ایٹمی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے ذخائر

نیویارک میں امریکی سائنسدانوں کی تنظیم ’’فیڈریشن آف امریکن سائنس دانوں‘‘ نے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کے حوالے سے نئی فہرست جاری کر دی ہے جس کے مطابق ایٹمی طاقت کے حامل ممالک کے پاس ہتھیاروں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ دنیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار روس کے پاس ہیں جن کی تعداد 7 ہزار ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ کے پاس 6800، فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 270، برطانیہ کے پاس 215، پاکستان کے پاس 140، بھارت کے پاس 130، اسرائیل کے پاس 80 اور شمالی کوریا کے پاس 60 ایٹمی ہتھیار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ’’ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار‘‘ بھی تیار کر رہا ہے جو سائز میں اس قدر چھوٹے ہیں کہ انہیں انتہائی آسانی سے میدان جنگ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس روایتی ایٹمی ہتھیار صرف شہروں یا دیگر بڑے انفراسٹرکچر پر ہی گرائے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکٹیکل ہتھیار جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے ذریعے بھی انتہائی مختصر نوٹس پراستعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ’’نیوکلیئر ٹرائی ایڈ‘‘ کی تیاری کے بھی قریب پہنچ چکا ہے جس سے وہ زمین، فضاء اور سمندر تینوں جگہوں سے ایٹمی میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ بھارت نے 1960ء کی دہائی میں اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر دیا تھا اور 80 کی دہائی میں ایٹمی طاقت بن چکا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو مجبوراً اپنا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی ترغیب ملی اور آج اس کے پاس بھارت سے زیادہ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

محمد ابراہیم

Advertisements

چین کے بارے میں دلچسپ حقائق

٭ قدیم چین میں سپاہیوں کے لباس بعض اوقات کاغذ کے بنے ہوتے تھے۔ 

٭ لفظ چین ’’چن‘‘ شاہی سلسلے سے لیا گیا ہے۔ اس سلسلے کے پہلے بادشاہ کا نام چن شی ہوانگ (260-210 قبل مسیح) تھا۔ 

٭ تاریخ میں چین کے دارالحکومت کا نام بدلتا رہا۔ اس کا نام ڈاڈو، یان جِنگ، بی پنگ، پیکنگ یا بیجنگ رہا۔ 

٭ چینی تہذیب کو قدیم ترین تصور کیا جاتا ہے۔ بعض تاریخ دانوں کے مطابق اس کی ابتدا چھ ہزار قبل مسیح میں ہوئی۔ 

٭ چین اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کا رقبہ کم و بیش برابر ہے لیکن چین کی آبادی امریکا سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔ 

٭ چین کی تقریباً 59 فیصد سے زائد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ 

٭ 2003ء میں چین کسی انسان کو خلا میں بھیجنے والا تیسرا ملک بن گیا۔ 

٭ بہت سے تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ فٹ بال کا آغاز ایک ہزار قبل مسیح میں چین سے ہوا۔

جھیل البرٹ : افریقہ کی عظیم جھیل

جھیل البرٹ افریقی ممالک یوگنڈا اور جمہوریہ کانگو کی سرحد پر واقع ہے۔ اسے البرٹ نیانزا اور جھیل موبوٹو سیسی سیکو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ افریقہ کی عظیم جھیلوں میں سے ایک ہے۔ یہ بر اعظم افریقہ کی ساتویں بڑی جھیل ہے۔ اس کا رقبہ 2160 مربع میل ہے۔ لمبائی ایک سو میل اور اوسط چوڑائی 22 میل ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 190 فٹ ہے۔ جھیل البرٹ یوگنڈا کے سب سے نچلے اور گرم ترین حصے میں واقع ہے۔ یہاں کا اوسط درجہ حرارت 26 سینٹی گریڈ ہے اوربارش کی اوسط 864-1016 ملی میٹر ہے۔ زیادہ تبخیر کی وجہ سے اس کا پانی قدرے نمکین ہے۔ یہاں ہاتھی، بھینسیں، دریائی گھوڑے، مگرمچھ اور چکارا بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ جھیل کے اردگرد موجود مختصر آبادی یہاں ماہی گیری کرتی ہے۔

اس جھیل میں پانی کا اہم ذریعہ نیل ابیض ہے جو دریائے نیل کا معاون دریا ہے۔ دریائے سِملیکی بھی اسے سیراب کرتا ہے۔ نوآبادیاتی دور سے قبل جھیل البرٹ کو یہاں بسنے والے Mwitanzige کہتے تھے۔ اس جھیل کو 1864ء میں سیموئل بیکر نے ’’دریافت‘‘ کیا جو دریائے نیل کے ماخذ کی کھوج میں تھا۔ اس نے اس کا نام اس دور میں فوت ہونے والے ملکہ وکٹوریہ کے شریک حیات البرٹ کے نام پر رکھا اور اپنے تجربات کو اپنی کتاب ’’البرٹ نیانزا‘‘ میں قلم بند کیا۔ یورپی نو آبادکاروں نے اس پر بحری نقل و حمل شروع کر دی۔ برطانویوں نے مصر، مشرقی و جنوبی افریقہ میں اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے جہاں ریلوے کا نیٹ ورک قائم کیا وہیں دریاؤں اور جھیلوں پر سٹیمر چلائے۔ مارچ 2014ء میں کانگو کے تارکین وطن کو لے کر جانے والی ایک کشتی یہاں الٹ گئی جس کے نتیجے میں 250 افراد ہلاک ہو گئے۔

