ٹرمپ کے ایک جملے سے دنیا نے اربوں ڈالر کھو دیے

حصص کی عالمی منڈیوں میں اربوں ڈالر کے فائدے یا نقصان کی وجہ بالعموم لمحوں میں آنے والی تبدیلیاں بنتی ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے کی وجہ امریکی صدر ٹرمپ بنے اور ان کے صرف ایک جملے سے عالمی معیشت اربوں ڈالر سے محروم ہو گئی۔ امریکا میں نیو یارک سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس واقعے کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بنے، جب انہوں نے اپنے قطعی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے بارے میں یہ کہہ دیا، ’’یہ بینک پاگل ہو گیا ہے۔‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ناراضی کی وجہ فیڈرل ریزرو یا مختصراﹰ ’فَیڈ‘ کی طرف سے کیا جانے والا مرکزی شرح سود میں اضافے کا فیصلہ تھا۔

مغربی دنیا کے تقریباﹰ سبھی ممالک کے مرکزی مالیاتی اداروں کی طرح امریکا میں Fed بھی ایک خود مختار اور غیر جانبدار ادارہ ہے، جس کے فیصلوں میں واشنگٹن حکومت یا وائٹ ہاؤس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ فیڈرل ریزرو کے مرکزی شرح سود میں اضافے کے فیصلے پر دنیا کی سب سے بڑی معیشت والے ملک امریکا کے صدر نے جس عدم اطمینان کا اظہار کیا، اس پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کی خاتون سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے  یہ کہنے سے تو گریز کیا کہ صدر ٹرمپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ لیکن ساتھ ہی لاگارڈ نے یہ بہرحال کہہ دیا کہ فیڈرل ریزرو کے مالیاتی ماہرین نے اپنی معمول کی ہفتہ وار مشاورت کے بعد شرح سود بڑھانے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ قابل فہم اور زمینی اقتصادی اور مالیاتی حقائق کے عین مطابق ہے۔

روایت کے منافی تبصرہ
تاہم اقتصادی گرم بازاری کی خاطر مرکزی شرح سود کم رکھنے کے حامی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ فیڈرل ریزرو پاگل ہو گیا ہے، ایسا سخت جملہ تھا جو شاید ان سے پہلے اور وہ بھی اتنے کھردرے لہجے میں پہلے کبھی کسی امریکی صدر نے نہیں کہا تھا۔ اس جملے کا نقصان دوہرا تھا۔ ایک طرف تو یہ امریکی مرکزی بینک کے مالیاتی فیصلوں میں حکومت کی عدم مداخلت یا عدم تنقید کی واضح روایت کے منافی تھا اور دوسرے اس سے بین الاقوامی سٹاک مارکیٹوں میں جیسے ’پہاڑیوں سے بڑے بڑے پتھر لڑھکنا‘ شروع ہو گئے۔

صدر ٹرمپ کے اس جملے کے بعد، جسے فیڈرل ریزرو کی طاقت کی تصدیق بھی سمجھا گیا، بڑے بڑے سرمایہ کاروں نے اپنے شیئرز بیچتے ہوئے سٹاک مارکیٹوں سے اپنی رقوم اس لیے نکلوانا شروع کر دیں کہ بظاہر شرح سود میں اضافے کے بعد شیئرز کے بجائے نقد رقوم کی سرمایہ کاری کافی عرصے بعد پھر کچھ پرکشش دکھائی دینے لگی تھی۔ اس دوران نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں، جو دنیا کی سب سے بڑی مالیاتی منڈی ہے، ڈاؤ جونز انڈکس میں 830 پوائنٹس سے زیادہ کی کمی ہوئی، جو 3.5 فیصد سے زائد کے مالیاتی نقصان کے برابر تھی۔ یہ نیو یارک سٹاک مارکیٹ کو اس سال فروری کے مہینے کے بعد سے اب تک ہونے والے سب سے بڑا یومیہ نقصان تھا۔

مالیاتی زلزلے کے ضمنی جھٹکے
لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوئی تھی۔ امریکا میں سٹاک مارکیٹوں کو خسارہ ہونے لگا تو ایشیا اور یورپ کی تجارتی منڈیاں بند ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرق بعید میں جاپان سے لے کر چین تک اور یورپ میں ترکی سے لے کر لندن تک کے بازار ہائے حصص کھلے تو وہ دن کا زیادہ تر حصہ ’امریکا میں ایک روز قبل آنے والے مالیاتی زلزلے کے ضمنی جھٹکوں کا سامنا‘ ہی کرتے رہے۔ اس وجہ سے نیو یارک کے علاوہ ٹوکیو، ہانگ کانگ، سنگاپور، سیول، شنگھائی، ممبئی، کراچی، استنبول، قاہرہ، لندن پیرس، ماسکو، میڈرڈ اور فرینکفرٹ سمیت تقریباﹰ ہر منڈی کو مندی کے رجحان کے باعث نقصان ہی برداشت کرنا پڑا۔ مجموعی طور پر عالمی معیشت کو یکدم جس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے : ٹرمپ کا ایک جملہ، ’فیڈرل ریزرو پاگل ہو گیا ہے‘ اور عالمی معیشت یکدم بے یقنی اور بے چینی کی فضا میں اپنے اربوں ڈالر سے محروم ہو گئی۔

