو آپ کے پاس دن میں دو بار درجہ حرارت چیک کرنے کے لیے تھرمامیٹر ہونا چاہیے۔ نیویارک ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ کا مشورہ ہے کہ علامات ظاہر ہونے کے بعد کم از کم سات دن تک گھر پر الگ رہنا چاہیے اور اس وقت تک جب تک علامات ختم ہوئے اور بخار اترے 72 گھنٹے نہ گزر جائیں۔ اگر علامات شدید ہونے لگیں تو متعلقہ ادارے اور شعبہ طب سے رابطہ کریں۔

صفائی کی اشیا: ان میں دستانے، صابن، ہینڈ سینی ٹائزر، سرفس کلینر، موپس اور سپونج شامل ہیں۔ ان کا مقصد گھر میں کورونا وائرس کے پھیلنے کو روکنا ہے۔

اضافی شیٹس، تولیے اور کپڑے: بیماری کے وقت آپ جس مقام کو چھوتے ہیں، اس پر بھی جراثیم آ جاتے ہیں۔ سخت سطح کو ڈس انفیکٹ کیا جا سکتا ہے لیکن کپڑوں، شیٹس اور تولیوں کے لیے آپ کو انہیں الگ اور طریقے سے رکھنا ہو گا اور گرم پانی سے دھونا ہو گا۔

الگ ہونے کی جگہ: اگر آپ بیمار ہیں تو آپ کو ایک الگ کمرے کی ضرورت ہے تاکہ دوسرے لوگوں سے ہر ممکن حد تک دور رہیں۔ ایسا کمرہ زیادہ بہتر ہے جس کے ساتھ باتھ روم بھی ہو۔

فرسٹ ایڈ کی کٹ: چھوٹے زخموں کے لیے ضروری چیزیں آپ کے پاس ہونی چاہئیں۔

کتابیں اور تفریح: ڈاکٹر جونز کا کہنا ہے کہ سیلف آئسولیشن یا الگ رہنے کے دوران اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا اہم ہے۔ اس لیے مذکورہ اشیا آپ کے پاس ہونی چاہئیں۔

مقامی طبی عملے یا ادارے اور ایمرجنسی کا نمبر: خیال رہے کہ اس مرض میں بخار اکثر زیادہ رہتا ہے، اس کے علاوہ اگر مریض کی علامات میں شدت ہو یا وہ بے چین ہو تو طب کے ماہر کو طلب کرنا اگلا قدم ہو گا۔ خیال رہے کہ خود کو قرنطینہ کرنے کا اقدام حکومتی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

تحریر : بوب کرلی
ترجمہ و تلخیص: وردہ بلوچ

بشکریہ دنیا نیوز

پاکستاں میں کورونا ریلیف میں تاخیر کیوں؟

وزیراعظم عمران خان نے کورونا کے خلاف بے حد دل نشین بیان دیا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ جذبہ ایمانی اور جوانوں کے ساتھ کورونا کو شکست دی جاسکتی ہے۔  قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ٹائیگر فورس میں طلبہ، انجینئیرز، نوجوان ڈاکٹرز، مزدور اور مکینیکل سمیت ہر شعبہ زندگی کے لوگوں کو شمولیت کی دعوت دی اور عوام سے کہا کہ وہ اس وقت مدینہ کے انصار اور مہاجرین جیسے جذبے کا اظہار کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں اشیائے خوردونوش کی کوئی قلت نہیں، اگر اس وقت بھوک سے اموات ہوئیں تو ذمے دار ذخیرہ اندوز ہو نگے جنھیں نشان عبرت بنا دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ 8 ارب ڈالر کا ریلیف پیکیج دیا ہے، بزرگوں، بیماروں کو زیادہ خطرہ ہے، مریضوں کو مجرموں کی طرح نہ دیکھا جائے، اور ہر نزلہ، زکام، کھانسی پر اسپتال جانیکی ضرورت نہیں۔

بلاشبہ گائیڈ لائنز، ہدایات اور حقائق کے اظہار پر مشتمل وزیراعظم کی معروضات قابل غور ہیں، کورونا کے پھیلتے ہوئے ہولناک منظر نامہ کا ادراک جہاں ریاست وحکومت کی سطح پر ہونا چاہیے، ویسا ہی فیڈ بیک اور حقیقت پسندانہ رد عمل اپوزیشن سیاسی جماعتوں، عوام، سول سوسائٹی اور ہیلتھ سسٹم کی بنیادوں سے جڑی قومی فورس کیلیے بھی آنا چاہیے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دکھی انسانیت سے ہمدردی رکھنے والوں نے کورونا کے خلاف جنگ میں اپنا حصہ خوب ڈالا ہے، ان کی جانب سے مریضوں کے لیے ایثار، انسان دوستی اور انتھک محنت اور علاج معالجہ میں بے مثال تعاون اور قربانی کے لازوال جذبہ کا اظہار دیکھنے میں آیا ہے، مگر دنیا ابھی ختم نہیں ہوئی، بہت سی انسانی کوتاہیاں، خطائیں اور منافقتیں بے نقاب ہوئی ہیں، دنیا سازشی تھیوریز کا سیلاب امڈ آنے پر بے قرار ہے۔

کورونا کی سفاک حقیقت پر کسی کو شک نہیں مگر ماہرین، دانشور اور ڈاکٹر برادری کے بعض مضطرب حلقوں نے کورونا کی وبا کے اندر چھپی کچھ حقیقتوں کا ذکر پرنٹ اور سوشل میڈیا پر کیا اور بعض میڈیکل سائنس کے جرائد میں کورونا زیر بحث آیا ہے، مقصد صرف یہ واضح کرنا تھا کہ اس وائرس کے خاتمہ کے لیے ہنگامہ برپا کرنے کی ضرورت نہیں، اللہ نے وطن عزیز پر کرم کیا ہے، ابھی پاکستان میں ہلاکتوں کا گراف تشویشناک نہیں ہے جس میں ملکی مسیحاؤں حکومت اور دوست ملکوں بطور خاص چین کی مہربانی اور لازوال دوستی کام آئی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ 22 کروڑ اہل وطن کی معاشی، انسانی، سماجی مجبورویوں کا احساس بھی پیش نظر رکھا جائے۔

