ایٹمی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے ذخائر

نیویارک میں امریکی سائنسدانوں کی تنظیم ’’فیڈریشن آف امریکن سائنس دانوں‘‘ نے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کے حوالے سے نئی فہرست جاری کر دی ہے جس کے مطابق ایٹمی طاقت کے حامل ممالک کے پاس ہتھیاروں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ دنیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار روس کے پاس ہیں جن کی تعداد 7 ہزار ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ کے پاس 6800، فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 270، برطانیہ کے پاس 215، پاکستان کے پاس 140، بھارت کے پاس 130، اسرائیل کے پاس 80 اور شمالی کوریا کے پاس 60 ایٹمی ہتھیار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ’’ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار‘‘ بھی تیار کر رہا ہے جو سائز میں اس قدر چھوٹے ہیں کہ انہیں انتہائی آسانی سے میدان جنگ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس روایتی ایٹمی ہتھیار صرف شہروں یا دیگر بڑے انفراسٹرکچر پر ہی گرائے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکٹیکل ہتھیار جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے ذریعے بھی انتہائی مختصر نوٹس پراستعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ’’نیوکلیئر ٹرائی ایڈ‘‘ کی تیاری کے بھی قریب پہنچ چکا ہے جس سے وہ زمین، فضاء اور سمندر تینوں جگہوں سے ایٹمی میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ بھارت نے 1960ء کی دہائی میں اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر دیا تھا اور 80 کی دہائی میں ایٹمی طاقت بن چکا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو مجبوراً اپنا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی ترغیب ملی اور آج اس کے پاس بھارت سے زیادہ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

محمد ابراہیم

ڈوبتے پاکستان میں اپنے چیف کی تلاش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گذشتہ ہفتے سیلاب سے ہوئی تباہ کاری دیکھنے پاکستان آئے تھے۔ انھوں نے فرمایا کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی تباہی کبھی نہیں دیکھی اور پاکستان کو جو نقصان پہنچا ہے وہ ناقابل تصور ہے۔  دنیا میں خوراک کی فراہمی اور آٹے دال کے بھاؤ پر نظر رکھنے والے ماہرین چیخ چیخ کر دستک دے رہے ہیں کہ پاکستان جیسا وہ ملک، جسے فخر تھا کہ ہمارے ہاں بھوکا کوئی نہیں سوتا، اب بھوک اس کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی دہائیاں دے رہے ہیں کہ جو پالتو جانور اس آفت سے بچ گئے ہیں، ان کے لیے چارہ ختم ہو رہا ہے۔ ہمارے حکمران، اپوزیشن والے اور میڈیا اس بات پر سینگ پھنسا کر بیٹھے ہیں کہ جنرل باجوہ کو اگر ایک چھوٹی موٹی ایکسٹینشن اور دے دی جائے تو موجودہ سیاسی بحران کا شاید حل نکل آئے۔

بحث صرف اس پر جاری ہے کہ تھوڑی دی جائے، پوری دی جائے یا پھر کوئی اپنی پسند کا چیف ڈھونڈ لیا جائے۔ پاکستانی فوج میں سے اپنی پسند کا چیف تلاش کرنا ہماری پرانی عادت ہے اور اپنی پسند کا چیف تلاش کرنے کے بعد اس کے ہاتھوں بے عزت ہونا اس سے بھی پرانی عادت ہے۔ بھٹو نے اپنی پسند کا ضیا ڈھونڈا، اسی نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا۔ نواز شریف نے اپنی پسند کے کتنے لگائے اور انھوں نے نواز شریف کے ساتھ کیا کیا، سب کو یاد ہو گا۔ عمران خان کی چیف چننے کی باری آئی تو اپوزیشن کو اتنا ڈرا دیا گیا کہ انھوں نے جیسے تیسے سازش کر کے عمران خان کو گھر بھیج دیا۔ ابھی بھی بحث صرف اس بات پر ہے کہ اگلا چیف عمران خان منتخب کرے گا یا عمران خان کے دشمن۔ اس بات پر کوئی بحث نظر نہیں آئی کہ ہماری بھوکی بھینسوں، بکریوں کو چارہ کون پہنچائے گا۔ جنرل باجوہ، جن کی چھوٹی یا بڑی ایکسٹینشن کے گرد موجودہ بحث گھوم رہی ہے، وہ بھی فرماتے ہیں کہ ان کے پاس بھی ایک جامع ماحولیاتی منصوبہ ہے۔ پتا نہیں چھ سال تک انھوں نے اسے قوم سے کیوں چھپائے رکھا۔

دفاعی امور کے بارے میں میرا علم صفر ہے۔ آئندہ چیف بننے کے امیدواروں کے نام بھی نہیں پتا لیکن اتنا جاتنا ہوں کہ یہ پانچ سات سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کا وزیراعظم چاہے کوئی بھی ہو، اس کو ان ہی پانچ سات میں سے ایک چننا ہو گا۔ عمران خان کل 110 فیصد ووٹ لے کر بھی وزیراعظم بن جائیں تو وہ بھی یہ نہیں کر سکتے کہ تھوڑی بہت پریڈ تو ابرار الحق کو بھی آتی ہے، چلیں انھیں چیف بنا دیتے ہیں یا مولانا طارق جمیل ملک کا بڑا درد رکھتے ہیں، انھیں سپہ سالار مان لیتے ہیں۔ (ویسے سپہ سالار جو بھی بنے گا، اسے مومن ہونے کا سرٹیفیکیٹ مولانا طارق جمیل خود ہی دے دیں گے) اور جو پانچ سات ہیں، یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ان میں سے کوئی کمیونسٹ پارٹی کا خفیہ رکن نکل آئے یا گھر میں چھپ کر استاد بڑے غلام علی خان کو سنتا ہو۔

جس کو بھی بناؤ گے وہ تگڑا ہو گا، محب وطن ہو گا اور اگرچہ میں نہ نام جانتا ہوں، نہ ذات پات نہ تجربہ لیکن حلف لے کر ابھی سے آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وہ ایک پروفیشنل فوجی ہو گا، جس کو عسکری امور کا وسیع تجربہ ہو گا اور جس کو سیاسی معاملات میں کوئی دلچسپی نہ ہو گی۔ جو آج حکومت میں ہیں وہ اپوزیشن میں تھے، جو ملک کو آزاد کرانے چلے ہیں، وہ حکمران تھے۔ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کا مسئلہ آیا تو سر جوڑ کر بیٹھے اور صرف 13 سے 17 منٹ کے اند مسئلہ حل کر لیا۔ اس وقت ملک میں کوئی قدرتی آفت بھی نہیں تھی۔ اب بار بار یاد کرانا پڑتا ہے کہ حضور ایک تہائی ملک ڈوبا ہوا ہے، لاکھوں لوگ سڑکوں کے کنارے کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، اگر جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینی ہے، چھوٹی دینی ہے، بڑی دینی ہے، دیں لیکن اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ ہماری بھوکی بھینسیں اور بکریاں صرف چارہ مانگتی ہیں۔ چیف جیسا بھی ہو ہم گزارا کر لیں گے۔

محمد حنیف

بشکریہ بی بی سی اردو

مشکلات میں گھرے عوام اور اقتدار کے کھیل میں مگن سیاستدان

اس سے زیادہ عجیب بات اور کیا ہو گی کہ جس دوران ملک کا بڑا حصہ طوفانی بارشوں سے ہونے والی تباہی کا شکار ہے اسی دوران سیاسی رہنما اقتدار کے کھیل میں مگن ہیں۔ اچانک آنے والے سیلاب سے پورے کے پورے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور بچوں سمیت سیکڑوں افراد سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔ ہر طرف خوفناک مناظر ہیں۔ اس تباہی کے نتیجے میں ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور خوراک سے بھی محروم ہیں۔ ہم نے بلوچ فوک گلوکار وہاب بگٹی کی وہ تصویر بھی دیکھی میں جس میں وہ اپنے کچے مکان کے ملبے پر کھڑا تھا اور اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ پانی میں ڈوبی ہوئی اطراف کی زمینیں ان مشکلات کو بیان کررہی تھیں جو بلوچستان کے لوگوں کو درپیش ہیں۔ بلوچستان حالیہ بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے۔ ان بارشوں میں ہلاک ہونے والے بچے اور تباہ ہو جانے والے مکانات بس اعداد و شمار ہی بن کر رہ گئے ہیں۔ تاہم جان اور مال کے حقیقی نقصان کو ناپنا کسی طور ممکن نہیں۔

یہ تباہی صرف بلوچستان تک محدود نہیں ہے بلکہ سندھ، جنوبی پنجاب اور شمالی علاقہ جات کا بھی کچھ یہی حال ہے۔ پاکستان کا معاشی مرکز اور سب سے بڑا شہر کراچی بھی کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں سڑکوں پر گڑھے بن گئے ہیں اور سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ تباہ حال انفرا اسٹرکچر نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے بارشوں کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ آنے والا ہے۔ پاکستان رواں سال معمول سے تقریباً 3 گنا زیادہ بارشوں کا سامنا کررہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان بارشوں کے نتیجے میں جولائی سے اب تک ملک بھر میں تقریباً 800 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، تاہم بارشوں سے ہونے والے اصل نقصان کا اندازہ اس سے کہیں زیادہ کا لگایا گیا ہے۔ ہزاروں ایکڑ اراضی پر لگی فصلیں تباہ ہونے سے لوگوں کا ذریعہ معاش بھی ختم ہو گیا ہے۔