م م / ش ح / اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز

بشکریہ DW اردو

Advertisements

کوئی مسلم ملک اویغور مسلمانوں کے لیے کیوں نہیں بولتا ؟

چین ایک ایسا ملک بنتا جا رہا جہاں ہمہ وقت آپ پر نظر رکھی جاتی ہے۔ جہاں آپ ذرا سی غلطی پر سلاخوں کے پیچھے جا سکتے ہیں۔ جہاں سوچ پر بھی پہرہ ہے۔ یہ ایسی جگہ ہے جہاں غیر ملکی صحافیوں کو پسند نہیں کیا جاتا ہے۔’ یہ چین کے بارے میں بی بی سی کے ایک صحافی کا تجزیہ ہے جس کا احساس انھیں رواں سال چین کے بڑے علاقے سنکیانگ کے دورے کے دوران ہوا۔

‘زندہ لوگ مردہ بن کر نکلے’
’مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ لوگوں کو بڑے پیمانے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گيا ہے۔ لاکھوں لوگ لاپتہ ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگوں کے پاس کوئی حق نہیں ہے۔ آپ کو کوئی عدالت کوئی وکیل نہیں ملے گا۔ مریضوں کے لیے کوئی دوا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندہ افراد کیمپ سے مردوں کی حالت میں نکل رہے ہیں۔‘
بی بی سی کے ہارڈ ٹاک پروگرام میں انسانی حقوق کے اویغور پروجیکٹ کے نوری تاکیل نے یہ باتیں کہی ہیں۔

‘اس سے بہتر گولی مارو’
‘میری ماں اور بیوی کو کیمپ میں لے جایا گیا۔ انھیں لکڑی کی سخت کرسی پر بٹھایا جاتا ہے۔ میری بدنصیب ماں کو روزانہ اس عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میری بیوی کا گناہ بس اتنا ہے کہ وہ اویغور مسلمان ہے۔ اس کی وجہ سے، انھیں ایک علیحدہ کیمپ میں رکھا گیا ہے جہاں انھیں زمین پر سونا پڑتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ آج وہ زندہ ہے یا نہیں۔ میں برداشت نہیں کر سکتا کہ میری ماں اور بیوی کو چینی حکومت تڑپا تڑپا کر مارے۔ اس سے تو بہتر ہے کہ انھیں گولی مار دو۔ گولی کے لیے پیسے میں دوں گا۔’ یہ ان ہزاروں اویغور مسلمانوں میں سے ایک مسلمان عبدالرحمن کی آپ بیتی ہے جو کسی طرح سے جان بچا کر ترکی جانے میں کامیاب ہوئے۔

‘میں نے ایک جگر اور دو گردے نکالے’
بی بی بی کے ساتھ بات چیت میں برطانیہ میں مقیم ایک اویغور انور توہتی نے چین کے حالات کے بارے میں کہا: ‘یہ سنہ 1995 کی بات ہے۔ مجھے بلا کر ایک ٹیم بنانے کے لیے کہا گيا۔ پھر وہ ہمیں وہاں لے گئے جہاں لوگوں کو سزا کے طور پر گولی ماری گئی تھی۔ وہاں میں نے ایک جگر اور دو گردے نکالے۔ لیکن اس قیدی کی ابھی موت واقع نہیں ہوئی تھی کیونکہ قیدی کے دانستہ طور پر سینے کے اس حصے پر گولی ماری گئی تھی کہ اس کی جان فوری طور پر نہ نکلے۔’ انھوں نے مزید کہا: ‘اس وقت اس کام میں مجھے کچھ غلط کرنے کا احساس نہیں ہوا کیونکہ میں اس معاشرے میں پیدا ہوا تھا جہاں لوگوں کے ذہن میں بہت سی چیزیں ڈال دی گئی تھیں اور میرا بھی یہ خیال تھا کہ ملک کے دشمن کو ختم کرنا ہمارا فرض ہے۔’

مذکورہ بالا واقعات و تجربات چین کے سنکیانگ صوبے کے متعلق ہیں، جہاں ایک کروڑ سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ چین پر یہ الزام ہے کہ اس نے اقلیتوں اور مسلمانوں کی بڑی تعداد کو قید اور حراستی کیمپوں میں رکھا ہوا ہے۔ رواں سال اگست میں اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے بتایا کہ وہاں تقریباً دس لاکھ لوگ حراست میں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے جبکہ چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

‘علیحدگی پسند اسلامی گروہوں سے خطرہ’
برطانیہ، امریکہ اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے اداروں نے بھی اویغور مسلمانوں کی حالت پر تشویش ظاہر کی ہے، لیکن چین نے علیحدگی پسند اسلامی گروہوں کا خطرہ کہہ کر انھیں مسترد کر دیا ہے۔ دہلی میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں چین کے ماہر پروفیسر سوورن سنگھ کہتے ہیں: ‘گذشتہ ایک دہائی میں بین الاقوامی ماحول میں تبدیلی آئی ہے۔ دنیا بھر میں ایک خاص کمیونٹی کو انتہا پسندی کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے اور یہ اپنے آپ میں غلط رویہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ باقی دنیا کی طرح چین میں بھی یہ رجحان ہے۔’ وہ کہتے ہیں: ‘اویغور مسلمانوں کے متعلق چینی حکومت کی پالیسی میں اس سوچ کی جھلک ملتی ہے۔ خبریں تو یہی کہتی ہیں کہ تقریباً دس لاکھ مسلمانوں کو عقوبت خانوں میں رکھا ہوا ہے جسے چين سرکاری ‘ری ایجوکیشن کیمپ’ کہتی ہے۔ سنکیانگ کے اویغور مسلمان ثقافتی طور پر خود کو وسطی ایشیا کے ممالک کے قریب بتاتے ہیں۔ ان کی زبان ترکی کی زبان سے مماثل ہے۔