لاک ڈاؤن ضرور ہو، قانون نافذ کرنے والے ادارے پورے طریقے سے مستعد ہوں لیکن خلق خدا کو کورونا کی جنگ میں خوف، بے بسی، بھوک، بیروزگاری اور ریلیف کی عدم دستیابی کے ہاتھوں نیم جاں نہ کیا جائے، حکومت کے کثیر جہتی ریلیف پیکیجز بلاتاخیر مستحق لوگوں، غریبوں، دیہاڑی دار افرادی طاقت کی دہیلز تک پہنچنا شرط ہے، ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزرا ہے، نقد امداد، کھانے پینے کی اشیا اور دیگر سامان لوگوں کو جلد مل جانا چاہیے، ٹی وی چینلز پر سفید پوش خاندان، گداگر، مفلوک الحال مزدور برادری اور گھر میں قید افراد اور بچوں کو کورونا سے نجات کے لیے ہر وہ سہولت دی جانی چاہیے جو اس موذی وبا سے لڑتے ہوئے امداد کی شکل میں دی جاسکتی ہے، خوف سے پاکستانی عوام کو نجات ملنا بھی کورونا سے جنگ کی طرف پیش قدمی ہی ہے۔

عام لوگوں میں لاک ڈاؤن اور کرفیو کے ممکنہ نفاذ کے بارے میں بے چینی ہے اس کا سدباب ناگزیر ہے، ہر فیصلہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت عالم کو تاریخ ساز چیلنجز کے مقابل لاکھڑا کر کے کورونا وائرس نے کئی حقائق، تصورات، تضادات، نقصانات اور کوتاہیوں کو بے نقاب کیا ہے، جن نگاہوں نے کورونا کی آفرینش کو ابتدا سے دیکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ جو چیزیں اب طے کی جارہی ہیں وہ پہلے ہو جانی چاہیے تھیں، 70 سال سے ملک میں ادارے نہیں بنائے، آج اس کے نتائج ساری قوم بھگت رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کورونا کی اصل صورتحال کا اعلان پانچ سے سات دنوں میں کر دیا جائیگا۔ بیماری سے سب کو نہیں بزرگوں اور بیماروں کو زیادہ خطرہ ہے، مریضوں کو مجرموں کی طرح نہیں دیکھنا چاہیے، ہر نزلہ، زکام، کھانسی والے کو اسپتال جانے کی ضرورت نہیں، تنہائی اختیار کر کے گھر پر بھی علاج کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم نے کارخانوں کے مالکان سے کہا وہ مزدوروں کو ملازمتوں سے نہ نکالیں، انھیں سستے قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا دنیا کی پہلی فلاحی ریاست مدینہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے، نیشنل بینک میں وزیر اعظم کورونا ریلیف فنڈ قائم کر دیا گیا ہے، ضرورت مند شہری احساس پروگرام کے فیس بُک پیج پر خود کو رجسٹر کر کے بنیادی ضروریات حاصل کر سکتے ہیں، خیرات و صدقات دینے والے بھی اپنے آپ کو اس پیج پر رجسٹرڈ کرا سکتے ہیں۔ ریلیف کے کام کو باقاعدہ مربوط انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ساری دنیا کورونا کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، ہر ملک اپنی استعداد کے مطابق کوششیں کر رہا ہے۔ دیرینہ دوست چین یہ جنگ جیتنے میں کامیاب ہوا، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنے متاثرہ علاقے کے دو کروڑ لوگوں کولاک ڈاؤن کر دیا تھا۔

اگر پاکستان میں چین جیسے حالات ہوتے تو میں بھی سارے شہروں کو بند کر دیتا مگر پاکستان کی 25 فیصد آبادی شدید غربت، 20 فیصد غربت کی لکیر کے اردگرد زندگی گزار رہی ہے۔ لاک ڈاؤن سے 8 تا 9 کروڑ لوگوں کا مسئلہ بن جاتا ہے کہ ان کا دھیان کیسے رکھیں۔ بھارتی وزیراعظم کو قوم سے معافی مانگنی پڑ رہی ہے کیونکہ انھوں نے سوچے سمجھے بغیر لاک ڈاؤن کر دیا تھا۔ اب اگر بھارت لاک ڈاؤن ختم کرتا ہے تو کورونا پھیلنے کا خطرہ ہے۔ اگر لاک ڈاؤن برقرار رکھتا ہے تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے، کورونا وائرس سے حکمت کے ساتھ نمٹنا ہے۔ اسلام آباد یا اس کے کسی پوش علاقے کو بند کرنے سے لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوتا۔ اگر غریب علاقوں میں لوگ ملتے رہیں اور امیر علاقے محفوظ رہیں تو ایسا بھی ناممکن ہے۔