متاثرہ لوگوں کی اکثریت اب بھی ریاست کی جانب سے امداد کی منتظر ہے۔ ایک جانب ہماری سیاسی جماعتیں اسلام آباد میں اقتدار کا کھیل کھیل رہی ہیں تو دوسری جانب وہاب بلوچ اور اس جیسے لاکھوں متاثرین سخت موسم کے رحم و کرم پر ہیں۔ عوام کے دکھوں کے حوالے سے ہمارے حکمرانوں کی یہ مجرمانہ بےحسی ہے۔ یقینی طور پر ملک پہلی مرتبہ کسی قدرتی آفت کا سامنا نہیں کر رہا لیکن موجودہ بحران انتہائی سنگین ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اور جامع قومی ردِعمل کی ضرورت ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔ ان کی زیادہ تر توجہ سیاسی بدلے لینے پر ہے۔ موجودہ سیاسی غیر یقینی اور عدم استحکام نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ہمیں غیر معمولی تیز بارشوں کی پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی لیکن انتظامیہ پھر بھی اس حوالے سے تیاریوں میں بُری طرح ناکام رہی۔ ظاہر ہے کہ حکام نے پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کبھی سنجیدگی سے نہیں سمجھا۔ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ہم نے ملک میں شدید گرم موسم سے لے کر کچھ علاقوں میں تیز بارشوں اور دیگر علاقوں میں خشک سالی تک دیکھی ہے۔ پاکستان میں درجہ حرارت میں جس اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے وہ عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔ شدید درجہ حرارت میں ہونے والے مزید اضافے نے مون سون بارشوں کے وقت اور شدت کو تبدیل کر دیا ہے جس کا اظہار رواں سال ہوا۔ ملک کے دیگر علاقوں کے علاوہ شمالی علاقوں کے درجہ حرارت میں جس اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے وہ زیادہ خدشات کا باعث ہے۔ اس کی وجہ سے گلیشیئرز زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے قدرتی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ یہ دریاؤں میں سیلاب کا باعث بھی بن رہا ہے جس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اگرچہ فضائی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا شمار بہت سے ممالک کے بعد کیا جاتا ہے لیکن جب معاملہ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا آتا ہے تو ہم وہاں بھی بہت پیچھے ہی نظر آتے ہیں۔ توانائی کے لیے فوسل فیول پر تقریباً مکمل انحصار نے آلودگی کی سطح کو کم کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ نہ صرف ہم اب بھی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر استعمال کر رہے ہیں بلکہ ہم ایسے نئے بجلی گھر تعمیر بھی کر رہے ہیں۔ پاکستان نے 2030ء تک آلودگی کے اخراج کو نصف کرنے کا عہد کیا ہے تاہم ہم نے ابھی نیٹ زیرو ہدف کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اس وقت فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے جس میں قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع پر تیزی سے منتقل ہونا بھی شامل ہے۔ ہم شمسی توانائی اور توانائی کے دیگر ذرائع استعمال کرنے میں بہت پیچھے ہیں۔ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی کی اقتصادی لاگت دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ زرعی ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرہ کہیں زیادہ ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ان شدید بارشوں سے زراعت کے شعبے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

اس وقت موجودہ آفت کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصان کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ تاہم ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہونے سے زرعی پیداوار میں کمی آئے گی جس سے پہلے سے ہی کمزور معیشت پر مزید دباؤ پڑے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف بلوچستان میں ہی اب تک 7 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ سندھ اور پنجاب کے زرعی علاقوں میں نقصانات اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان معاشی بحالی کو بہت مشکل بنا دے گا۔ شدید بارشوں اور سیلاب سے سڑکوں اور ڈیموں کو نقصان پہنچا ہے۔ سڑکوں اور دیگر سہولیات کی بحالی کے ہی اربوں روپے کی ضرورت ہو گی۔ ظاہر کہ اس سے معیشت پر دباؤ پڑے گا۔ تاہم اس سے زیادہ ضروری کام لاکھوں بے گھر لوگوں کی آباد کاری کا ہے جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی کوششیں درکار ہوں گی۔

بدقسمتی سے یہ تباہی ملک میں جاری سیاسی ہلچل میں گم ہو گئی ہے۔ ایسا رویہ ہماری سیاست کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ وجودی اہمیت کے حامل معاملات جیسے موسمیاتی تبدیلی اور اضافہ آبادی کبھی بھی ہمارے سیاسی مباحث کا حصہ نہیں رہے۔ ماضی میں ہم دیکھتے آئے ہیں کہ 2005ء کے زلزلے اور 2010ء کے سیلاب میں بھی قوم متحد تھی۔ بدقسمتی سے آج کی سیاست نے ملک کو تقسیم کر دیا ہے۔ جس وقت عوام مشکل میں گھرے ہوئے ہیں اس وقت ہمارے رہنما اپنے جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں۔

زاہد حسین
یہ مضمون 24 اگست 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

بشکریہ ڈان نیوز

الخدمت فاؤنڈیشن

ہجومِ نالہ میں یہ ایک الخد مت فاؤنڈیشن ہے جو صلے اور ستائش سے بے نیاز بروئے کار آتی ہے۔ جماعت اسلامی سے کسی کو سو اختلاف ہوں لیکن الخدمت دیار عشق کی کوہ کنی کا نام ہے۔ زلزلہ ہو یا سیلاب آئے یہ اس سماج کے گھائل وجود کا اولین مرہم بن جاتی ہے۔ خد مت خلق کے اس مبارک سفر کے راہی اور بھی ہوں گے لیکن یہ الخدمت فاؤنڈیشن ہے جو اس ملک میں مسیحائی کا ہراول دستہ ہے۔ مبالغے سے کوفت ہوتی ہے اور کسی کا قصیدہ لکھنا ایک ایساجرم محسوس ہوتا ہے کہ جس سے تصور سے ہی آدمی اپنی ہی نظروں میں گر جائے۔ الخدمت کا معاملہ مگر الگ ہے ۔ یہ قصیدہ نہیں ہے یہ دل و مژگاں کا مقدمہ ہے جو قرض کی صورت اب بوجھ بنتا جا رہا تھا۔ کتنے مقبول گروہ یہاں پھرتے ہیں۔ وہ جنہیں دعوی ہے کہ پنجاب ہماری جاگیر ہے اور ہم نے سیاست کو شرافت کا نیا رنگ دیا ہے ۔ وہ جو جذب کی سی کیفیت میں آواز لگاتے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے اور اب راج کرے گی خلق خدا، اور وہ جنہیں یہ زعم ہے کہ برصغیر کی تاریخ میں وہ پہلے دیانتدار قائد ہیں اور اس دیانت و حسن کے اعجاز سے ان کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ بلے پر دستخط کر دیں تو کوہ نور بن جائے۔

ان سب کا یہ دعوی ہے کہ ان کا جینا مرنا عوام کے لیے ہے۔ ان میں کچھ وہ ہیں جو عوام پر احسان جتاتے ہیں کہ وہ تو شہنشاہوں جیسی زندگی گزار رہے تھے، ان کے پاس تو سب کچھ تھا وہ تو صرف ان غریب غرباء کی فلاح کے لیے سیاست کے سنگ زار میں اترے ۔ لیکن جب اس ملک میں افتاد آن پڑتی ہے تو یہ سب ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ جن کے پاس سارے وسائل ہیں ان کی بے نیازی دیکھیے ۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو مل کر ایک ہیلی کاپٹر سے آٹے کے چند تھیلے زمین پر پھینک رہے ہیں۔ ایک وزیر اعظم ہے اور ایک وزیر خارجہ ۔ ابتلاء کے اس دور میں یہ اتنے فارغ ہیں کہ آٹے کے چند تھیلے ہیلی کاپٹر سے پھینکنے کے لیے انہیں خود سفر کرنا پڑا تا کہ فوٹو بن جائے، غریب پروری کی سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ فوٹو شوٹ سے انہیں اتنی محبت ہے کہ پچھلے دور اقتدار میں اخباری اشتہار کے لیے جناب وزیر اعلی شہباز شریف کے سر کے نیچے نیو جرسی کے مائیکل ریوینز کا دھڑ لگا دیا گیا تا کہ صاحب سمارٹ دکھائی دیں ۔ دست ہنر کے کمالات دیکھیے کہ جعل سازی کھُل جانے پر خود ہی تحقیقات کا حکم دے دیا ۔ راز کی یہ بات البتہ میرے علم میں نہیں کہ تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلا۔

ہیلی کاپٹرز کی ضرورت اس وقت وہاں ہے جہاں لوگ پھنسے پڑے ہیں اور دہائی دے رہے ہیں ۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر یہ اہل سیاست سیلاب زدہ علاقوں میں کیا دیکھنے جاتے ہیں ۔ ابلاغ کے اس جدید دور میں کیا انہیں کوئی بتانے والا نہیں ہوتا کہ زمین پر کیا صورت حال ہے ۔ انہیں بیٹھ کر فیصلے کرنے چاہیں لیکن یہ ہیلی کاپٹر لے کر اور چشمے لگا کر ”مشاہدہ“ فرمانے نکل جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا فائدہ کیا ہے؟ کیا سیلاب کو معطل کرنے جاتے ہیں؟ یا ہواؤں سے اسے مخاطب کرتے ہیں کہ اوئے سیلاب، میں نے تمہیں چھوڑنا نہیں ہے۔ سندھ میں جہاں بھٹو صاحب زندہ ہیں، خدا انہیں سلامت رکھے، شاید اب کسی اور کا زندہ رہنا ضروری نہیں رہا ۔ عالی مرتبت قائدین سیلاب زدگان میں جلوہ افروز ہوتے ہیں تو پورے پچاس روپے کے نوٹ تقسیم کرتے پائے جاتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ کیسے لوگ ہیں ۔ ان کے دل نہیں پسیجتے اور انہیں خدا کا خوف نہیں آتا؟ وہاں کی غربت کا اندازہ کیجیے کہ پچاس کا یہ نوٹ لینے کے لیے بھی لوگ لپک رہے تھے۔