شناخت کا بحران
پروفیسر سوورن سنگھ کا خیال ہے کہ اویغور مسلمانوں کے سامنے اپنی شناخت کا بحران ہے۔ ‘وہ سوچتے ہیں کہ ان کی زبان اور ثقافت کو فروغ نہیں دیا جا رہا ہے۔ ان کے طور طریقوں کو دبایا جا رہا ہے۔ مشرقی ترکمانستان کی آزادی تحریک ایک علیحدہ مسئلہ ہے جو چین کو ناگوار ہے۔ چین کی حکومت انھیں اقلیت کے طور پر دیکھتی ہے۔ سنکیانگ سرحدی ریاست ہے جو وسطی ایشیائی ممالک سے ملتی ہے۔‘ برطانیہ اور امریکہ جیسی طاقتیں چين کے سامنے اویغور مسلمانوں کے مسائل محتاط انداز میں رکھتی ہیں۔ اور اکثر یہ تنقید کے زمرے میں آتی ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مغرب کی یہ قوتیں چین کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتی ہیں؟ پروفیسر سوورن سنگھ چینی حکومت کے ڈھانچے اور اس کی سرمایہ کاری کی طاقت کو اس کی اہم وجہ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘چین جس طرح گذشتہ تین دہائیوں میں ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے ابھرا ہے اس کی وجہ سے اس کے متعلق پوری دنیا کے رویے تبدیلی آئی ہے۔ ایک پارٹی کی حکمرانی چین کو مختلف انداز سے طاقت فراہم کرتی ہے۔ چین کی سرمایہ کاری کی صلاحیت بہت مضبوط ہے۔ ان تمام وجوہات کے سبب کوئی بھی چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرتا ہے۔‘

کشمیر میں بھی اویغور
بیسویں صدی کے آغاز میں اویغور مسلمان کشمیر اور لداخ کے علاقوں میں آباد تھے، لیکن بعد میں وہ وہاں سے نقل مکانی کر گئے۔ کشمیر میں آج بھی چند ایسی گلیاں موجود ہیں جن کے نام ظاہر کرتے ہیں کہ وہاں اویغور مسلمان رہا کرتے تھے۔ آج دنیا میں تقریباً 24 ممالک ہیں جہاں اویغور مسلمان رہتے ہیں، جو چین سے باہر ہونے کے باعث نسبتاً زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ کیا ہندوستان اور دیگر مسلم ممالک کے لوگ کبھی اویغور مسلمانوں کے لیے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں؟

اس سوال پر پروفیسر سوورن سنگھ کہتے ہیں: ‘انڈیا کو اس کے متعلق بات ضرور کرنی چاہیے۔ کیونکہ انڈونیشیا کے بعد انڈیا دوسرا ملک ہے جہاں مسلم آبادی سب سے زیادہ ہے۔’ وہ کہتے ہیں: ‘لیکن دوسرے ممالک، جو ہمیشہ اسلام کے نام پر آگے بڑھ کر باتیں کرتے ہیں، چاہے وہ پاکستان، سعودی عرب یا ایران ہو، وہ سب اویغور مسلمانوں کے مسائل پر خاموش رہتے ہیں۔ جب اسلامی ممالک کی تنظیم کی طرف سے اس مسئلے کو نہیں اٹھایا جاتا تو باقی ملکوں سے کیا امید کی جا سکتی ہے؟’

سندیپ سونی
بی بی سی ہندی، دہلی

فنوم پنہ…ایک تاریخی شہر

فنوم پنہ کمبوڈیا کا دارالحکومت ہے اور ملک کے جنوبی حصے میں دریائے میکونگ اور Tonle Sab کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ ایک اہم بندرگاہ ہے۔ یہ شہر 1970ء کی دہائی میں جنگ و جدل کے دوران بْری طرح تباہ و برباد ہو گیا تھا اور اس کی آبادی میں بھی خاصی حد تک کمی واقع ہو گئی تھی لیکن 1980ء کی دہائی میں اس کی دوبارہ تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ یہ شہر روایتی طور پر میکونگ وادی کیلئے تجارتی شہر تھا۔ چونکہ یہاں ذرائع آمد و رفت کی تمام سہولتیں میسر تھیں۔ مال کی برآمدگی اور اس کا نکاس میکونگ ڈیلٹا کے ذریعے جنوبی چین کے سمندری راستے سے ویت نام تک ہوتا ہے، ان کی بڑی مصنوعات میں ٹیکسٹائلز، کھانے پینے کی اشیاء اور بیوریجز شامل ہیں۔

اس شہر میں فرانسیسیوں کی قابل قدر نو آبادکاری ہوتے ہوئے بھی یہ ایشیا کا دلکش شہر تصور کیا جاتا ہے۔ فنوم پنہ ثقافتی اور تعلیمی انسٹی ٹیوٹ کا گہوارہ تھا مگر یہاں کے بیشتر ادارے 1975ء میں بند کر دئیے گئے جن میں Khmer تہذیب و تمدن اور آرٹ کا اعلیٰ نمونہ گوتم بدھ میوزیم انسٹیٹیوٹ تھا۔ قومی عجائب گھر جو چھٹی صدی کی نوادرات سے مزین تھا اس کی اہمیت کو بھی نقصان پہنچا، اعلیٰ تعلیم کیلئے فنوم پنہ کی یونیورسٹیاں جو 1960ء سے موجود تھیں وہ بھی متاثر ہوئیں۔ 1954ء میں بڈھسٹ یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا اور فائن آرٹس یونیورسٹی 1965ء میں قائم ہوئی۔ علاوہ ازیں سائنسی بنیادوں پر زرعی یونیورسٹی بھی 1965ء میں ہی قائم کی گئی۔