برطانوی وزیراعظم کی مثال سب کے سامنے ہے۔ وسائل سے یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی، ساری قوم کو مل کر یہ جنگ جیتنی ہے۔ ہم نے اپنی طاقت کے مطابق اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ ہم نے 8 ارب ڈالر جب کہ امریکا نے 2 ہزار ارب ڈالر کا ریلیف پیکیج دیا ہے۔ سب سے بڑی چیز ایمان اور دوسری طاقت ہمارے نوجوان ہیں ان دونوں طاقتوں کو استعمال کرتے ہوئے کورونا کے خلاف جنگ جیتیں گے۔ ٹائیگر فورس بند کیے جانے والے علاقوں میں بنیادی ضروریات پہنچائے گی، وزیراعظم ہاؤس میں مانیٹرنگ سیل قائم کر دیا ہے، جو کورونا کے پھیلاؤ کو مانیٹر کر رہا ہے۔ احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کو 12، 12 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے، ریلیف کے کام کو باقاعدہ مربوط انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے جس میں اضافہ بھی کیا جائے گا اور اس فنڈ کے ذریعے بھی ان کے لیے رقوم فراہم کی جائیں گی، فنڈ کا باقاعدہ آڈٹ ہو گا اور کوئی بھی اس کے بارے میں معلومات حاصل کر سکے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 1200 ارب کے وزیراعظم ریلیف پیکیج کی خوش آیند منظور دی ہے، ریلیف کے تحت مزدوروں کے لیے 200 ارب، درآمدی شعبے اور صنعتوں کے لیے 100 ارب، بجلی، گیس بلوں میں ریلیف کیلیے 110 ارب مختص کیے گئے، ہنگامی فنڈ کے لیے 100 ارب، یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے 50 ارب، این ڈی ایم اے کو 25 ارب جاری کرنے کی منظوری دی جاچکی ہے جب کہ معیشت کا پہیہ جاری رکھنے کے لیے صنعتوں کی فہرست تیار کی جارہی ہے، گندم کٹائی سے وابستہ افراد کو نقل وحمل میں سہولت فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، ایک احسن فیصلہ یہ بھی ہوا جس کے تحت سندھ میں دودھ کی دکانیں رات 8 بجے تک کھلی رکھنے کی اجازت دی گئی۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ کورونا وائرس سے حفاظت کے لیے فرنٹ لائن پر مامور ڈاکٹرز، نرسوں اوردیگر پیرا میڈیکل اسٹاف کو ذاتی حفاظتی سامان فراہم کر دیا گیا ہے، این ڈی ایم اے میں ون ونڈو بھی کھولی گئی ہے، معاون خصوصی معید یوسف کے مطابق ٹرینیں اور ٹرانسپورٹ چلانے کا فیصلہ نہیں ہوا، وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ریلوے سٹیشنوں پر قرنطینے کی سہولتوں کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے صارف قرضوں کو ایک سال تک موخر کرنیکی چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے، سندھ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا کہ نجی ادارے ملازمین کو فوری طور پر تنخواہیں ادا کر دیں ، تنخواہوں کے معاملات کے لیے سندھ میں ہنگامی سیل قائم کر دیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیش اماموں و دیگر کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے کی ہدایت کر دی۔

ایک اطلاع کے مطابق ایشین ترقیاتی بینک ( ای ڈی پی) نے کورونا کے علاج کے لیے پاکستان کو 2 ملین ڈالر کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 40 فی صد کمی کی اطلاع ہے، یاد رہے وفاقی حکومت نے یکم اپریل سے پٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ بند کرنے اور خام تیل کی درآمد بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسٹاک مارکیٹ میں بھی شدید اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں میں محتاط رویہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں اور فہمیدہ حلقوں نے عندیہ دیا ہے کہ لاک ڈاؤن اور کرفیو کی بحث کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کا وقت ہے، عوام بے بسی کا شکار ہو رہے ہیں، بیروزگاری اور اشیائے خوردونوش کی قلت اور گھروں میں محصور ہونے پر عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، وزیر اعظم اس ’’تنگ آمد ‘‘ پر اپنے خدشات پہلے سے ظاہر کر چکے ہیں، لہذا حکومت کے لیے سخت لاک ڈاؤن اور ہر طرح کی سماجی بندش کے درمیان ایک حقیقت پسندانہ توازن رکھنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کورونا وائرس کب خطرناک ثابت ہوتا ہے؟

کورونا وائرس جب کسی شخص پر حملہ آور ہوتا ہے تو عام نزلہ، زکام، کھانسی اور بخار جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔ عمومی علامات کے حامل مریضوں کی شرح 80 فیصد ہوتی ہے مگر بعض لوگوں میں شدید عوارض کا سبب بنتا ہے، یہ عموماًَ 20 فیصد لوگ ہوتے ہیں۔ یہ شدید عارضہ ’’ایکیوٹ ریسپائیریٹری ڈسٹریس سنڈروم‘‘ (اے۔آر۔ڈی۔ایس) ہے، کیونکہ اس کی علامات ان مریضوں سے ملتی جلتی ہیں جنھیں نمونیہ لاحق ہوتا ہے اور جن کے پھیپھڑوں میں پانی پڑ جاتا ہے اس لیے تشخیص کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ ان کے درمیان جلدی تشخیص کے لیے بہتر ہے کہ ’بلڈ کلچر ٹیسٹ‘ کرایا جائے۔ چنانچہ اگر نمونیہ ہے تو بیکٹیریا دریافت ہو گا، اگر پھیپھڑے میں پانی ہے تو دل کی بیماری ہو گی اور ’تھوک کا کلچر‘ کرانے پر ’کلیبزیلا‘ پھپھوندی تھوک میں پائی جائے گی۔

ایکیوٹ ریسپائیریٹری ڈسٹریس سنڈروم (اے۔آر۔ڈی۔ایس) کیا ہے؟
یہ دراصل سانس کی شدید تنگی کا نام ہے، جس میں تیز بخار کے علاوہ جسم کے پٹھوں اور عضلات میں دُکھن، سانس کی رفتار میں تیزی جو آکسیجن کو زیادہ جذب کرنے کی کوشش ہوتی ہے، بلڈ پریشر میں کمی، خشک کھانسی، ناخنوں اور جِلد کی بے رنگینی، سر درد اور چکر بھی شامل ہیں۔

کورونا اے۔آر۔ڈی۔ایس کا باعث کیسے بنتا ہے؟
کورونا وائرس کا اصل حملہ پھیپھڑوں پر ہوتا ہے۔ جس سے پھیپھڑے کے لا تعداد خلیات کو نقصان پہنچتا ہے۔ مُردہ خلیات پھیپھڑے میں موجود بلغم کے ساتھ آمیزہ بنا کر اسے نہایت گاڑھا کر دیتے ہیں۔ لہذا چھوٹی چھوٹی ہوائی نالیوں میں اس بلغم کے پھنسنے سے سانس میں نہ صرف دشواری ہوتی ہے بلکہ یہ پھٹ بھی جاتی ہیں۔ بوڑھوں اورچھوٹے بچوں کے جسم کیونکہ نازک ہوتے ہیں اس لیے انہیں یہ وائرس جلد ہی شدید نقصانات اور تکالیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔ رقیق سے گاڑھے مواد کی جانب سفر کرنا جسمانی رطوبات کا خاصہ ہے، اسی وجہ سے پھیپھڑے میں تکلیف دہ مواد بڑھتے رہتے ہیں جبکہ پیاس کی شدت برقرار رہتی ہے۔ اور شدید کھانسی بھی ساتھ ہی آتی رہتی ہے اور پیٹ میں درد کے باعث مریض بے چین رہتا ہے۔