یہ جینا بھی کوئی جینا ہے۔ یہ بھی کوئی زندگی ہے جو ہمارے لوگ جی رہے ہیں۔ کون ہے جو ہمارے حصے کی خوشیاں چھین کر مزے کر رہا ہے ۔ کون ہے جس نے اس سماج کی روح میں بیڑیاں ڈال رکھی ہیں؟ یہ نو آبادیاتی جاگیرداری کا آزار کب ختم ہو گا؟ ٹائیگر فورس کے بھی سہرے کہے جاتے ہیں لیکن یہ وہ رضاکار ہیں جو صرف سوشل میڈیا کی ڈبیا پر پائے جاتے ہیں ۔ زمین پر ان کا کوئی وجود نہیں۔ کسی قومی سیاسی جماعت کے ہاں سوشل ورک کا نہ کوئی تصور ہے نہ اس کے لے دستیاب ڈھانچہ۔ باتیں عوام کی کرتے ہیں لیکن جب عوام پر افتاد آن پڑے تو ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ محاورہ بہت پرانا ہے لیکن حسب حال ہے۔ یہ صرف اقتدار کے مال غنیمت پر نظر رکھتے ہیں ۔ اقتدار ملتا ہے تو کارندے مناصب پا کر صلہ وصول کرتے ہیں۔ اس اقتدار سے محروم ہو جائیں تو ان کا مزاج یوں برہم ہوتا ہے کہ سر بزم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں اقتدار سے ہٹایا گیا ہے اب فی الوقت کوئی اوورسیز پاکستانی سیلاب زدگان کے لیے فنڈز نہ بھیجے۔

ایسے میں یہ الخدمت ہے جو بے لوث میدان عمل میں ہے ۔ اقتدار ان سے اتنا ہی دور ہے جتنا دریا کے ایک کنارے سے دوسرا کنارا ۔ لیکن ان کی خدمت خلق کا طلسم ناز مجروح نہیں ہوتا ۔ سچ پوچھیے کبھی کبھی تو حیرتیں تھام لیتی ہیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں۔ حکومت اہل دربار میں خلعتیں بانٹتی ہے اور دربار کے کوزہ گروں کو صدارتی ایوارڈ دیے جاتے ہیں ۔ اقتدار کے سینے میں دل اور آنکھ میں حیا ہوتی تو یہ چل کر الخدمت فاؤنڈیشن کے پاس جاتا اور اس کی خدمات کا اعتراف کرتا۔ لیکن ظرف اور اقتدار بھی دریا کے دو کنارے ہیں ۔ شاید سمندر کے۔ ایک دوسرے کے جود سے نا آشنا ۔ الخدمت فاؤندیشن نے دل جیت لیے ہیں اور یہ آج کا واقعہ نہیں ، یہ روز مرہ ہے ۔ کسی اضطراری کیفیت میں نہیں ، یہ ہمہ وقت میدان عمل میں ہوتے ہیں اور پوری حکمت عملی اور ساری شفافیت کے ساتھ ۔ جو جب چاہے ان کے اکاؤنٹس چیک کر سکتا ہے ۔ یہ کوئی کلٹ نہیں کہ حساب سے بے نیاز ہو، یہ ذمہ داری ہے جہاں محاسبہ ہم رکاب ہوتا ہے۔

مجھے کہنے دیجیے کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے ۔ میں ہمیشہ جماعت اسلامی کا ناقد رہا ہوں لیکن اس میں کیا کلام ہے کہ یہ سماج الخدمت فاؤنڈیشن کا مقروض ہے ۔ سیدنا مسیح کے الفاظ مستعار لوں تو یہ لوگ زمین کا نمک ہیں ۔ یہ ہم میں سے ہیں لیکن یہ ہم سے مختلف ہیں ۔ یہ ہم سے بہتر ہیں ۔ ہمارے پاس دعا کے سوا انہیں دینے کو بھی کچھ نہیں ، ان کا انعام یقینا ان کے پروردگار کے پاس ہو گا۔ الخدمت فاؤنڈیشن کی تحسین اگر فرض کفایہ ہوتا تو یہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے یہ فرض ادا کر چکے ۔ میرے خیال میں مگر یہ فرض کفایہ نہیں فرض عین ہے ۔ خدا کا شکر ہے میں نے یہ فرض ادا کیا۔

آصف محمود

بشکریہ روزنامہ جسارت

نئے پاکستان کی آخری شام؟

حکومت آج سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عدم اعتماد کی ووٹنگ کروا دے گی یا اس کے قانونی مشیر اسے کسی تازہ آئینی بحران سے دوچار کر دیں گے؟ کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم یہ بات طے ہے کہ ہر دو صورتوں میں نتیجہ ایک ہی نکلے گا کیونکہ جی کا جانا جب ٹھہر چکا ہو تو اسے جانا ہی ہوتا ہے۔ رات عمران خان نے قوم سے خطاب کیا۔ اس کے مندرجات بتا رہے کہ یہ آخری خطاب تھا۔ تقریر وزیراعظم کی تھی لیکن اسلوب اپوزیشن لیڈر کا تھا۔ گویا مقرر بھی جانتا تھا کہ یہ نئے پاکستان کی آخری شام ہے۔ بہت جلد وہ پرانے پاکستان میں ہو گا۔ حکومت کے پاس ووٹنگ سے بچنے کے آپشن تو اب بھی موجود ہیں، لیکن اگر ڈپٹی سپیکر کی غیر آئینی رولنگ سے یہ بلا نہیں ٹلی تو اب بھی کوئی پارلیمانی یا قانونی حربہ اسے نہیں ٹال پائے گا۔ آج ایک بار پھر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور معاملہ پھر سے عدالت لے جایا جاتا ہے یا ووٹنگ سے پہلے دھمکی آمیز خط پر اِن کیمرا سیشن کے نام پر ایوان میں کارروائی کو طوالت دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایسے اقدامات رخصتی کے ’شگن‘ بڑھا کر اس عمل کو قدرے طویل کر سکتے ہیں لیکن نتائج نہیں بدل سکتے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ قوم سے ایک آدھ مزید خطاب کی مہلت مل جائے گی لیکن خطاب کے بعد کیا ہو گا؟ وہی رخصتی کہ سدا کی بادشاہی صرف اللہ کی ہے۔ تحریک انصاف کا معاملہ یہ ہے کہ ڈی چوک میں جشن منا رہی ہو یا احتجاج کر رہی ہو، اس کا متن ایک ہی ہوتا ہے۔ صرف عنوان بدل جاتا ہے۔ ہر دو صورتوں میں اس کی دلاوری کا قصہ ابرار الحق بیان کر چکے ہیں کہ ’کپتان خاں دے جلسے اچ اج میرا نچنے نوں جی کردا‘۔ دل تو پھر دل ہے جو تھوڑا پاگل سا ہوتا ہے۔ وہ اس بات سے بے نیاز ہوتا ہے کہ جلسہ جشن کا ہے یا احتجاج کا۔ وہ ’نچنے‘ پر ہی مائل رہتا ہے۔ چار دن پہلے کارکنان کو جشن منانے کا حکم ملا، رات اسے عمران خان نے احتجاج کا عنوان دے دیا۔ یہ سلسلہ جس عنوان سے بھی چلتا رہے، فی الوقت غیر اہم ہو گا۔

چنانچہ اصل سوال اس وقت یہ نہیں ہے کہ حکومت کیا کرتی ہے، سوال یہ ہے کہ حزب اختلاف کیا کرنے جا رہی ہے۔ عمران خان کی حکومت اب چراغ سحر ہے بجھا چاہتی ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ عمران خان کا نیا پاکستان مزید کیا کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ حزب اختلاف کا پرانا پاکستان کیسا ہو گا اور کیا اس سے کوئی امید رکھی جا سکتی ہے۔ اب عمران نہیں بلکہ یہ حزب اختلاف ہو گی جو وقت کے کٹہرے میں کھڑی ہو گی۔ اقتدار جس کے پاس ہو وقت اسی کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں حزب اختلاف اگر عدم اعتماد میں کامیاب ہوتی ہے اور اقتدار حاصل کر پاتی ہے تو اس کی کامیابی اور ناکامی کا پیمانہ بہت واضح ہے اور اسے اسی پیمانے پر پرکھا جائے گا۔ یہی نکات اس کے لیے ایک چیلنج کے طور پر کھڑے ہیں سب سے پہلا چیلنج سماجی ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ کیا حزب اختلاف اسی پولرائزیشن کو آگے بڑھاتی ہے جسے عمران خان ایک پالیسی کے طور پر لے کر چلتے رہے۔

اگر حزب اختلاف بھی ردعمل میں نفرت اور ہیجان کے اسی عمل کو آگے بڑھاتی ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی ناکامی ہو گی اور اس کا فائدہ عمران خان کو ہو گا، کیونکہ پولرائزیشن کی بنیاد پر سماج کی تقسیم اور نفرت پر مبنی بیانیے کا سب سے بڑا فائدہ تحریک انصاف کو حاصل ہو گا۔ حزب اختلاف کی کامیابی یہ ہو گی کہ وہ معاشرے کو اس ہیجان سے نکالے اور انتقام اور اشتعال کی بجائے سماج کی تعمیر کو مدنظر رکھے۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ وہ یہ بھاری پتھر اٹھا پائے گی یا نہیں۔  دوسرا بڑا چیلنج انتخابی اصلاحات اور انتخابی عمل کا ہے۔ حزب اختلاف اگر اقتدار میں آتی ہے تو اس کی مدت مختصر ہو گی اور جلد ہی عام انتخابات کی جانب بڑھنا ہو گا۔ سوال یہ بھی ہے کیا وہ با معنی انتخابی اصلاحات کے ساتھ ایسے انتخابات کو یقینی بنا سکے گی جس کے نتیجے میں پر امن اور معتبر انتقال اقتدار ہو۔ ایسا نہ ہو کہ ہارنے والا دھاندلی کے الزامات کے ساتھ ایک بار پھر سڑک پر ہو اور ’سلیکٹڈ‘ کے بعد ہم ’پلانٹڈ‘ کے بیانیے کو فروغ پاتا دیکھ رہے ہوں۔ تیسرا بڑا چیلنج معیشت کا ہے۔