یہاں کی دلکشی اور دلچسپی کے لیے گوتم بدھ کے مندر اور سابقہ حکمرانوں کے محل ہیں جو قابل دید ہیں۔ Khmers قوم سے غالباً 14 ویں صدی کے آخر میں پہلی آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوا اور 1434ء میں ان لوگوں نے Thom Angkor کو اپنا گڑھ بنا لیا۔ فنوم پنہ بدمعاش لوگوں کی آماجگاہ تھا۔ یعنی اس کا کوئی پرسان حال نہ تھا اور 1867ء میں کمبوڈیا کا دارالحکومت بننے سے پہلے کئی مرتبہ انہی کے زیرتسلط رہا۔ 1970 کی دہائی میں کمبوڈیا کی جنگ و جدل میں شہر میں سماجی سطح پر انقلاب آیا اور اس وقت تقریباً دو ملین شہریوں نے زرعی ترقی کے لیے کام کیا۔ لہٰذا 1980 میں یہ شہر دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا ہو گیا اور کچھ تہذیبی انسٹیٹیوٹ اور تعلیمی سینٹر دوبارہ کھول دیے گئے۔

محمد دانیال

جمہوریہ چیک کا دارالحکومت پراگ : ایک تاریخی شہر

پراگ (Prague) یورپ میں واقع جمہوریہ چیک کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ ملک کا سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور تعلیمی مرکز ہے۔ وسطی بوہیمیا میں دریائے ولتواوا کے کنارے واقع یہ شہر تقریباً 13 لاکھ آبادی کا حامل ہے۔ یہ یورپی یونین کا 14 واں سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شہر تقریباً ایک ہزار سال قدیم ہے۔ یہاں پر بہت سے تاریخی اہمیت کے مقامات واقع ہیں۔ ان میں پراگ کیسل، چارلز برج اور اولڈ ٹاؤن سکوائر شامل ہیں۔ تاریخی اہمیت کے سبب پراگ کے مرکزی علاقے کو یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا ہے۔ شہر میں دس سے زائد بڑے عجائب گھر ہیں۔ یہاں تھیٹروں، گیلریوں اور سینماؤں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ یہاں سب سے پہلے پراگ کیسل بنا تھا۔ پھر اس کے اردگرد آبادی بڑھتے بڑھتے شہر کی شکل اختیار کر گئی۔

پہلی عالمی جنگ میں آسٹرو ہنگری سلطنت کی شکست کے بعد چیکوسلواکیہ وجود میں آیا۔ پراگ کو اس کا دارالحکومت بنایا گیا۔ اس وقت پراگ صنعتی لحاظ سے بہت ترقی یافتہ شہر تھا۔ 1930ء میں اس کی آبادی ساڑھے آٹھ لاکھ تھی۔دوسری عالمی جنگ کے دوران ایڈولف ہٹلر نے 15 مارچ 1939ء کواپنی فوجوں کو پراگ میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ تاریخ کے زیادہ تر ادوار میں پراگ میں متعدد قومیں بیک وقت آباد رہیں جن میں جرمن اور چیک اہم ہیں۔ ایک بڑی تعداد یہودیوں پر مشتمل تھی۔ نازیوں کے قبضے کے دوران ان کی زیادہ تر آبادی کو بے دخل کر دیا گیا یا مار دیا گیا۔ 1942ء میں پراگ میں نازی جرمنی کے انتہائی طاقت ور رہنما ریہارڈ ہائیڈرخ کو قتل کیا گیا جس کے بعد ہٹلر نے خونیں ردعمل کا حکم دیا۔

فروری 1945ء میں امریکی ایئر فورس نے متعدد بار بمباری کی۔ اس کے نتیجے میں 701 افراد ہلاک اور ایک ہزار زخمی ہوئے۔ تاہم بیشتر تاریخی عمارات محفوظ رہیں۔ دوسرے شہروں کی نسبت پراگ کو اس جنگ کے دوران کم نقصان پہنچا۔ جرمنوں کے قبضے کے خاتمے سے قبل ان کے خلاف بغاوت نے جنم لیا۔ اس دوران سڑکوں اور گلیوں میں خونیں لڑائیاں ہوئیں۔ چند دن بعد سوویت یونین کی سرخ فوج یہاں داخل ہو گئی جس کی قابل ذکر مزاحمت نہ ہوئی۔ سرد جنگ کے دوران اس پر سوویت یونین کا سیاسی اور عسکری کنٹرول رہا۔ یہاں سوویت حاکم جوزف سٹالن کے سب سے بڑے مجسمے کا افتتاح 1955ء میں ہوا اور اسے 1962ء میں تباہ کر دیا گیا۔

چیکوسلواکیہ کے مصنفین کی چوتھی کانگریس نے حکومت وقت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ 31 اکتوبر 1967ء کو طلبہ نے شہر کے ایک مقام پر احتجاج کیا۔ اس کے بعد ’’بہارِ پراگ‘‘ کا آغاز ہوا جس میں ملک میں اداروں کی جمہوری تشکیل نو کا ارادہ کیا گیا جس کا ساتھ اس وقت کے مقامی کمیونسٹ رہنماؤں نے بھی دیا۔ لیکن وارسا پیکٹ کے ممالک، سوائے رومانیہ اور البانیہ کے، 21 اگست 1968ء کو ٹینکوں کے ساتھ ملک میں داخل ہو گئے اور اصلاحات کے عمل کو روک دیا۔ چیکو سلواکیہ کے چیک اور سلواکیہ کی صورت میں الگ الگ ملک بن جانے کے بعد پراگ جمہوریہ چیک کا دارالحکومت قرار پایا۔