جب تک اے۔آر ۔ڈی۔ایس کی نوبت نہ پہنچے، کورونا کے مبتلا مریض کے صحت مند ہونے کی امید رہتی ہے۔ اس کیفیت میں پھیپھڑے کے اندرونی جھلی میں شدید ورم ہو جاتا ہے۔ یوں پھیپھڑے آکسیجن کو جذب کرتے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ نتیجے میں جسم نیلے رنگ کا اور خون جمنے لگتا ہے۔ نیز ایسے مریض کے ہونٹ اور رخسار نیلے پڑ جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ اے۔آر۔ڈی۔ایس کا باعث لازمی نہیں کہ صرف کورونا ہی ہو، بلکہ دل کی دواء کا زیادہ استعمال، موٹاپا اور شراب کی کثرت سے بھی یہ کیفیت لاحق ہو جاتی ہے۔ نیز کورونا کا وہ اسٹرین جو شرحِ اموات میں اضافے کا باعث ہے وہ یہی اے۔آر۔ڈی۔ایس کے ذریعے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ گاڑھا خون دل کی چھوٹی شریانوں میں جم جاتا ہے تو دل کا دایاں حصہ فیل ہو جاتا ہے۔

اسی لئے ایسی کیفیت میں خون کے قوام کو رقیق کرنے والی ادویہ دی جاتی ہے۔ غرضیکہ اے۔آر۔ڈی۔ایس ایک ایسی کیفیت ہے کہ کورونا کا مریض اکثر دل کے فیل ہونے سے فوت ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ جو اسباب پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بالواسطہ وہی دل کو لاغر کرتے ہیں۔ کورونا وائرس کی مدت ِ حصانت (انکیوبیشن پریڈ): عموماً اس جراثیم کی مدتِ حصانت 2 تا 14 دن بتائی گئی ہے مگر بعض علاقوں میں 27 دن بھی دیکھی گئی ہے۔ ان ایام تک مریض کو اس وائرس کی خبر نہیں ہوتی، اس کے بعد عوارض لاحق ہوتے ہیں۔ پاکستان میں عموماً پانچ دن مدتِ حصانت دیکھی گئی ہے۔

کورونا وائرس سے زیادہ تر کون لوگ متاثر ہوتے ہیں؟
کورونا سے زیادہ ترچھوٹے بچے، بوڑھے لوگ اور وہ لوگ جن کے دل اور پھیپھڑے لاغر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی قوتِ مدافعت کمزورہوتی ہے متاثرہوتے ہیں 60 سال سے کم عمر والے اشخاص میں اس وائرس کے ہلکے عوارض کو برداشت کرتے کی قوت دیکھی گئی ہے۔

کورونا کی عمومی علامات
۔ بخار 100.4 ڈگری فارن ہائٹ۔
۔ خشک کھانسی۔
۔ سانس میں دشواری۔
۔ نزلہ زکام جس میں سینہ جکڑا ہوتا ہے۔

شدید علامات
۔ مسلسل کھانسی۔
۔ ہاتھ پاؤں میں دُکھن اور اینٹھن۔
۔ مسلسل تیز بخار۔102.6 ڈگری فارن ہائٹ سے فکرمند ہو جانا چاہئیے۔
۔ اے۔آر۔ڈی۔ایس۔

اسباب
۔ پراگندہ ماحول۔
۔ زیادہ نزلہ و زکام رہنا۔
۔ کسی بیمار فرد کی چھینک یا کھانسی کا قطرہ صحت مند فرد کے آنکھ، ناک یا منہ میں جانا۔
۔ ایسا علاقہ جہاں گاڑیوں کا زیادہ دھواں ہے۔
۔ ’امیونو سپریزینٹ‘ ادویہ کا استعمال کیونکہ یہ قوتِ مدافعت کو کمزور کرتی ہیں۔

احتیاط
۔ ناک اور منہ پر ’این 95‘ ماسک کا استعمال کریں یہ خاص ماسک ہی وائرس سے بچا سکتا ہے کیونکہ کورونا وائرس کا سائز 0.5 سے .02 مائیکرون ہوتا ہے، عام سرجیکل ماسک کا استعمال اس وائرس سے تحفظ کے لئے نا کارہ ہیں۔

 ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اس سیینی ٹائزر سے ہاتھ دھوئیں جس میں یہ اجزاء شامل ہوں: ایتھانول 96 فیصد، ہائیڈروجن پر آکسائیڈ 3 فیصد، گلائی سیرول 98 فیصد اور ڈسٹل واٹر۔

 ۔ لیٹیکس داستانے پہنیں۔
اے ۔آر۔ڈی۔ایس کا علاج
کیونکہ یہ پھیپھڑے کا شدید ورم اس لئے اس کے علاج میں کارٹیکو اسٹیرائیڈ کے علاوہ درج ذیل ادویہ دی جاتی ہیں:
بول آور ادویہ ، مصنوعی آکسیجن دینا اور وینٹیلیٹرز کا استعمال۔ ان ادویہ کے علاوہ خاص مرض کی دواء کا بھی استعمال کرایا جاتا ہے۔ کورونا میں مبتلا مریضوں کو اکثر ’ کلورو کوئین بمعہ ایزی تھرو مائیسین‘ سے فائدہ دیکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر حکیم وقار حسین

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کورونا کے ساتھ ر ہنا سیکھیں

پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاک ڈائون کے تحت سخت حفاظتی اقدامات، پابندیوں اور احتیاطی تدابیر کے باوجود کورونا وائرس کے پھیلائو میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اب تک 206 ممالک اس مہلک مرض کی لپیٹ میں آچکے ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 50 ہزار کی حد کو چھونے والی ہے۔ ان میں سے 30 ہزار کا تعلق صرف یورپ سے ہے۔ مریضوں کی تعداد ساڑھے 9 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے غریب ممالک کی مدد کیلئے عالمی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی معیشت پر کورونا کے طویل مدتی اثرات ہوں گے۔ تناسب کے اعتبار سے پاکستان میں صورتحال بظاہر زیادہ سنگین نہیں دکھائی دیتی۔ 