شہباز شریف کے حالیہ بیان کا آزار بھی اسی سے جڑا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ Beggars can’t be choosers یہ بات جتنی بھی درست ہو، سچ یہ ہے کہ قومی سطح کے رہنما کو ایسا بیان زیب نہیں دیتا۔ قوم کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے والا قیادت کے لیے کیسے موزوں ہو سکتا ہے؟ یہی بات بہتر اسلوب میں بھی بیان کی جا سکتی تھی۔ شہباز شریف کو معیشت سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اس بیان کی کوئی ایسی توجیہہ پیش کرنا ہو گی جو اس بات کی تلخی کو ممکن حد تک کم کر دے۔ ورنہ یہ بیان ایک آسیب بن کر ان کا پیچھا کرے گا۔ چوتھے بڑے چیلنج کا تعلق اس عدم اعتماد کی شان نزول سے ہے۔ عوامی بیانیے کی حد تک عمران خان نے کامیابی سے یہ شان نزول بیان کر دی ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف امریکہ نے سازش کی ہے اور عدم اعتماد اسی سازش کا نتیجہ ہے۔ وہ اس پر ایک کمیشن بھی بنانے جا رہے ہیں۔ آج ایوان میں اس پر مزید کارروائی ہو سکتی ہے۔

عمران خان کو بھی معلوم ہے کہ ایسے معاملات میں کمیشن بن بھی جائیں تو حقیقت سامنے نہیں آیا کرتی۔ ویسے بھی سیاست میں حقیقت سے زیادہ تاثر اہم ہوتا ہے اور عمران اپنے وابستگان کی حد تک کامیابی سے یہ تاثر دے چکے ہیں کہ ان کی حکومت امریکی سازش کے نتیجے میں جا رہی ہے۔ عمران خان کی آئندہ سیاست کا مرکزی نکتہ بھی یہی ہو گا اور حزب اختلاف اس تاثر کی نفی نہیں کر پاتی تو اسے بہت نقصان ہو گا۔ پانچویں اور آخری سوال کا تعلق حزب اختلاف کے باہمی اتحاد پر ہے۔ وقت بتائے گا کہ یہ اتحاد کسی اصول کی بنیاد پر ہے یا عمران خان کے متاثرین اپنے اپنے مفاد میں مل بیٹھے ہیں اور یہ وقت اب آنے ہی والا ہے۔ اقتدار ملنے کے بعد یہ باہم مل کر چل پاتے ہیں یا وزارتوں، عہدوں اور مناصب کو دیکھ کر ان کے باہمی اختلافات پھر سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

آصف محمود

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

ڈاکٹر اسرار احمد کون تھے ؟

ڈاکٹر اسرار احمد نے جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم سے سفر شروع کیا اور مذہبی سکالر تک کا سفر طے کیا۔ ان کی پیدائش موجودہ انڈیا کی ریاست ہریانہ کے علاقے حصر میں 26 اپریل 1932 کو ہوئی۔ انھوں نے 1954 میں کِنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے گریجویشن کی اور بعد میں 1965 میں جامعہ کراچی سے اسلامک سٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ تنظیم اسلامی کے مطابق وہ ایک نوجوان طالب علم کی حیثیت سے علامہ اقبال اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے زیر اثر رہے۔ انھوں نے مختصر عرصے کے لیے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے لیے کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد اسلامی جمعیت طلبہ اور پھر جماعت اسلامی کے ساتھ منسلک رہے۔ جماعت اسلامی نے جب انتخابی سیاست میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو ڈاکٹر اسرار احمد نے اس سے اختلاف رائے کیا اور کہا کہ ایسا کرنا تنظیم کے انقلابی طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا اور اپنی راہیں الگ کر لیں۔

اس کے بعد انھوں نے منحرف ہونے والے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر اسرار نے 1978 میں پاکستان ٹیلیویژن پر مذہبی پروگرام شروع کیا اور بعد میں جب نجی ٹی وی چینل آئے تو وہ قرآن ٹی وی کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ 1981 میں انھیں اعلیٰ سول ایوارڈ تمغہ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔ ڈاکٹر اسرار کی اپریل 2010 میں وفات ہو گئی تھی۔ انھوں نے اس سے بہت پہلے 2002 میں ہی تنظیم اسلامی کی سربراہی چھوڑ دی تھی۔ تنظیم اسلامی مقامی اور بین الاقوامی مسائل پر محدود احتجاج کرتی ہے جبکہ سود اور ویلنٹائن ڈے کے خلاف اس کی تشہیری مہم جاری رہتی ہے۔

ریاض سہیل
بشکریہ بی بی سی اردو

جماعت کہاں کھڑی ہے؟

سیاست اقتدار کے پجاریوں میں گھری ہوئی ہے اور عملاً کئی گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اپوزیشن کی ان جماعتوں نے بھی آپس میں اتحاد کر لیا ہے اور ایک دوسرے کے دشمن بھی منافقانہ دوستی میں ڈھل چکے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ یہ منافقانہ دوستی کب تک چلے گی اور کیسے چلے گی کیونکہ جیسے ہی اقتدار کے لیے طبل جنگ بجے گا آج کے یہ سیاسی دوست ایک دوسرے کے مقابل صف آراء نظر آئیں گے اور وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے، بس دیر ہے تو الیکشن کے اعلان کی ہے۔ ماضی میں پاکستان کی سیاست دو حصوں میں تقسیم رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز۔ عمران خان کی حکومت سے پہلے دس برس کی حکمرانی میں ان دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے کے اقتدار کو سہارا دینے کے لیے دوستانہ اپوزیشن کا کردار بخوبی نبھایا۔ پاکستانی عوام بھی صبر شکر کر کے ان دونوں کی اقتدار میں آنیاں جانیاں دیکھتے رہے۔

یہ سلسلہ آج تک جاری رہتا لیکن قوم کے سیاسی شعور کے دانشوروں نے اس مفاداتی گٹھ جوڑ کا حل یہ نکالا کہ وہ ایک تیسری سیاسی قوت میدان میں لے آئے اور یوں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے رنگ میں بھنگ ڈال دی۔ عمران خان نے پاکستانی عوام کو تبدیلی کا خوش کن نعرہ دیا‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے برے طرز حکمرانی کو تختہ مشق بنایا اور یوں حکمرانی اپنی جھولی میں ڈال لی۔ عمران خان کی حکمرانی کو ان دونوں جماعتوں نے روز اول سے تسلیم کرنے انکار کیا لیکن مجبوری میں بڑوں کے ڈر سے خاموشی سے وقت گزارتے رہے تا آنکہ تان تحریک عدم اعتماد پر آکر ٹوٹی ہے جس کی بڑی وجہ ساڑھے تین برس کے دور اقتدار میں عمران خان اپنے وعدوں کے برعکس صاف ستھری سیاست اور عوام کی حقیقی نمایندگی سے قاصر رہے ہیں اور عوام کے دلوں میں اتر کر ان کی نمایندگی کا جو سہانا خواب دکھایا گیا ‘ سیاست اور عوام کی زندگی میں جس تبدیلی کا شہرہ تھا وہ کوئی بڑی تبدیلی تو کجا چھوٹی سی تبدیلی سے بھی دور رہے ہیں البتہ جماندروں سیاستدانو ں کو انھوں نے پریشان ضرور کیا لیکن وہ سیاسی میدان میں کسی واضح تبدیلی کا استعارہ نہ بن سکے۔

عمران خان کی تحریک انصاف کے علاوہ پاکستان کی ایک انتہائی منظم اور نظریاتی جماعت بھی پاکستانی سیاست میں ایک مدت سے ہمارے درمیان میں موجود ہے اور وہ ہے جماعت اسلامی جو سیاست میں تو موجود ہے لیکن آج کی سیاست میں فٹ نہیں بیٹھتی۔ اس جماعت کے لوگ خوف خدا سے سرشار اور خدمت گزار ہیں۔ یہ وہ گروہ ہے جو عوام کی خدمت کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ بلاشبہ اس وقت پاکستان میں اگر کوئی صاف ستھری اور پر عزم جماعت ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ بانی جماعت سید مودودی کی تربیت کے اثرات کے باوجود کچھ لوگوں نے جماعت کو بھی ایک روایتی سیاسی جماعت بنانے کی کوشش کی لیکن جماعت کا مضبوط ڈھانچہ اور جمہوری روایات اس کوشش سے مغلوب نہ ہو سکیں۔ جماعت اسلامی حیرت انگیز حد تک ایک جمہوری جماعت ہے جس کے امیر اور دیگر عہدیدداروں کا انتخاب صاف شفاف الیکشن کے ذریعے ہوتا ہے، جس میں آمریت کی ذرہ بھر گنجائش نہیں ہے۔

آج کے سیاسی منظر نامے میں جماعت خود ایک روشن حقیقت ہے، جسے کسی قسم کی تعریف کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلامی اور دینی نظریات جماعت کی شناخت ہیں لیکن سیاسی میدان میں کامیابیاں جماعت کے حصے میں کم ہی آئی ہیں۔ قومی دھارے میں جماعت شامل تو رہی ہے لیکن اس کا کردار بجھا بجھا رہا ہے حالانکہ جماعت جیسی بھر پور سیاسی تنظیم کے ہوتے ہوئے پاکستان میں کسی اور نئی سیاسی جماعت کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے لیکن نجانے وہ کون سے اسباب ہیں جو جماعت کو اٹھنے نہیں دیتیں ۔ آج کی بے چین سیاست میں جماعت کو اٹھانے کے لیے یہ ایک موزوں ترین وقت ہے۔ قوم اس گردو غبار میں کسی شہہ سوار کی منتظر ہے، جماعت کے کار پردازوں کو سوچنا ہے ۔عوام اس کی طرف رجوع کیوں نہیں کرتے، کہیں تو خرابی ہے جو عوام کو جماعت اسلامی کے حق میں فیصلہ کرنے سے روکتی ہے، اس ابہام اور خرابی کی نشاندہی خدمت گزار لوگوں کے گروہ کو خود کرنی ہے اور عوام کو جگا کر بتانا ہے کہ جماعت بھی سیاسی میدان میں موجود ہے اور ڈٹ کر کھڑی ہوئی ہے۔