ترجمہ: ر۔ع

کیا شام میں واقعی روس کے ارادے خطرناک ہیں ؟

روس زمین سے فضا میں مار کرنے والے اپنے جدید ترین ایس 300 میزائلوں کو شام کو فروخت کرنے کی بات گزشتہ ایک دہائی سے کر رہا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اس میں ایک عنصر تو اسرائیل کی سفارتی کوششوں کا ہے اور دوسرا شام میں اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی فضائی کارروائیوں سے روس کی لاتعلقی۔ لیکن روس اب ایسے اشارے دے رہا ہے کہ شام پر اسرائیل کے فضائی حملے اس کی حکمت عملی کے خلاف ہیں اور اس کی اسرائیل اور شام کے معاملات میں غیر جانبداری کے دن ختم ہو گئے ہیں۔ سنہ 2011 میں پہلی مرتبہ یہ خبر سامنے آئی تھی کہ روس اپنے جدید ترین میزائلوں ایس 300 کی چار بیٹریاں شام کو فروخت کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

ہر بیٹری چھ لانچ وہیکل یا میزائل داغنے والے ٹرک پر مشتمل ہوتی ہے اور اس کے علاوہ نگرانی اور نشاندہی کرنے والے راڈار اور ایک کمانڈر پوسٹ بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ دفاعی نظام انتہائی جدید اور متحرک سمجھا جاتا ہے لیکن اس سے شام کی دفاعی صلاحیتوں میں کوئی انقلابی اضافہ نہیں ہو گا۔ شام کے پاس پہلے ہی ایسے میزائل موجود ہیں جو وہی کام کرتے ہیں جو روسی میزائل کر سکتے ہیں۔ لیکن جب یہ روسی میزائل شام کی دیگر میزائل بیٹریوں اور راڈاروں سے منسلک ہو جائیں گے تو اِس کا فضائی دفاعی نظام اور زیادہ موثر ہو جائے گا۔ ایس 300 میزائلیوں کے علاوہ روس کا ارادہ ہے کہ وہ شام کے فضائی دفاعی کمانڈ پوسٹ کو خود کار نظام مہیا کرے جو روس کے وزیر دفاع سرگئی شاواگو کے الفاظ میں اس بات کو یقنی بنائے گا کہ شام کی تمام ایئر ڈیفنس تنصیبات اور فضائی نگرانی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کا نظام ایک مرکز سے کنٹرول ہو سکے گا۔

اس کے علاوہ روس کی فضائیہ کے فضا میں موجود تمام جہازوں کی نشاندھی بھی یقینی ہو جائے گی۔ یہ بات شام کے موجودہ فضائی نظام میں پائی جانے والی خامی کا ایک طرح سے اعتراف بھی جس نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کی طرف سے ایک فضائی حملے کے دوران روس کے نگرانی کرنے والے جہاز الیوشن 20 کو حادثاتی طور پر نشانہ بنا کر تباہ کر دیا تھا۔ روس واضح طور پر شام کے ایئر ڈیفنس پر اپنا کنٹرول بڑھا رہا ہے لیکن ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا وہ واقعی اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی فضائی کارروائیوں کا سدِباب کرنا چاہتا ہے۔ سرگئی شاواگو نے مزید کہا ہے کہ بحیرہ احمر کے شام سے متصل کچھ حصوں پر سٹلائٹ سے نگرانی، راڈاروں اور شام پر حملہ آور ہونے والے لڑاکا طیاروں کے مواصلاتی نظام کی ریڈیو الیکٹرانک جامنگ بھی کی جائے گی۔

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شام روس میں زیادہ موثر کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن ماسکو سے اس ضمن میں متضاد بیانات اور اشارے مل رہے ہیں۔
روس کی وزارت دفاع نے اپنے فضائی نگرانی کرنے والے جہاز کو نشانہ بنائے جانے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا اور اس کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا تھا۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس کے طیاروں نے شامی فوج کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا تھا جہاں لبنان کے شیعہ مسلح گروہ حزب اللہ کو ایران کی طرف سے اسلحہ بنانے والی مشینین پہنچائی جا رہی تھیں۔ اسرائیل نے مزید کہا تھا کہ جس وقت روسی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا اس کے طیارے اپنی کارروائی مکمل کر کے واپس پہنچ چکے تھے اور اس واقعہ کا ذمہ دار اس نے شامی فوج ، ایران اور حزب اللہ کو قرار دیا۔ اس سلسلے میں اسرائیل کے ایک دفاعی وفد نے ماسکو کا دورہ کیا تاکہ وہاں اپنی وضاحت پیش کی جا سکے۔

اسی دوران روس کے صدر ولادمیر پوین نے غالباً اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کی وجہ سے اس ساری صورت حال کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ یہ تنازع اس وقت بحرانی کیفیت اختیار کرتا نظر آ رہا تھا جب روس کی وزارتِ دفاع نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں اسرائیلی ہوا بازوں کو غیر پیشہ وارانہ رویے اور مجرمانہ غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا۔ اس کے دو دن بعد ہی روس نے شام کو ایس 300 میزائیل فروخت کرنے کا اعلان کر دیا۔ لہٰذا اب روس کی کیا پوزیشن ہے اور اس نظام کی فراہمی سے کیا فرق پڑے گا اورشام کا ایئر ڈیفنس کس حد تک مضبوط ہو سکے گا۔ روس کے موقف میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شام کے شہر لتاکیہ میں روس کے فضائی اڈے پر جدید ترین روسی میزائل اور راڈار موجود تھے ۔ یہ بڑی آسانی سے اسرائیل کو کہہ سکتا تھا کہ شامی فضائی حدود کا دفاع کرنے کے لیے وہ ان کو استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن بظاہر اس نے ایسا نہیں کیا۔