 وزیراعظم عمران خان بھی کہہ رہے ہیں کہ کورونا وائرس مزید بڑھے گا لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں اضافہ کس شرح سے ہو گا۔ انہوں نے درست کہا کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو متاثرین کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ بےیقینی کی اس کیفیت میں وفاقی حکومت نے صوبوں کی جانب سے نافذ کیے گئے ملک گیر لاک ڈائون کی مدت میں مزید دو ہفتے تک اضافے کا اعلان کیا ہے۔ جس کے بعد اس میں مزید سختی یا نرمی لانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت سندھ نے اپنے طور دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک پورے صوبے کو مکمل بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے پولیس کو خصوصی ہدایت کی ہے۔ 

بیرونِ ملک پھنسے ہوئے 2 ہزار اوور سیز پاکستانیوں کو لانے کے لیے پی آئی اے کی 17 پروازیں بحال کی گئی ہیں جبکہ وزیراعظم نے تعمیراتی صنعت کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مزدور طبقے کو روزگار مل سکے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے گندم کی کٹائی میں سہولت کے لیے لاک ڈائون میں نرمی کے اعلان کے علاوہ دہاڑی دار مزدوروں کے لیے امدادی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ڈاکٹر، نرسیں، دوسرا طبی عملہ اور فوج کے جوان نہایت دل جمعی سے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے انتہائی قابلِ تحسین عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سینٹر میں ایک بریفنگ کے دوران جوانوں سے کہا ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں مدد کے لیے ہر شہری تک پہنچیں۔ 

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ہم نے بلاتفریق رنگ، نسل و مذہب ایک قوم بن کر اس وبا سے لڑنا ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں لوگوں کو کورونا وائرس کے برے معاشرتی و معاشی اثرات سے بچانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں مگر یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے وسیع تناظر میں سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ ہمیں شاید توقع سے زیادہ عرصے تک اس وبا کے ساتھ رہنا ہو گا اس لیے اس سے بچائو کے روایتی اور غیر روایتی تمام طریقے اپنانا ہوں گے۔ لہٰذا جب تک اس کی ویکسین تیار نہ ہو جائے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ 

ٹھنڈے ممالک میں گرم کپڑے اور بارش والے خطوں میں چھتریوں کا استعمال لوگوں کا معمول ہے اسی طرح کے طریقے کورونا کے خلاف بھی تلاش کیے جانے چاہئیں جو احتیاطی تدابیر پر مبنی ہوں۔ انسانوں میں قدرت نے مزاحمت کی قوت پیدا کی ہے، جب تک کورونا سے لڑائی جاری ہے یہ قوت ہماری حفاظت کرے گی۔ یقین رکھنا چاہیے کہ دنیا میں آنے والی دوسری آفات کی طرح اس وبا پر بھی جلد قابو پالیا جائے گا۔ ضرورت صرف احتیاطی اقدامات پر عمل کرنے کی ہے جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

شاید خدا ہمیں کورونا وائرس کی سنگینی سے بچانا چاہتا ہے

ملک میں حکام پر امید ہیں کہ پاکستان کو کورونا وائرس کی وجہ سے اتنے سنگین بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جتنا چین، برطانیہ، امریکا، ایران اور کچھ دیگر یورپی ممالک کو کرنا پڑا ہے۔ وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والی اطلاعات انتہائی حوصلہ افزا ہیں کیونکہ وائرس بظاہر مقامی آبادی کیلئے اتنا خطرناک ثابت نہیں ہو رہا جتنا دنیا کے دیگر حصوں کے لوگوں کیلئے ثابت ہوا ہے۔ این آئی ایچ کے چیف میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرام نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ جینیاتی، سماجی، طبی اور دیگر وجوہات کی بناء پر پاکستان کورونا وائرس کے حملے کی سنگینی سے محفوظ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے لیکن ہلاکتوں کو چھپایا نہیں جا سکتا اور پاکستان کے معاملے میں وائرس سے ہونے والی اموات اور تعداد پریشان کن نہیں ہے۔

میجر جنرل عامر اکرام نے اس یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس سے جڑی شرح اموات پاکستان میں بہت کم ہے۔ ایک اور سرکاری ذریعے نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت نامناسب ہیں اور اسی لیے ملک میں متاثرہ افراد کی اصل تعداد اعلانیہ 2200؍ سے کہیں زیادہ ہو۔ تاہم، اس کے باوجود مرنے والوں کی تعداد اور وائرس کی وجہ سے بیمار مریضوں کی تعداد بہت کم ہے؛ یہ بات حوصلہ افزا ہے اور ساتھ میں چین، اٹلی، ایران، اسپین، برطانیہ، امریکا اور کچھ دیگر انتہائی زیادہ متاثرہ ممالک کے مقابلے میں مختلف ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 90؍ فیصد مریضوں میں بیماری کی علامات بھی نہیں لیکن باقی دس فیصد مریضوں میں سے جن کی حالت سنگین ہے ان کی تعداد بھی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنگین علیل ایسے مریض جنہیں وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے ان کی تعداد بھی 24؍ سے کم ہے۔ سرکاری ذریعے نے کہا کہ جو حالات نظر آ رہے ہیں، لگتا ہے کہ خدا ہمیں اس وائرس کی سنگینی سے بچانا چاہتا ہے، اپریل کا پہلا ہفتہ حالات اور صورتحال واضح کر دے گا۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے اثرات کے کم ہونے کے حوالے سے کوئی ٹھوس وجوہات بیان نہیں کی گئیں لیکن بہتر قوتِ مدافعت اور موسم کی صورتحال کا ذکر ضرور کیا جا رہا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان نے حال ہی میں کہا تھا کہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں پھیلنے والے کورونا وائرس کی قسم چین سے پھیلنے والے وائرس کے مقابلے میں مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین میں پھیلنے والے وائرس کے کروموسوم پاکستان میں پھیلنے والے وائرس سے مختلف ہیں۔ چند امریکی سائنسدانوں کے مطابق، خطے میں ٹی بی سے بچائو کیلئے پاکستان اور بھارت وغیرہ میں پیدائش کے وقت بچوں کو دی جانے والی ویکسین جان لیوا کورونا وائرس کیخلاف جنگ میں ’’گیم چینجر‘‘ ثابت ہو سکتی ہے۔ اٹلی اور امریکا کی مثال پیش کرتے ہوئے نیویارک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے اثرات کی سنگینی کا بچوں کو بی سی جی ویکسین کے پروگرام کے ساتھ تعلق ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق ابھی شائع ہونا باقی ہے۔ نیویارک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں بایو میڈیکل سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر گونزالو اوتازو کی قیادت میں محققین نے لکھا ہے کہ ’’ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے ممالک جہاں بی سی جی ویکسین کی پالیسی نہیں ہے، مثلاً اٹلی نیدرلینڈز اور امریکا، ایسے ممالک کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں طویل عرصہ سے بی سی جی ویکسین کا پروگرام جاری ہے۔ تحقیق کے مطابق، بیماری اور اموات کی شراح کم ہونے کی وجہ سے بی سی جی ویکسین کورونا کیخلاف گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