اطہر قادر حسن

بشکریہ ایکسپریس نیوز

روس یوکرین جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات

روس اور یوکرین کے درمیان تاحال لڑائی جاری ہے اور جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششیں تاحال کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں‘ یوکرین کے مسئلے پر امریکا اور مغربی یورپ کی روس کے ساتھ آویزش اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ مغربی ممالک میں روس کے صدر پیوٹن پر زبردست تنقید ہو رہی ہے جب کہ روس کے صدر بھی تمام تر مغربی مخالفت کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں رہائشی علاقے پر راکٹ حملے جاری رکھے، بتایا گیا ہے کہ ان میزائل حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں، روسی فوج نے لوکل گورنمنٹ ہیڈ کوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا۔ ذرائع ابلاغ میں بتایا گیا ہے کہ رہائشی علاقوں پر فضائی بمباری بھی کی گئی اور اس میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ اطلاعات افسوسناک ہیں، بے گناہ شہریوں کا جنگ کا ایندھن بننا کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ شہری آبادیوں پر حملے نہیں ہونے چاہییں۔ یوکرینی رہنماؤں نے اگلے روز یہ کہا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق روسی فوج کا تقریباً 60 کلومیٹر طویل قافلہ دارالحکومت کیف کی جانب بڑھ رہا ہے۔

روس فوج کی اسٹریٹجی یہی لگتی ہے کہ وہ کیف پر قبضہ کر لے، اگر روس کی فوج نے کیف پر حملہ کیا یہاں بھاری جانی نقصان کا خدشہ ہے، یوکرین کے صدر بھی کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔ وہ امریکا اور دیگر ملکوں سے اسلحہ وغیرہ حاصل کرنے کے لیے اپیل کر رہے ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اوختیر میں ایک فوجی اڈے پر روسی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں ستر سے زائد یوکرینی فوجی مارے گئے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق روسی حملے کے بعد سے اب تک 530 سے زائد عام شہری بھی ہلاک ہو چکے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے شہری اہداف پر روسی حملوں کو جنگی جرم قرار دیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے مغرب کو جھوٹ کا شہنشاہ قرار دیا اور کہا کہ امریکی سیاستدان اور صحافی مانتے ہیں کہ ان کے ملک میں جھوٹ کی بادشاہت قائم ہے۔ ادھر یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور کر لی اور شمولیت کے لیے خصوصی طریقہ کار کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ایسے موقعے پر یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور کرنے کا مطلب روس کو مزید غصہ دلانا ہے کیونکہ امریکا اور یورپی یونین کی پالیسیوں کی وجہ سے ہی روس یوکرین پر حملہ کرنے پر مجبور ہوا حالانکہ دونوں ملک نسلی اور لسانی حوالے سے جڑے ہوئے ہیں۔

امریکا نے نیویارک میں اقوام متحدہ میں روسی مشن کے 12 ارکان کو 7 مارچ تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ فیفا نے بھی روس پر فٹ بال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگا دی ہے۔ کینیڈا نے روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔ اس سے پہلے فرانس روس کا مال بردار جہاز روک چکا ہے۔ حالات کا رخ بتا رہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی یورپی ممالک یوکرین کی کمر ٹھونک رہے کہ وہ ڈٹ جائے ۔ اسے مال اور اسلحے سے مدد دی جا رہی ہے تاکہ وہ روسی افواج کی مزاحمت کر سکے، یہ صورتحال بہت خطرناک ہے، اس سے جنگ طول پکڑ سکتی ہے جس کا یوکرین کا تو نقصان ہے ہی لیکن روس کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو گی کیونکہ اس پر پہلے ہی اقتصادی پابندیاں عائد ہو چکی ہیں، اگر یہ لڑائی طول پکڑتی ہے تو روس کے لیے اس جنگ کا بوجھ اٹھانا ممکن نہیں رہے گا۔  یوکرین تو مکمل طور پر برباد ہو جائے گا، امریکا اور اس کے مغربی اتحادی اپنے مقاصد پورے ہونے کے بعد روس کے ساتھ معاملات درست کر لیں گے اور اس کے بعد تباہ حال یوکرین، تعمیر نو کے لیے عالمی بینک اور مغربی ممالک سے قرضے مانگے گا اور وہ تعمیر نو کے نام پر قرضے دے کر یوکرین کو اپنے مالی شکنجے میں کس لیں گے۔

امریکا اور یورپین یونین نے روس پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں متعدد پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اب روس کو کسی طرح کے سافٹ ویئرز، آلات، کمپیوٹر، سیکیورٹی اپڈیٹس، لیزر اور سینسرز سمیت دیگر طرح کی چیزیں مہیا نہیں کی جا سکیں گی۔ نئی پابندیوں کے تحت روس اپنی فوج کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق چیزیں، مدد اور آلات حاصل کرنے سے بھی محروم ہو جائے گا۔ روس اور یوکرین کی قیادت کو ان پہلوؤں پر سوچنا چاہیے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے کانگریس سے یوکرین کی امداد کے لیے 6.4 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی منظوری کی درخواست دی ہے۔ امریکی صدر نے کہا امریکیوں کو جوہری جنگ کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے یوکرین کو اینٹی ٹینک ہتھیار، گولہ بارود اور دیگر فوجی سامان دینے کا اعلان کیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم نے یوکرین کو 50 ملین ڈالر مالیت کے ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔  یوکرین کی حکومت، افواج اور غیر سرکاری امدادی اداروں کو کرپٹوکرنسی کی صورت میں ایک کروڑ 37 لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم عطیہ کی گئی ہے جس میں سب سے زیادہ بٹ کوائن شامل ہیں۔ امریکا نے روس کی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

روس پر اقتصادی پابندیوں نے آئل مارکیٹ میں ہلچل مچا دی، تیل کی قیمتیں 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 19 سو ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی جب کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ برطانوی برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت میں تین اعشاریہ سترہ ڈالر کا اضافہ ہوا، برطانوی برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت ایک سو ایک ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی فی بیرل قیمت میں چار اعشاریہ 12 ڈالر کا اضافہ ہوا۔ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی فی بیرل قیمت پچانوے اعشاریہ پچھتر ڈالر پر پہنچ گئی۔ متحدہ عرب امارات میں تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ 11 فیصد اضافے کے بعد امارات میں پہلی بار ایک لیٹر فیول کی قیمت 3 درہم سے زائد ہو گئی۔ پاکستان نے یوکرین بحران پرغیر جانبدار رہتے ہوئے بحث کے لیے بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں حصہ نہیں لیا، سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس مسئلے پر کسی کی طرف داری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اسلام آباد ایک پرامن اور مذاکراتی تصفیے کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان میں 19 غیر ملکی مشنز سے تعلق رکھنے والے سفارتکاروں نے ایک خط کے ذریعے پاکستان پر اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں یوکرین کی حمایت کرنے پر زور دیا ہے۔

جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس سے 100 سے زائد ممالک کے نمایندوں نے خطاب کیا۔ پاکستان میں یوکرین کے سفیر مارکیان چیچک نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ یوکرین میں موجود پاکستانی طلبہ محفوظ ہیں ان کے ہموار انخلا کو یقینی بنا رہے ہیں، امید ہے ایک روز پاکستان بھی روسی جارحیت کے خلاف اہم اقدامات کریگا۔ گزشتہ برس جب پاکستان مشکل میں تھا یوکرین نے پاکستان کو 1.3 ملین ٹن گندم فراہم کی۔ یوکرین نے روس کے خلاف لڑنے کے لیے یوکرین آنے والے جنگجوؤں پر سے ویزا پابندی ختم کر دی۔ اسرائیل نے یوکرینی یہودیوں کے لیے شہریت کے قانون میں نرمی کر دی ہے۔ روس اور یوکرین بحران کے اثرات پاکستان پر بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں‘ یہ اثرات داخلی اور خارجی معاملات پر پڑیں گے۔ روس یوکرین کے درمیان کشیدگی اور بعدازاں جنگ شروع ہونے سے گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کے بادل چھائے رہے، روس یوکرین جنگ شروع ہوتے ہی پاکستان میں کوکنگ آئل اور گھی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمیتں مزید بڑھنے کے امکانات موجود ہیں کیونکہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے۔

اگر روس یوکرین جنگ کے معاملات نہ نمٹ سکے تو کوکنگ آئل اور گھی کی قیمت مزید بڑھے گی جب کہ دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے اچھی نہیں ہے کیونکہ ملک کا متوسط طبقہ پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے۔ بہتر ہے کہ روس اور یوکرین باہمی مسائل کو گولی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ جنگ کا دائرہ کار مزید نہ پھیلے ورنہ پوری دنیا کی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