روسی فوج میں بجا طور پر اپنے ایک انتہائی جدید جہاز کی تباہی اور پندرہ فوجیوں کی ہلاکت پر غم اور غصہ پایا جاتا ہے اور ماسکو کچھ کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن کیا اس غصے کا رخ اسرائیل کے بجائے اپنے اتحادی شام کی طرف ہونا چاہیے۔ لگتا ہے کہ روس کے فضائی اڈے سے انتہائی قریب اسرائیل نے حملہ کر کے سرخ لائن عبور کر لی ہے۔ اسرائیل کھلے بندھوں کہہ چکا ہے کہ حزب اللہ کو ایران کی طرف سے ہتھیاروں کی فراہمی اور شام میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ کو روکنا اس کے دفاعی ترجیحات میں شامل ہیں۔ مگر اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ روس یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ شام پر اسرائیل حملوں کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتا جو اس کے خیال میں شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگر واقعی روس کا یہ ارادہ ہے تو اسرائیل کو اب احتیاط سے کام لینا ہو گا۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں شام میں اس حوالے سے کئی کشیدہ لمحات اور غیرمتوقع دھچکے لگ سکتے ہیں۔

جوناتھن مارکس
تـجزیہ نگار، دفاعی و سفارتی امور

بشکریہ بی بی سی اردو

انڈونیشیا میں ہولناک زلزلے کے بعد سونامی سے تباہی

انڈونیشیا میں شدید زلزلے کے بعد آںے ولے بدترین سونامی سے تقریباً 400 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو گئے۔ زلزلہ وسطی انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.5 ریکارڈ کی گئی، زلزلہ اتنا شدید تھا کہ کئی کلومیڑ دور علاقوں میں موجود افراد نے بھی اس کے جھٹکے محسوس کیے۔ سونامی کے نتیجے میں 20 فٹ اونچی لہریں بلند ہوئیں جبکہ زلزلے کے سبب کئی مقامات پر سڑک میں دراڑیں پڑ گئیں۔ زلزلے سے سب سے زیادہ شہر پالو متاثر ہوا جس کی آبادی ساڑھے 3 لاکھ کے لگ بھگ تھی، بلند عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ کئی گھر مکمل طور پر زمین بوس ہوگئے۔

 

 

 

 

 

ایف-35 فائٹر جیٹ : دنیا کا مہنگا ترین جنگی جہاز گر کر تباہ

امریکی فوج کو اپنے انتہائی مہنگے ایف-35 فائٹر جیٹ پروگرام میں پہلا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایک ایف – 35 بی جیٹ جنوبی کیرولینا میں گر کی تباہ ہو گیا ۔  امریکی میرن کور نے کہا کہ پائلٹ بحفاظت طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے نکلنے میں کامیاب رہا اور یہ کہ اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ میرن کور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طیارے کے حادثے کے معاملے میں جانچ جاری ہے۔ ایف – 35 دنیا میں اپنی قسم کا سب سے وسیع اور مہنگا اسلحہ جاتی پروگرام ہے۔ عالمی سطح پر اس کے تین ہزار طیارے فروخت کرنے کا منصوبہ ہے اور یہ پروگرام 30 سے 40 سال تک جاری رہے گا۔ لیکن اس پروگرام کو اس کی قیمت اور جنگی صلاحیت کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

جو جیٹ طیارہ حادثے کا شکار ہوا ہے اس کی قیمت دس کروڑ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ حالانکہ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق پینٹاگون کے ایک نئے معاہدے میں بتایا گیا ہے کہ 141 ایف – 35 جیٹ طیاروں کی قمیت تقریباً نو کروڑ ڈالر فی طیارہ ہے۔ یہ ماڈل ایف – 35 طیاروں کی تین اقسام میں سے ایک قسم ہے جو کہ اپنے کام پر معمور ہے۔ امریکہ نے ایف – 35 بی کا افغانستان میں طالبان کے خلاف پہلی بار استعمال کیا۔ اس سے چار ماہ قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے ایف – 35 اے کا دو مختلف حملوں میں استعمال کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار ایف – 35 جیٹ طیاروں کی یہ کہتے ہوئے تعریف کی ہے کہ دشمن اسے ‘دیکھ نہیں سکتا۔’ جبکہ یہ جیٹ ایسا نہیں ہے کہ نہ نظر آئے۔ اس کے بنیادی کنریکٹر لوکہیڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ ‘چھپنے کی اس کی جدید صلاحیت’ کی وجہ سے یہ راڈار کی گرفت سے باہر رہتا ہے۔

فیس بک صارفین کے پانچ کروڑ اکاؤنٹس پر سائبر حملہ

سماجی رابطے کی سائٹ فیس بک کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے اس کے ایک فیس ‘وویو ایز’ کا استعمال کرتے ہوئے پانچ کروڑ فیس بک اکاؤنٹس پر حملہ کیا۔ اس حملے کے بعد انہیں ان تمام فیس بک اکاؤنٹس کا کنٹرول حاصل ہو گیا۔ فیس بک کے مطابق اس نے پولیس کو اس بارے میں مطلع کر دیا ہے۔ اس حملے سے متاثر ہونے والے افراد کو دوبارہ لاگ اِن کرنا پڑا۔ فیس بک کے شعبے پراڈکٹ مینجمنٹ کے نائب صدر گائے روزن کا کہنا ہے یہ خامی ٹھیک کر دی گئی ہے۔ اور تمام متاثرہ اکاؤنٹس کو دوبارہ سیٹ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ احتیاطی تدبیر کے طور پر چار کروڑ مزید اکاؤنٹس کو بھی ری سیٹ کیا گیا۔ فیس بک کے دو ارب سے زیادہ ماہانہ فعال صارفین ہیں اور اس کے حصص میں تین فیصد کی کمی ہوئی۔