امریکا میں کورونا کیسز کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

امریکا میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار افراد کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ جبکہ ہلاکتیں ساڑھے 4 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ اور اب امریکا میں اتنی تیزی سے پھیلتے وائرس کی وجہ بھی وہاں کے ماہرین نے بیان کر دی ہے اور وہ ہے ایسے مریض جن میں اس کی علامات ظاہر ہی نہیں ہوئیں۔ گزشتہ دنوں دنیا میں سب سے زیادہ ٹیسٹ کرنے والے ملک آئس لینڈ کے ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 50 فیصد کیسز ایسے تھے جن میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔ امریکا کے ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے ڈائریکٹر کے مطابق امریکا میں ایسے کیسز کی تعداد 25 فیصد تک ہو سکتی ہے جو اس وائرس کو آگے لوگوں تک پھیلا رہے ہیں۔

سی ڈی سی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے ایک انٹرویو میں بتایا ‘تفصیلات سے اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بڑی تعداد میں مریض ایسے ہیں جن میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور اس کی تعداد 25 فیصد تک ہو سکتی ہے’۔ اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے امریکا کے معروف وبائی امراض کے ماہرین نے فیس ماسکس کو ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کووڈ 19 کے حوالے سے قائم ٹاسک فورس میں شامل ڈاکٹر انتھونی فوچی کے مطابق وہ عام عوام کو فیس ماسکس پہننے کی تجویز دینے پر غور کر رہے ہیں، ابھی یہ طے تو نہیں ہوا، مگر ایسا بہت جلد ہو سکتا ہے۔ اگر امریکی انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر فیس ماسک کے استعمال کی ہدایت کی گئی تو سی ڈی سی کی جاری کردہ ہدایت کےخلاف ہو گا جس میں کہا گیا ہے کہ فیس ماسک صرف طبی ورکرز، بیمار افراد اور ان کا خیال رکھنے والوں کو پہننچے چاہیے۔

عالمی ادارہ صحت کا بھی کہنا ہے کہ فیس ماسک کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے تاہم اب وہ بھی اس حوالے تحقیق کر کے شواہد جمع کر رہا ہے۔ عالمی ادارے کے ڈائریکٹر نے کہا کہ وہ ایسے شواہد جمع کر رہے ہیں جن کی بنیاد پر کورونا وائرس کی وبا کے دوران لوگوں کو فیس ماسک کے استعمال کا مشورہ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ابھی نیا وائرس ہے اور ہم مسلسل اس کے بارے میں سیکھ رہے ہیں، تو جیسے جیسے وبا آگے بڑھ رہی ہے، وہیسے ہی شواہد بھی سامنے آرہے ہیں اور ہماری تجاویز بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ امریکی صدر نے ملک میں تیزی سے بڑھتے کورونا وائرس کیسز کے باعث عوام کو حفاظتی تدابیر کے طور پر مشورہ دیا کہ اگر ماسک دستیاب نہیں تو وہ عارضی طور پر اسکارف کا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’تقریباً ہر کسی کے پاس اسکارف ہوتا ہے، جو لوگ ماسک پہننا چاہتے ہیں وہ پہن لیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن میں مشورہ دوں گا کہ بازار جا کر ماسک خریدنے کے بجائے اسکارف پہن سکتے ہیں‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ویسے تو ہم بڑی تعداد میں ماسک تیار کر رہے ہیں تاہم یہ ہسپتال بھیجنے کے لیے ہیں، جہاں ان ماسک کی سب سے زیادہ ضرورت ہے‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایسا صرف مختصر وقت کے لیے کرنا ہو گا اور امید ہے کہ جلد کورونا وائرس سے سب کو نجات مل جائے گی۔  امریکا میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں جہاں اضافہ ہوتا جارہا ہے وہیں حکام خبردار کر رہے ہیں کہ عوام کے گھروں میں رہنے اور ایک دوسرے سے رابطہ کم سے کم کرنے کے باوجود وائرس ایک لاکھ سے 2 لاکھ 40 ہزار کے قریب امریکیوں کو ہلاک کر سکتا ہے۔

بشکریہ ڈان نیوز

فطرت سے ‘پنگا’ جاری رہے گا

فطرت انسان کی دوست ہے اگر اس کے ساتھ سیدھے سبھاؤ شرافت کے ساتھ چلا جائے۔ فطرت کے ساتھ سیان پتی، ڈیڑھ ہوشیاری، مکاری، منافقت، دھوکہ دہی اور ظلم کبھی پھل نہیں دیتا۔ بقول عبید اللہ علیم