روس کس طرح یورپ کو معاشی نقصان پہنچا سکتا ہے؟

یوکرین میں جاری بحران کے باعث اب پورے یورپ میں طویل مدتی عدم استحکام اور افراتفری کے خطرات بڑھ چکے ہیں۔ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی سفارت کاری کے ناکام ہو جانے پر حالات نے اس وقت ایک اہم موڑ لیا جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے روسی افواج کو مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ 2 علاقوں میں داخل ہونے کا حکم دیا اور انہیں آزاد علاقوں کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد پیوٹن نے بین الاقوامی قوانین کی نفی کرتے ہوئے یوکرین پر باقاعدہ حملے کا آغاز کر دیا۔ یوں ایک خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے۔ امریکا کی زیرِ قیادت مغربی برادری نے روس کے اس قدم پر فوری ردِعمل دیا اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے روس کے اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔ یوکرینی صدر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس پر جنگ روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر پیوٹن کو جارح قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس جنگ کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ دیگر کئی ممالک کی جانب سے بھی تناؤ میں کمی لانے کے مطالبات کیے گئے ہیں۔ صدر پیوٹن کی جانب سے اس عسکری کارروائی کا جواز ڈونباس میں روسی زبان بولنے والوں کی حفاظت سے آگے بڑھ چکا ہے۔ روس نے اب جواز کے طور پر کہا ہے کہ یہ قدم ’یوکرین سے روس کے دفاع‘ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مغربی دنیا یوکرین کو روس کے خلاف ایک آلے کے طور استعمال کر رہی ہے۔ اس بحران سے قبل کئی ماہ تک یوکرین کی سرحد پر روس فوج جمع کررہا تھا۔ فرانسیسی صدر ایمینیول میکرون اور جرمن چانسلر اولاف اسکولز کی جانب سے سفارتی کوششوں کے باوجود سلامتی سے متعلق روس کے مطالبات پورے نہ ہو سکے۔ روس کے مطالبات میں ان باتوں کا وعدہ بھی شامل تھا کہ یوکرین نیٹو اتحاد میں شامل نہیں ہو گا، یوکرین میں اسٹریٹیجک ہتھیاروں کو نصب نہیں کیا جائے گا اور یہ کہ یوکرین اور نیٹو 1997ء سے پہلے کی سرحدوں پر واپس چلے جائیں گے۔

امریکا اور نیٹو کی جانب سے ان مطالبات کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روسی حملے کے جواب سے مغرب کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیاں پیوٹن پر پیچھے ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالیں گی یا نہیں۔ لیکن اس بارے میں غور کرنے سے قبل ہم دیکھتے ہیں کہ 8 سال قبل کیا ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیوٹن کا حالیہ قدم 2014ء کے ان حالات کا ہی تسلسل ہے جس کے نتیجے میں روس نے کریمیا پر قبضہ کر لیا تھا۔ واقعات کے اس تسلسل کا آغاز ماسکو نواز یوکرینی صدر وکٹر یانوکووچ کی بے دخلی سے ہوا۔ انہوں نے یورپی یونین کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھنے کو مسترد کر دیا تھا۔ یوں مغرب کی حمایت سے ہونے والے ایک عوامی احتجاج کے نتیجے میں انہیں بے دخل کر دیا گیا۔ امریکی حکام اور سیاستدان بھی کھلے عام ان مظاہروں کا حصہ بنے۔ ماسکو نے اس پر سخت ردِعمل دیا اور چند ہی ہفتوں بعد نہ صرف یوکرین پر حملہ کر کے کریمیا پر قبضہ کر لیا بلکہ مشرقی یوکرین میں روس کے حامی باغیوں کی حمایت کی۔

بعدازاں پیوٹن نے الزام عائد کیا تھا کہ 2014ء میں یوکرین میں ہونے والی ’بغاوت‘ کے پیچھے امریکا کا ہاتھ تھا۔ ڈونباس میں لڑائی ختم کرنے کے لیے 2014ء میں مِنسک 1 نامی جنگ بندی کا معاہدہ کیا گیا لیکن وہ برقرار نہیں رہ سکا۔ اس کے بعد فرانس اور جرمنی کی ثالثی میں 2015ء میں مِنسک 2  معاہدہ ہوا۔ اس میں یوکرین کی جانب سے آئینی ترامیم بھی شامل تھیں تاکہ ڈونباس کے ان علاقوں کو مکمل خودمختاری اور ’خصوصی حیثیت‘ دی جائے جہاں روسی زبان بولی جاتی ہے۔ 2014ء میں ہنری کسنجر کا کہنا تھا کہ ’مسئلے کی اصل جڑ‘ یہ ہے کہ ’یوکرینی سیاستدان ملک کے ایسے علاقوں پر بھی اپنی مرضی نافذ کرنا چاہتے ہیں جو ریاست کے طابع نہیں رہنا چاہتے اور یہ کام ایک ایسے ملک میں کیا جارہا ہے جہاں کئی زبانیں بولنے والے لوگ آباد ہیں‘۔

روس پر لگنے والی موجودہ مغربی پابندیوں کا مقصد اس کی معیشت کو تباہ کرنا ہے۔ ان پابندیوں میں بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس تک روس کی رسائی کو محدود کرنا اور اس کے بیرون ملک موجود اثاثوں کو منجمد کرنا بھی شامل ہے۔ روسی حکام نے ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے یاد دلوایا ہے کہ ان کے ملک نے طویل عرصے تک مغربی پابندیوں کا سامنا کیا ہے۔ پیوٹن نے زرِ مبادلہ کے ذخائر (630 ارب ڈالر) بڑھا کر اور دیگر اقدامات اٹھا کر ملکی معیشت کو پابندیوں کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ روس یورپ میں تیل اور گیس پیدا کرنے والا اور اہم خام مال برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روس بھی یورپ کو معاشی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو کیا اس بحران کے حل کے لیے سفارتی اقدامات کی کوئی گنجائش بنتی ہے؟ فی الوقت تو سفارتی کوششوں کا بار آور ثابت ہونا مشکل ہے۔ روسی افواج کیف پر قبضہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور مغرب کی جانب سے مزید پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جس کی وجہ سے سفارت کاری کا دروازہ اب بند ہو چکا ہے۔

روس کی جانب سے یوکرین کو اس شرط پر مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے کہ یوکرینی فوجیں ہتھیار ڈال دیں۔ تباہ حال یوکرینی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ نیٹو کے حوالے سے غیر جانبدار حیثیت پر روس سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ لیکن شاید اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ دریں اثنا یورپ اس بحران کے معاشی اثرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے جو عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ اس وقت منڈیاں افراتفری کا شکار ہیں، اجناس کی قلت کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے جبکہ خام تیل کی قیمت بھی 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور مغرب اور دنیا کے اکثر ممالک معاشی مشکلات کا شکار ہوں گے۔ اب یہ سوچنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے کہ اگر جنوری میں روس اور امریکا کے درمیان ہونے والی بات چیت میں امریکا اور اس کے اتحادی روس کے سیکیورٹی خدشات پر درست ردِعمل دیتے تو کیا موجودہ بحران سے بچا جاسکتا تھا یا نہیں۔ کیا یوکرین کی نیٹو میں شمولیت پر پابندی سے روس کو مطمئن کیا جاسکتا تھا؟

کئی مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 1990ء کی دہائی کے اواخر میں سرد جنگ ختم ہونے کے بعد امریکا کی جانب سے مشرق میں نیٹو کو توسیع دینے کی حوصلہ افزائی کرنا ایک غلطی تھی۔ دیگر تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ 1990ء میں جرمنی کے اتحاد کے وقت امریکا نے ماسکو کو اس بات کی ضمانت دی تھی کہ نیٹو کو مشرق کی جانب توسیع نہیں دی جائے گی۔ اس کا اظہار ڈی کلاسیفائی کیے گئے امریکی اور جرمن دستاویزات سے بھی ہوتا ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ اس وعدے پر عمل نہ کر کے کئی دہائیوں تک روس کے خدشات میں اضافہ کیا جاتا رہا۔ تاہم اس وقت اہم بات یہ ہے کہ اس بحران کا کیا حل نکلتا ہے۔ بحران کے دوران تو اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر پیوٹن پہلے یوکرین پر عسکری طور پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور پھر وہاں نئی حکومت لانا چاہتے ہیں۔ جب اور اگر فوجی جبر کے ذریعے اس مقصد کو حاصل کر لیا جاتا ہے تو پھر مغرب کے ساتھ یورپ کے سیکیورٹی ڈانچے میں تبدیلی بشمول مشرقی یورپ میں نیٹو کی موجودگی پر مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔

اس منصوبے کا دار و مدار روس کی دُور اندیشی پر ہے کہ مغرب پابندیوں سے بڑھ کر اور کیا کر سکتا ہے کیونکہ وہ اپنی فوجیں اتارنے کے لیے تو تیار نہیں ہے۔ یوکرین کے صدر پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ روس کے خلاف جنگ میں اکیلے ہیں۔ دوسری جانب اقوامِ متحدہ بھی ایک طرح سے مفلوج ہو چکی ہے اور پیوٹن جو راستہ اختیار کرچکے ہیں اب انہیں اس سے روکنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں کیا جا سکتا۔ صرف وقت ہی بتائے گا کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ اگر روس اس جنگ میں الجھ جاتا ہے اور طویل مدت میں اسے یوکرین میں مزاحمت اور اپنے ملک میں جنگ مخالف مظاہروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک اسٹریٹیجک غلطی ثابت ہوسکتی ہے۔ فی الوقت تو مشرق مغرب کی لڑائی کا قہر یورپ پر ٹوٹ رہا ہے جہاں سرد جنگ کے بعد کا نظام اب تہس نہس ہو چکا ہے۔