متاثرین کون ہیں؟
کمپنی یہ نہیں بتائے گی کہ یہ پانچ کروڑ صارفین دنیا کے کس حصے کے ہیں تاہم انھوں نے یورپی صارفین سے متعلق آئرلینڈ میں فیس بک کی یورپیئین ڈیٹا نگرانوں کو اس کی اطلاع کر دی ہے۔ ممکنہ طور پر متاثرین کو فیس بک لاگ ان دوبارہ کرنے کا پیغام ملا۔ تاہم فیس بک کا کہنا ہے کہ صارفین کو اپنا پاس ورڈ بدلنے کی ضرورت نہیں۔ گائے روزن کا کہنا تھا ’چونکہ ہم نے ابھی اس کی تحقیقات شروع کی ہیں اور ابھی یہ علم نہیں کہ صارفین کے اکاؤنٹس کا غلط استعمال ہوا یا ان کی معلومات تک رسائی حاصل ہوئی۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس حملے کے پیچھے کون ہے اور اس کا تعلق کہاں سے ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’لوگوں کی پرائویسی کا تحفظ بہت اہم ہے اور ہم اس سب کے لیے معذرت خواہ ہیں۔‘

یہ ’ویو ایز‘ کیا ہے؟
فیس بک کا ویو ایز کا فنکشن ایک پرائیویسی فیچر ہے جس میں لوگ یہ دیکھ سکتے ہیں ان کی ان اپنی پروفائل دیگر صارفین کو کیسے نظر آتی ہے۔ اس میں یہ پتا چلتا ہے کہ ان کے دوست اور دوستوں کے دوست یا دیگر عوام ان کی پروفائل میں کیا کیا دیکھ سکتے ہی۔ ’حملہ آوروں نے اس فیچر میں کئی وائرس پائے جن کی مدد سے وہ فیس بک کے ٹوکن چرانے میں کامیاب ہو گئے اور پھر انہیں دوسروں کے فیس بک اکاؤنٹس تک رسائی مل گئی۔‘ روزن کے مطابق ’یہ فیس بک ٹوکن دراصل ڈیجیٹل کیز کے برابر ہوتے ہیں جو انہیں فیس بک پر لاگ ان رکھتے ہیں اور انہیں ایپ میں بار بار پاس ورڈ ڈالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔‘

اس حملہ کا فیس بک پر کیا اثر پڑے گا ؟

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب فیس بک قانون سازوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان کے ہاتھ میں موجود صارفین کا ڈیٹا محفوظ ہے۔  ایک پریس کانفرنس میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ کمپنی سکیورٹی کو سنجیدگی سے لیتی ہے تاہم اس پر برے لوگوں کی جانب سے بار بار حملے کیے جاتے ہیں۔‘

ڈیو لی ٹیکنالوجی رپورٹر، شمالی امریکہ

بشکریہ بی بی سی اردو

میں نے اپنے صارفین کی پرائیویسی فیس بک کو فروخت کر دی

واٹس ایپ جیسی دنیا کی مقبول ترین مسیجنگ اپلیکشن تشکیل دینے والے افراد میں سے ایک برائن ایکٹن اس بات پر پچھتاوا ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے اپنے صارفین کی پرائیویسی فروخت (فیس بک کو) کر دی۔ امریکی جریدے فوربس کو دیئے گئے انٹرویو میں واٹس ایپ کے شریک بانی نے ایک سال بعد خاموشی توڑتے ہوئے بتایا کہ آخر انہوں نے ایک سال پہلے فیس بک چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا اور آخر کیوں انہوں نے فیس بک پر واجب الادا 85 کروڑ ڈالر (ایک کھرب پاکستانی روپے سے زائد) چھوڑ دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ واٹس ایپ سے کمانے کے طریقہ کار کے حوالے سے فیس بک کے اندر تنازعات تھے۔ خیال رہے کہ فیس بک نے 2014 میں واٹس ایپ کو 19 ارب ڈالرز کے عوض خریدا تھا۔

انٹرویو کے دوران برائن ایکٹن نے بتایا کہ مارک زکربرگ اور فیس بک کے دیگر عہدیداران واٹس ایپ کے صارفین کے لیے ٹارگٹڈ اشتہارات چاہتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ بزنس اینالسٹ ٹولز کو فروخت کیا جائے گا اور ان منصوبوں سے انہیں اتفاق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا ‘ میں نے اپنی کمپنی فروخت کر دی، میں نے اپنے صارفین کی پرائیویسی بڑے منافع کے لیے بیچ دی، میں نے ایک انتخاب کیا اور لوگوں کی پرائیویسی پر سمجھوتہ کیا، اب اس پچھتاوے کے ساتھ میں زندگی گزار رہا ہوں’۔ رواں سال مارچ میں جب فیس بک اینالیٹکا ڈیٹا اسکینڈل کی زد میں تھی تو برائن ایکٹن نے ڈیلیٹ فیس بک مہم کا ٹوئیٹ کیا تھا جبکہ ان کے ساتھی اور واٹس ایپ کے شریک بانی جان کوم نے اپریل میں فیس بک سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