کوئی قاتل نہیں گذرا ایسا
جس کو تاریخ بچا کر لے جائے

اس کرہِ ارض پر جو بھی نباتات و جمادات و حیاتیات ہے سب کی سب آدمی نامی جاتی سے بہت پہلے کی ہے۔ آدمی کو تو ارتقائی پیمانے کے اعتبار سے انسان بنے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے ہیں لیکن اس شریر بچے نے اپنی چند لاکھ سال کی مختصر ارتقائی عمر میں ہی وہ ادھم مچا دیا ہے کہ زمین کی ہر شے تنگ ہے۔ مگر دیگر جاندار اور فطرت چونکہ انسان کے مقابلے میں زیادہ وسیع القلب اور خاندانی ہے اس لیے وہ کبھی کبھار انسان کو ڈانٹتی ہے، کان کھینچتی ہے اور انسان تب بھی اڑا رہے تو بسا اوقات تشریف پر ایسا ٹھڈا پڑتا ہے کہ انسان بلبلا اٹھتا ہے اور پھر کچھ عرصے بعد وہی حرکتیں زیادہ شد و مد کے ساتھ کرتا ہے۔ دنیا کی کوئی دوسری مخلوق اپنا گھر اپنے ہاتھوں نہیں اجاڑتی یہ اعزاز صرف نسلِ انسانی کو حاصل ہے کوئی زی روح اپنے ہم نسل کو جان بوجھ کر ایذا نہیں پہنچاتا مگر انسان اس وصف پر بھی قادر ہے۔

کہنے کو تو انسان اپنے تئیں سب سے عالی دماغ ہے پر اسے یہ سامنے کی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ فطرت سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں وہ فطرت کا ایک جوابی تھپڑ بھی نہیں سہہ سکتا مگر کیا کریں پھنے خانی ہے کہ نہیں جاتی ۔ زلزلہ، سیلاب، بیماری ان میں سے کوئی بھی انسان کو نقصان نہیں پہنچاتا اگر انسان خود کو نقصان پہنچوانے کا بارِ دگر و مسلسل اہتمام نہ کرے۔ کیا وجہ ہے کہ جون 1992 میں جب کیلی فورنیا میں سات اعشاریہ تین کا زلزلہ آیا تو تین اموات ہوئیں اور چار سو کے لگ بھگ لوگ زخمی ہوئے گیارہ مارچ دو ہزار گیارہ کو جاپان میں اعشاریہ نو شدت کا زلزلہ اور اس کے نتیجے میں سونامی آیا تو مالی نقصان اربوں ڈالر کا ہوا مگر اس سانحے میں صرف انیس ہزار تین سو انسانی جانیں تلف ہوئیں۔

اس کے برعکس جب شمالی پاکستان میں آٹھ اکتوبر 2005 کو محض سات اعشاریہ چھ شدت کا زلزلہ آیا تو لگ بھگ نوے ہزار جانیں گئیں اور ہزاروں عمارتیں ڈھے گئیں۔ کیلی فورنیا اور جاپان میں کم جانی نقصان کی صرف ایک وجہ تھی وہاں کے زمہ داروں کو بیسیوں برس پہلے سے معلوم تھا کہ ہم زلزلے کی گذرگاہ میں ہیں لہذا بلڈنگ کوڈ ایسا بنایا جائے کہ جھٹکا بھلے جتنا بھی شدید آئے مگر انفراسٹرکچر تباہ ہونے کے باوجود انسانی اتلاف کم سے کم رہے جبکہ پاکستان میں نسبتاً کم درجے کے زلزلے میں بھی اس قدر جانی نقصان یوں ہوا کہ یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ شمالی پاکستان اور کشمیر کے متعدد علاقے زلزلے کی پٹی پر واقع ہیں بلڈنگ کوڈ وہی اپنایا گیا جو پاکستان کے دیگر علاقوں میں لاگو تھا۔ چلیے کوئی بات نہیں اتنی بھاری چوٹ کھانے کے بعد بھی عقل آجائے تو کیا برا ہے مگر آج زلزلے کے پندرہ برس بعد بھی بالاکوٹ ہو کہ مظفر آباد، گڑھی حبیب اللہ ہو کہ بٹا گرام، وہی طرزِ تعمیر، وہی کنکریٹ کی عمارت سازی اور وہی اللہ مالک ہے کا ورد جو آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ سے پہلے تھا۔

گویا اس جھٹکے سے یہ سیکھا کہ کچھ نہ سیکھا اب کے خدانخواستہ اتنی ہی شدت کا زلزلہ آیا تو پہلے کی طرح پانچوں انگلیاں دوسرے کی جانب یا آسمان کی طرف اٹھیں گی اور حکومت سمیت ہر شخص ہمیشہ کی طرح خود کو بری الزمہ قرار دے دے گا۔ اسے کہتے ہیں نیشنل کیریکٹر یعنی کردار کی پختگی۔ دوسری مثال جولائی اگست ستمبر 2010 کا سیلاب ہے جس میں ایک چوتھائی پاکستان زیرِآب آ گیا۔ ڈیڑھ ہزار سے زائد جانوں کا اتلاف ہوا اور پاکستانی معیشت کو لگ بھگ دس ارب روپے کا ٹیکہ لگا۔ سیلاب تو پاکستان میں تقریباً ہر سال آتے ہیں مگر دو ہزار دس کا سیلاب اتنا تباہ کن کیوں تھا؟ اس سے پہلے 1951، 1973 اور 76 میں بھی بد ترین سیلاب آئے تھے۔ سبق لینے کے بجائے لوگوں نے یہ کیا کہ دریاؤں سے زمین چھیننی شروع کر دی۔ دریاؤں کا پاٹ سکڑتا چلا گیا۔ لالچ کا بس نہیں چلتا تھا کہ دریا کو نالے میں تبدیل کر دے۔

ہزاروں برس سے پانی کے کنارے رہنے والے جانتے ہیں کہ دریا ہر چند برس بعد راستہ بدلنے کے باوجود پچھلی گذرگاہ کبھی نہیں بھولتا۔ مگر لوگوں نے دریا کی یادداشت کو کمزور فرض کر کے چھوڑی ہوئی گذرگاہوں میں کھیت بنا لیے، کالونیاں تعمیر کر لیں، کارخانے لگا لیے اور بہتے پانی میں ہر طرح کا زرعی، صنعتی و انسانی فضلہ پھینکنا شروع کر دیا۔ جب انسان کی بد تمیزی ناقابلِ برداشت ہو گئی تو ایک دن دریا بادشاہ اور اس کے جونئیر پارٹنرز کی غیرت نے جوش مارا اور راستے میں آنے والی ہر شے بہا لے گئے۔ اس دوران لوگوں اور ان کی حکومتوں نے عہد کیا کہ آئندہ دریاؤں کا احترام کیا جائے گا۔ مگر صرف چند ماہ میں انسان اور بدعنوان حکومتوں نے وہی حرکتیں دوبارہ شروع کر دیں اور دریاؤں کے گلے میں پھر سے رسہ ڈال کر انہیں کھینچنا شروع کر دیا۔ اب میں انتظار میں ہوں کہ ان بدتمیز و بد عہد لوگوں کو اگلی سیلابی سزا کب اور کتنی ملے گی؟ پھر بھی اپنی کوتاہی کا اعتراف نہیں ہو گا۔ بس یہی کہا جائے گا کہ جو اللہ کو منظور۔ کچھ یہی معاملہ وائرس کا بھی ہے۔