ملیحہ لودھی

یہ مضمون 28 فروری 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

بشکریہ ڈان نیوز

حافظ، ڈاکٹر طاہر شمسی تمہاری یاد ستاتی ہے

امن اور محبت کا درس دینے والے حافظ ڈاکٹر طاہر شمسی اپنے مریضوں کو صبر کی تلقین کرتے کرتے ہم سے جدا ہو گئے، طاہر شمسی تو وہ شخصیت تھے کہ ان کو خون کے کینسر کے مریض دامن اٹھا کر ان کی عزت اور مرتبہ کی دعا کرتے تھے، عوامی سطح پر جو انھیں پذیرائی ملی وہ اس قابل تھے کہ ان کے کارنامے ہائے نمایاں تھے۔ 16 دسمبر دوپہر 12 بجے ان کے ادارے این آئی بی ڈی میں ان سے ملاقات ہوئی، میں اپنی صاحبزادی کی شادی کا کارڈ دینے گیا تھا، مسکرائے اور کہا کہ رب تعالیٰ ہماری بیٹی کو شاد و آباد رکھے۔ مریضوں کی او پی ڈی میں مصروف تھے، خصوصی طور پر اپنے کمرے سے اٹھ کر باہر آگئے اور پندرہ منٹ راقم سے بات کرتے رہے۔ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ ان کا پسندیدہ اخبار تھا، جب بھی راقم کا کالم چھپتا تو وہ کہتے کہ آج آپ نے کالم نہیں بھیجا، میں بھیج رہا ہوں، کیا یاد کرو گے، ادب کے معاملے میں بہت باادب تھے۔ جوش ملیح آبادی، استاد قمر جلالوی اور پروین شاکر ان کے پسندیدہ شاعر تھے۔ راقم کی ان سے بہت علیک سلیک تھی۔

کئی صحافی حضرات کو خون کے حوالے سے ان کے پاس لے کر گیا، بڑی محبت کا ثبوت دیتے، اندرون سندھ کے ایک مقامی روزنامہ کے صحافی کی صاحبزادی تھیلسیما کا شکار ہوئی تو میں ان کے پاس لے کر گیا، ان صحافی کی آنکھوں میں بچی کے حوالے سے آنسو آگئے، مسکرائے اور ان سے کہا یار! کمال کرتے ہو، ابھی تو مجھے اور آپ کو اس کی شادی کرنی ہے اور آپ دل چھوٹا کیوں کر رہے ہو؟ کینسر کے مریض اداس رنگ لیے ان کے پاس آتے اور اپنے لبوں پر مسکراہٹ سجائے خوشی سے ہم کنار ہو کر جاتے۔ ڈاکٹر طاہر شمسی قدر و منزلت کا نمونہ تھے۔ ان کی شخصیت واجب الاحترام تھی۔ بروز جمعہ کبھی کبھی ان سے ملاقات ہوتی، میں نے ان سے اپنی ایک ذاتی مشکل کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا م ش خ! زندگی جہاں لے کر جاتی ہے وہاں سکون سے چلے جائیں، رب کے بنائے ہوئے نقشے سے الجھنے کی بجائے سمجھنے کی کوشش کریں۔ آسانیاں آپ کے قدموں میں ہوں گی۔

ان کی اس بات نے مجھے بہت دلاسا دیا اور رب کے حکم سے وہ مشکل بھی آسان ہو گئی۔ امن و محبت کا درس دینے کے شہزادے تھے اور میڈیکل کے حوالے سے شہ سوار تھے دیانت اور تن دہی سے اپنا کام کرتے، آبرو مندانہ گفتگو کے عادی تھے۔ ان کا کہنا تھا زمانے سے گلہ نہ کرو، بلکہ اپنے آپ کو خوب صورتی سے بدلو، اس لیے کہ پاؤں کو غلاظت سے بچانے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ جوتے استعمال کریں، سارے شہر میں قالین نہیں بچھائے جاسکتے۔ مصنف خلیل جبران کے بھی بہت بڑے فین تھے۔ الفاظ کی ادائیگی تو کوئی ان سے سیکھتا۔ راقم ان سے بہت کچھ سیکھا کرتا تھا، وہ ادب کے شہزادے تھے۔ ان کا تعلق ایک بہت ہی معزز گھرانے سے تھا اور اردو کے حوالے سے شہ سوار اردو تھے، بہت زندہ دل انسان تھے دوپہر ان سے ملاقات ہوئی چند دن اسپتال میں رہے اور پھر رب کی طرف لوٹ گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سن کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میرا بھائی مجھ سے جدا ہو گیا ہے۔ زندگی میں کافی میتیں دیکھیں مگر حافظ ڈاکٹر طاہر شمسی کا جنازہ اپنی مثال آپ تھا۔ حد نگاہ سر ہی سر تھے، ان کی نماز جنازہ نجم مسجد ٹیپو سلطان میں ادا کی گئی۔

مرحوم کی نماز جنازہ میں مختلف شعبہ زندگی کے افراد نے شرکت کی۔ انھیں آر سی ڈی ہائی وے پر واقع یوسف پورہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ڈاکٹر طاہر شمسی کا شمار ان ہیماٹولوجسٹ میں ہوتا تھا ، جن کی خدمات دنیا میں معترف تھیں، وہ کسی بھی شہرت کے محتاج نہیں تھے۔ وہ برین ہیمرج کے باعث ایک بڑے مقامی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں ان کا آپریشن کیا گیا۔ ڈاکٹرز نے ان کی حالت بہت تشویش ناک بتائی تھی۔ ڈاکٹر حافظ طاہر شمسی نے کورونا کے حوالے سے پلازمہ سے علاج کا طریقہ بتایا تھا۔ اس علاج کی وجہ سے بے شمار مریضوں کو پلازمہ تھراپی کے باعث کورونا سے نجات ملی۔ وہ 27 سال قبل پاکستان میں بون میرو کے آغاز کے لیے امریکا گئے تھے، انھوں نے 1988 میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد 2011 میں خون کی بیماریوں کے حوالے سے امراض خون کے لیے اپنا ادارہ قائم کیا، این آئی بی ڈی میں ایٹم سیل پروگرام کے ڈائریکٹر اور برطانوی رائل کالج آف پیتھالوجسٹ کے فیلو بھی رہے۔

سنہ 1995 میں وہ پہلے اور آخری ڈاکٹر تھے جنھوں نے بون میرو ٹرانسپلانٹ روشناس کرایا اور لیاری کے نوجوانوں کا علاج کرایا۔ ان کی میت میں، میں نے کئی بلوچ حضرات کو شامل دیکھا۔ اب تک انھوں نے تقریباً 650 بون میرو کیے۔ بین الاقوامی طور پر 100 تحقیقی مقالے تحریر کیے۔ پنجاب میں صوبائی حکومت ان سے تربیت لینے کے حوالے سے خدمات حاصل کر چکی ہے۔ ان کی تحقیقاتی تحریریں بین الاقوامی جرائد میں شایع ہو چکی ہیں۔ 2016 میں ان کی اعلیٰ خدمات کے عوض لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز سے نوازا گیا۔ امریکا میں غیر سرکاری تنظیم ڈاؤ گریجویٹ ایسوسی ایشن نے یہ ایوارڈ دیا تھا۔ مریض اور ان کے لواحقین ان کو دعا میں یاد رکھتے تھے۔ وہ اعلیٰ و ارفع شخصیت کے مالک تھے۔ حافظ ہونے کے ناتے ان کی تلاوت قابل تعریف تھی۔ رب ذوالجلال ان پر بہت مہربان تھے۔ بحیثیت ڈاکٹر کے پروردگار عالم نے انھیں اپنی محبت سے بہت نوازا تھا۔

مملکت خداداد ایک اچھے ہیرے سے محروم ہو گئی۔ ان کے یوم وصال پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔ راقم کی اکثر ان سے ملاقاتیں ہوتیں، سیاست سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ہمیشہ ’’وطن رہے سلامت‘‘ کی دعا کیا کرتے تھے۔ وہ محب وطن پاکستانی تھے اور اپنے کینسر کے مریضوں سے جنون کی حد تک محبت کیا کرتے تھے۔ ان سے ایک دفعہ میں نے پوچھا طاہر بھائی! آپ کو کون سی شخصیت جو پاکستانی ہو پسند ہے؟ تو مسکرا کر جواب دیتے ہوئے کہا، میرا رب اور میرے حضور رسول اکرمؐ۔ اس کے بعد مجھے پاکستانی شخصیت میں قائد اعظم بہت پسند ہیں کہ انھوں نے ہمیں ایک خودمختار ملک سے نوازا اور آج بحیثیت مسلمان ہم عزت دار ملک میں رہتے ہیں۔ شاعری کے حوالے سے ایک شعر انھیں بہت پسند تھا
خلوصِ دل سے ہو سجدہ تو اس سجدے کا کیا کہنا
سرک آیا وہیں کعبہ جبیں ہم نے جہاں رکھ دی

وہ صراط مستقیم کو اپنا آئیڈیل کہا کرتے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے جو خون کے کینسر میں مبتلا مریض ان کے نماز جنازہ میں آئے تھے انھیں زار و قطار روتے ہوئے دیکھا۔ مریض حضرات وہیل چیئر پر ان کی نماز جنازہ میں آئے ہوئے تھے۔ حافظ ڈاکٹر طاہر شمسی ادب پرور شجر تھے۔ تہذیب اور شائستگی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف جب پاکستان میں تھے اور صاحب فراش تھے تو ان کا بون میرو انھوں نے کیا تھا، تکبر نام کی کوئی چیز ان میں نہیں تھی۔ اپنے اسٹاف سے بھی بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈاکٹر تھے، مگر پاکستان سے محبت کا رشتہ مرتے دم تک قائم رکھا۔

م ش خ

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ترک معیشت کو سنبھالنے کے لیے طیب اردوان کا فیصلہ کتنا اچھا؟ کتنا بُرا؟