اسی طرح رواں ہفتے انسٹاگرام کے دونوں بانیوں نے بھی فیس بک سے استعفیٰ دے دیا جس کی کوئی واضح وجہ تو نہیں بتائی گئی مگر مختلف رپورٹس کے مطابق ان دونوں کے بھی فیس بک کی جانب سے انسٹاگرام میں مداخلت پر مارک زکربرگ سے اختلافات تھے۔ برائن ایکٹن کو فیس بک کو الوداع کہنے پر 85 کروڑ ڈالرز کا نقصان ہوا، اگر وہ 6 ماہ بعد ایسا کرتے تو انہیں یہ رقم اسٹاک کی شکل میں ملتی۔ انہوں نے اب بتایا کہ فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ سے اشتہارات اور دیگر ذرائع سے پیسے کمانے پر مسلسل زور دیا جارہا تھا جبکہ وہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے فیچر کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھی، جس کے بارے میں جان ایکٹن کا ماننا تھا کہ یہ صارفین کی پرائیویسی کے لیے بہت ضروری فیچر ہے۔

انہوں نے پہلی بار تصدیق کی کہ واٹس ایپ کے بانیوں اور فیس بک سی ای او مارک زکربرگ اور سی او او شیرل سینڈبرگ کے درمیان تعلقات میں بہت زیادہ سرد مہری تھی۔ جان ایکٹن کی جانب سے واٹس ایپ میں اشتہارات دکھانے کے فیس بک منصوبے کی شدید مخالفت کی گئی تھی اور جب یہ فیصلہ کر لیا گیا تو انہوں نے کمپنی کو چھوڑ دیا۔ واٹس ایپ کو خریدنے کے موقع پر جو معاہدہ ہوا تھا اس کے تحت یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اگر فیس بک نے بانیوں کی مرضی کے خلاف اشتہارات کو متعارف کرایا تو اپنے اسٹاک لے کر الگ ہو سکیں گے.

فیس بک کے وکلاء کے خیال میں واٹس ایپ سے کمانے سے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔ برائن ایکٹن نے بتایا ‘ اس ملاقات میں زکربرگ نے مجھے کہا یہ ممکنہ طور پر آخر بار ہے جب تم مجھ سے بات کر رہے ہو’۔ 3 سال تک فیس بک میں رہنے کے باوجود برائن ایکٹن کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی مارک زکربرگ کے قریب نہیں ہو سکے ‘میں آپ کو اس شخص کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں بتا سکتا’۔ گزشتہ سال برائن ایکٹن نے ایک میسجنگ ایپ سگنل میں 5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جو کہ واٹس ایپ کے متبادل کے طور پر خود کو پیش کرتی ہے۔

روس ترکی معاہدہ شام کو تباہی سے کب تک بچائے گا ؟

امریکہ کا کہنا ہے کہ اُس کی فوجیں عراق اور شام میں داعش کو شکست دینے کے قریب پہنچ چکی ہیں اور اُس کا ان دونوں ملکوں سے فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ امریکی فوج اُن علاقوں میں امن برقرار رکھنے کے لئے موجود رہے گی جہاں دہشت گردی اور تنازعے نے شدت اختیار کر رکھی ہے۔ اس اعلان سے قبل روس اور ترکی کے درمیان ادلب صوبے میں سرکاری فوجوں اور باغیوں کے درمیان غیر فوجی علاقے کے تعین پر اتفاق ہوا تھا۔ شام میں سات برس سے جاری لڑائی میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی غرض سے روس کی مدد سے سرکاری فوجوں کی بھرپور کارروائی جاری ہے اور اب’ ادلب‘ مخالف فوجوں کے زیر قبضہ آخری علاقہ رہ گیا ہے۔

حلب اور باغیوں کے زیر قبضہ دیگر علاقوں پر حملوں کے باعث وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی ہے اور خدشہ ہے کہ بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ شام کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سٹیفن ڈی مسٹورا نے روس اور ترکی کی طرف سے امن کا ضامن بننے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب جبکہ سمجھوتہ طے پا گیا ہے، سیاسی عمل کو جلد آگے بڑھانے کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ تاہم اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ویزیلی نیبین زیا نے سٹیفن ڈی مسٹورا کو باور کرایا ہے کہ امن کے ضامنوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے دباؤ ڈلوانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

اُنہوں نے کہا کہ روس سلامتی کونسل کے رکن تمام ممالک کے مقابلے میں شام میں سیاسی عمل کو فروغ دینے کے لئے زیادہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اُنہوں نے شام کے لئے اقوام متحدہ کے نمائندے کو مشورہ دیا کہ وہ اس عمل کی قیادت کرنے کے بجائے صرف مدد دینے پر اکتفا کریں۔ اُدھر امریکہ نے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا روس شام میں پر امن حل کے لئے واقعی سنجیدہ ہے۔ شام کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے جیمز جیفرے نے کہا ہے کہ اگر روس حقیقی طور پر شام میں قیام امن کے لئے سنجیدہ ہے تو اسے اس بات کو یقینی بنانا چاہئیے کہ ایران اور اُس کی ملیشیا شام سے مکمل طور پر نکل جائیں۔ اس تناظر میں تجزیہ کار اور اہل کار سوال کرتے ہیں کہ حالیہ سمجھوتہ کب تک قائم رہ سکے گا۔ انسانی بھلائی کے لئے اقوام متحدہ کے انڈر سیکٹری مارک لو کاک کہتے ہیںِ کہ کیا یہ صرف عارضی سمجھوتہ ہے یا پھر یہ اُمید کی آخری کرن ہے؟‘

بشکریہ وائس آف امریکہ