وائرس اپنی ذات میں بہت شریف النفس ہوتے ہیں وہ اپنی آماجگاہ آسانی سے چھوڑنا پسند نہیں کرتے۔ پندرویں صدی عیسوی کے یورپ کی ایک تہائی آبادی کو برباد کرنے والے کالے طاعون سے لے کر انیس سو اٹھارہ سے بیس تک پانچ کروڑ انسانوں کو اپنے ساتھ لے جانے والے سپینش انفلوئنزا تک اور پھر ایڈز کے جرثومے سے لے کر اکیسویں صدی کے برڈ فلو، سوائن فلو، سارس فلو اور ایبولا اور اب کورونا تک تمام وائرس جانوروں سے جمپ کر کے انسان میں منتقل ہوئے۔ مگر انسان نے ایک بار بھی سبق نہیں لیا کہ جانوروں کے ساتھ برتاؤ کرتے ہوئے جانور نہیں بن جانا چاہیے اور فطرت کے ساتھ دھونس دھاندلی کے بجائے پرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت ایک شکر گذار جونئیر پارٹنر کے طور پر رہنے کا ڈھب سیکھ لینا چاہیے۔ پر آپ دیکھیں گے کہ جیسے ہی کورونا پسپا ہوتا ہے انسان پھر سے اپنی اوقات بھول کر فطرت کی عزت تار تار کرنے پر لگ جائے گا۔ کورونا نہ پہلا ہے نہ آخری ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ ہو سکتا ہے اس بار انسان بندے دا پتر بن جائے۔ مگر میرا یہ سمجھنا بھی بطور آدمی میری خوش فہمی ہی سمجھیے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ اردو نیوز

پاکستان میں واٹس ایپ پر کورونا ہیلپ لائن سروس کا آغاز

پہلے فیس بک میسنجر اور اب واٹس ایپ کو پاکستان میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کے لیے وزارت قومی صحت نے واٹس ایپ پر پاکستان گورنمنٹ کورونا ہیلپ لائن سروس کا آغاز کر دیا ہے۔ اس نئی سروس کو بالکل مفت استعمال کیا جا سکتا ہے، یہ پاکستان میں ہر شخص کو کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے متعلق تازہ ترین معلومات اور مستند خبروں حاصل کر سکے گا۔ اس نئی سروس کا نام پاکستان گورنمنٹ کورونا واٹس ایپ ہیلپ لائن ہے، یہ اصل میں خودکار چیٹ بوٹ سروس ہے جس میں وزارت صحت کی جانب سے شہری کو 24 گھنٹے کورونا وائرس سے متعلق عام سوالات کے جواب فراہم کئے جاتے ہیں۔

یہ سروس انگریزی، اردو، پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی اور کشمیری زبان میں دستیاب ہو گی اور کورونا وائرس کی روک تھام اور علامات، تازہ ترین کیسز کی تعداد اور صحت سے متعلقہ دیگر مستند معلومات فراہم کرے گی۔ واٹس ایپ پر گورنمنٹ کورونا واٹس ایپ ہیلپ لائن سروس کو مفت استعمال کرنے کے لیے آپ کو یہ نمبر 923001111166+ اپنے رابطوں کی فہرست میں محفوظ کرنا ہو گا جس کے بعد اس نمبر کے واٹس ایپ میسج میں آپ کوئی بھی لفظ لکھ کر بھیج دیں، آپ کے سامنے مینو آپشنز کا سیٹ آجائے گا اور یوزر اس میں سے انتخاب کر کے وزارت صحت سے متعلقہ رہنمائی کے لیے میسج ارسال کر دے گا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’اس مشکل گھڑی میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ لوگ کورونا وائرس سے متعلق درست، بروقت اور باضابطہ معلومات حاصل کریں اور اپنے گھرانوں اور علاقوں میں اس کے اثرات پر معلومات حاصل کریں’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہم ہر شخص کے سوال یا واٹس ایپ پر کورونا ہاٹ لائن کے استعمال میں مسئلے سے متعلق سوال کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اس طرح کی سروس سے انہیں حکومتی ذرائع سے صرف مستند ہدایات اور مصدقہ معلومات حاصل ہوں، پاکستان میں یہ سروس لانے پر ہم واٹس ایپ اور فیس بک کے بروقت تعاون اور مدد کے مشکور ہیں‘۔

واٹس ایپ کے سی او او میٹ نے اس حوالے سے کہا کہ ’اس طرح کے مشکل حالات میں لوگ اپنے دوستوں، اہل خانہ اور دیگر افراد سے رابطے میں رہنے اور مدد کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں، ہمیں پاکستان کی وزارت قومی صحت خدمات کو رابطے کے ٹولز کی فراہمی پر خوشی ہے جن کے ذریعے انہیں اپنے شہریوں کو اس وائرس سے متعلق سوالات کے بروقت اور مستند جواب دینے میں مدد ملے گی تاکہ لوگ محفوظ رہ سکیں‘۔ یہ ہیلپ لائن واٹس ایپ بزنس اے پی آئی پر انفوبپ کے عالمی رابطے کے پلیٹ فارم کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے تاکہ کورونا وائرس سے متعلق اہم معلومات بروقت پہنچائی جائیں، عالمی ادارہ صحت سمیت دنیا بھر میں صحت کے محکمہ جات بشمول جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، برازیل، انڈونیشیا میں کومنفینو کے زیر اہتمام پہلے سے ہی واٹس ایپ پر کورونا سے متعلق معلوماتی نمبرز کام کر رہے ہیں اور اگلے چند ہفتوں میں ان کے اندر مزید خدمات متعارف کرائی جائیں گی۔

بشکریہ ڈان نیوز