ترکی کی معیشت اور اس معاملے میں صدر طیب اردوان کی شخصیت اور نظریہ اس وقت عالمی سطح پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ یہ وہی اردوان تھے جنہوں نے 2002ء کے بعد یورپ کے مرد بیمار کو دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں میں لاکھڑا کیا، لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ انہی کے نظریات کی وجہ سے آج ترکش کرنسی دنیا کی کمزور ترین کرنسی بن چکی ہے۔ ترک صدر دراصل مابعد کورونا معاشی صورتحال میں ایک بار پھر پُرعزم ہو گئے ہیں کہ وہ شرح سود کو کم سے کم درجے پر لائیں گے۔ نظریاتی طور پر یہ ان کا فارمولا ہے کہ سود وجہ ہے اور مہنگائی حاصل ہے۔ گزشتہ 2 ماہ میں انہوں نے اپنا یہ فارمولا بار بار دوہرایا ہے اور مارکیٹ نے ردِعمل دیتے ہوئے کرنسی کو دن رات گرایا ہے۔ حتیٰ کہ صرف ایک دن قبل ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قیمت ساڑھے 18 پر پہنچ گئی تھی۔ سیاسی پنڈت یہ دعویٰ کرتے نظر آرہے تھے کہ اب صدر اردوان کے خلاف صرف مارکیٹ ہی ردِعمل ظاہر نہیں کرے گی بلکہ اب عوامی ردِعمل بھی اٹھنے کو ہے جو قبل از وقت انتخابات کی وجہ نہ بھی بن سکا تو 2023ء میں صدر اردوان کا سورج ڈوبو دے گا۔

کرنسی ایکسچینج کے ترکی پر اثرات
ترکی میں کسی بھی غیر ملکی کرنسی میں بینک اکاؤنٹ کھولنا اس قدر آسان ہے کہ آپ موبائل اپیلیکشن کی مدد سے اسی وقت اپنی رقم اپنی من پسند کرنسی میں محفوظ کر سکتے ہیں۔ ترکش لیرا کو کمزور ہوتے دیکھ کر عام ترکوں نے بھی اپنی بچت ڈالر میں تبدیل کر لیں جبکہ کرنسی ایکسچینج سے منافع کمانے کی دوڑ میں بھی کئی ترک اور غیر ملکی شامل تھے۔ اس وجہ سے بھی ڈالر کی مانگ اور قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دوسری طرف ڈالر کی قیمت کے مقامی مارکیٹ پر بھی منفی اثرات پڑ رہے تھے، ہر چیز کی قیمت ڈالر کی قیمت سے نتھی کر کے بڑھایا جا رہا تھا اور مہنگائی آسمانوں کو چُھونے لگی جبکہ عام زندگی شدید مشکلات کا شکار تھی۔ یہی نہیں بلکہ ترک فیکٹریوں کو بھی درآمدی قیمت تعین کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ عالمی خریداریاں بھی کئی اداروں نے روک رکھی تھیں کیونکہ کرنسی میں صبح شام اتار چڑھاو دیکھنے کو مل رہا تھا۔

اردوان کا نیا معاشی ٹول
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ترک صدر اردوان نے کابینہ میٹنگ میں ایک فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ شام اپنی پریس کانفرنس میں عوام کو سنایا۔ اس ٹول کے مطابق اگر عام ترک اپنی بچت یا سرمایہ کار اپنے غیر ملکی زرِمبادلہ کو لیرا میں بدلوا کر انہیں طے شدہ عرصے کے لیے بچت اکاؤنٹ میں رکھتے ہیں تو حکومت ضمانت دیتی ہے کہ انہیں فوریکس مارکیٹ جتنا منافع ہی ملے گا۔ اگر فوریکس مارکیٹ سرکار کی طے شدہ شرح سود سے کم ہو جائے تب بھی سرمایہ کاروں کو حکومت کی جانب سے منافع دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے سامنے آتے ہی لوگوں نے اپنے محفوظ کیے گئے ڈالر بیچنا شروع کر دیے۔

اس میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو اس نئے ٹول سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے اور وہ بھی جو ڈالر کو گرتے دیکھ کر اپنا کرنسی ایکسچینج منافع گرتا دیکھ رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہی رات میں ایک ارب ڈالر، واپس ترکش لیرا میں بدل دیا گیا جس کی وجہ سے ترکش لیرا جو ساڑھے 18 پر تھا، وہ 12 پر آگیا۔ سوشل میڈیا پر اردوان کے اس نئے ٹول کو ’ترکو ڈالر‘ کا نام دیا گیا۔ جس نے بظاہر صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ 1987ء کے بعد ترکش لیرا اس قدر تیزی کے ساتھ پہلی بار مضبوط ہوا تھا۔ عوامی سطح پر ایک بار پھر اردوان کی حمایت پیدا ہوئی اور لوگ سڑکوں پر آکر رقص کرنے لگے۔ حکومت مخالف ٹیلی ویژن اینکرز اسکرین پر ہکا بکا رہ گئے، اپوزیشن نے اسے کسی سازش کا نام دیا۔ بہرحال اردوان نے اپنے نئی معاشی ٹول کو لاگو کر دیا۔

کیا یہ ’اردوانومکس‘ ہے؟
ترکی اور عالمی سطح پر کئی لوگ اس پر حیران تھے کہ آخر یہ ٹول ہے کیا؟ کیا یہ اردوان کی تخلیق ہے؟ سوشل میڈیا پر ایک معروف صحافی نے اسے اردوانومکس کی اصطلاح دی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود ترکی میں یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ ٹول 1970ء کی دہائی میں غیر ملکی زرِمبادلہ کے بہاؤ کو حاصل کرنے کے لیے آزمایا گیا تھا، خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم ترک شہریوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے۔ اس وقت اسے ’کنورٹیبل ترک لیرا ڈپازٹس‘ (سی ٹی ایل ڈی ایس) کہا گیا تھا۔ لیکن بالآخر یہ اسکیم مقامی بینکوں کی جانب سے قرضوں میں زبردست اضافے کا باعث بنی اور افراطِ زر کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی۔ اس سے خزانے پر غیر معمولی بوجھ پڑا اور بالآخر 1978ء میں اس اسکیم کا خاتمہ کر دیا گیا لیکن تب تک یہ 2 ارب 50 کروڑ ڈالرز کا قرضہ چڑھا چکی تھی۔

ذرائع کے مطابق حال ہی میں استعفیٰ دینے والے ترک وزیرِ خزانہ لطفی ایلوان نے بھی لیرا کی قدر میں زبردست کمی کے باوجود رواں سال اس خیال کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ اسکیم قابو سے باہر ہو گئی تو ترک حکومت کے مالی معاملات کو زبردست ٹھیس پہنچے گی اور فوریکس بحران مزید بڑھ جائے گا۔ اس کے علاوہ ایلوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس اسکیم سے دولت کی منتقلی معاشرے کے زیادہ آمدنی رکھنے والے طبقات میں ہو گی کیونکہ سرمایہ کاری کے قابل بھی زیادہ تر وہی ہیں اور انہی کو دوسروں کے مقابلے میں بہتر نفع حاصل ہو گا۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ لوگوں کی بچت اور منافع خوروں کی وجہ سے ڈالر کی بڑھتی مانگ کو روک کر کرنسی ریٹ کے مصنوعی چڑھاؤ کا سدِباب کر دیا گیا ہے کیونکہ یہ ٹول بنیادی طور پر غیر ملکی زرِ مبادلہ کی مد میں سرمایہ رکھنے سے متعلق عام ترکوں اور سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور لیرا خریدنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی خزانے پر اس کا دباؤ کم کرنے کے لیے یہ ٹول 3، 6، 9 اور 12 ماہ کے دورانیے کے لیے ہو گا اور ان مقررہ دورانیوں سے پہلے بچت اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے والوں کو بطور سزا کم منافع ملے گا۔

پرانی شراب، نئی بوتل؟
کئی ترک معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نیا طریقہ دراصل شرح سود میں غیر اعلانیہ اضافہ ہے کیونکہ افراطِ زر کے ساتھ فرق کو خزانے سے ادا کیا جانا ہے۔ معروف ماہرِ معیشت رفعت گرقائنق کا کہنا ہے کہ ’دراصل حکومت نے بغیر کسی اعلان کے شرح سود میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے‘۔ کچھ یہی الفاظ دوسرے ماہرِ معیشت مخفی ایغلمز کے ہیں، جو کہتے ہیں کہ ’اگر شرح تبادلہ 40 فیصد بڑھتی ہے اور شرح سود 14 فیصد ہو تو باقی ماندہ 26 فیصد قومی خزانے کو ادا کرنا ہو گا اور یہ شرح سود بھی نہیں کہلائے گا۔ ہے نا حیرانی کی بات؟‘ علاوہ ازیں اس نئے ٹول کے حوالے سے چند خدشات یہ بھی ہیں کہ اس سے افراطِ زر بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گی کیونکہ مارکیٹ میں لانے کے لیے مزید لیرا کی ضرورت ہو گی۔ اردوان کے اس نئے معاشی ٹول کا مختلف مثبت اور منفی پہلوؤں سے جائزہ تو لیا جاتا رہے گا اور بہت کچھ وقت بھی ثابت کر دے گا تاہم ترکش کرنسی کو کسی حد تک محفوظ بنا لیا گیا ہے، ترک معیشت کو اس گرواٹ کے علاوہ کسی منفی اشاریے کا سامنا فی الحال نہیں تھا۔

ترکی اس وقت دنیا میں تیزی سے اقتصادی ترقی کرنے والے ممالک میں سرِفہرست ہے۔ آئی ایم ایف، اسٹینڈرڈ اینڈ پورز، موڈیز، آئی ایم ایف اور اقوامِ متحدہ کے مطابق ترکی 2022ء-2021ء میں دنیا میں سب سے زیادہ سرعت سے ترقی کرنے والا ملک ہے۔ ترکی کا اس وقت تجارتی حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں 27.47 فیصد بڑھتے ہوئے 400 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے اور برآمدات میں نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 250 ارب ڈالر کے لگ بھگ آمدنی حاصل کی جاچکی ہے جبکہ دفاعی صنعت میں ترکی نے پہلے 11 ماہ میں 2 ارب 8 کروڑ ڈالر اور سیاحت کے شعبے سے کورونا کی وجہ سے مختلف پابندیاں ہونے کے باوجود 20 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی جبکہ آئندہ سال 5 کروڑ سیاحوں کی آمد سے 40 ارب ڈالر کی آمدنی کی توقع ہے۔

غلام اصغر ساجد

بشکریہ ڈان نیوز