معروف آزاد

 

بلغراد : سربیا کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر

بلغراد سربیا کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ سرب زبان میں اس کا معنی ہے ’’سفید شہر‘‘۔ یہ دریائے ساوا اور ڈینیوب کے سنگم پر واقع ہے۔ بلغراد شہر کی آبادی 12 لاکھ سے زائد ہے۔ یورپ میں زمانہ قبل از تاریخ کی سب سے اہم ثقافت جسے ’’وینکا کلچر‘‘ کہتے ہیں، اس شہر کے اردگرد چھٹی صدی قبل مسیح میں ارتقا پذیر ہوئی۔ عہد عتیق میں یہاں ڈیسینز لوگ آباد ہوئے اور 279 قبل مسیح کے بعد کلٹیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ آگسٹس کے دور میں رومیوں نے اسے فتح کیا۔ سلاوی قوم یہاں 520ء کے لگ بھگ آئی۔ 

یہ وقتاً فوقتاً بازنطینی ، فرینک، بلغاریہ اور ہنگری سلطنت کا ساتھ دیتی رہی۔ اس کے بعد یہ سرب بادشاہ سٹیفن ڈراگوٹن کا دارالحکومت قرار پایا۔ 1521ء میں یہ سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں چلا گیا۔ یورپی طاقتوں اور عثمانی سلطنت کے درمیان جنگوں سے یہ زیادہ تر تباہ ہو گیا۔ 1841ء میں یہ سربوں کا دوبارہ دارالحکومت قرار پایا۔ یہ ایک ایسے مقام پر تھا جس کی بہت تزویراتی اہمیت تھی، اس لیے یہاں بے تحاشہ جنگیں ہوئیں اور یہ کئی مرتبہ تباہ ہوا۔ 1918ء میں یوگوسلاویہ کے قیام سے 2006ء میں اس کے خاتمے تک یہ اس کا دارالحکومت رہا۔

وردہ بلوچ

 

ہواوے کی کینیڈا میں گرفتار چیف فنانشل افسر پر امریکا سے دھوکے کا الزام

اسمارٹ فونز تیار کرنے والی دنیا کی تیسری بڑی چینی کمپنی ’ہواوے‘ کی کینیڈا میں گرفتار کی گئی چیف فنانشل افسر (سی ایف او) مینگ وانژو پر امریکا سے دھوکے کرنے کا الزم عائد کر دیا گیا۔ مینگ وانژو کو رواں ماہ کے آغاز میں کینیڈین پولیس نے امریکی درخواست پر حراست میں لیا تھا، تاہم ان کی گرفتار 6 دسمبر کو ظاہر کی گئی تھی۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے بتایا تھا کہ امریکی حکام کو شبہ ہے کہ مینگ وانژو نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔ ابھی یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ مینگ وانژو نے کس طرح خلاف ورزی کی، تاہم 7 دسمبر کو انہیں کینیڈا کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان کے خلاف امریکا کے ساتھ دھوکے کے الزام کے تحت سماعت کی گئی۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے اپنی خبر میں بتایا کہ مینگ وانژو کے خلاف لگائے گئے الزامات پر کینیڈا کی ریاست برٹش کولمبیا کی سپریم کورٹ نے 5 گھنٹے تک طویل سماعت کی، تاہم عدالتی کارروائی کسی نتیجے کے بغیر ہی ختم ہو گئی۔ مینگ وانژو کو اسی عدالت میں اگلی سماعت پر پیش کیا جائے گا اور اگر ان پر امریکا کے ساتھ دھوکے اور ایران کو فائدہ دینے کا الزام ثابت ہو گیا تو انہیں کم سے کم 30 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عدالت میں پہلی سماعت کے دوران عدالت نے بتایا کہ مینگ وانژو نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورژی کی اور انہوں نے 2009 سے 2014 کے درمیان ایک فرضی کمپنی بنا کر ایران کے ساتھ معاملات طے کیے۔

عدالت کے مطابق مینگ وانژو نے اسکائے کام نامی کمپنی بنا کر ہواوے کو فائدہ دیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اسکائے نام ایک الگ ادارہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دوران سماعت مینگ وانژو کو ہتھکڑیوں کے بغیر ہی پیش کیا گیا اور انہوں نے سبز رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ مین وانژو پرامریکی قوانین کی خلاف ورزیوں اور مالی بدعنوانیوں کا الزام ہے۔ مینگ وانژو کی گرفتار کے بعد امریکا اور چین کے درمیان پہلے سے کشیدہ تجارتی تعلقات میں مزیدہ کشیدگی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مینگ وانژو ہواوے کمپنی کے بانی کی بیٹی ہیں اور وہ کینیڈا میں خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔

بشکریہ ڈان نیوز اردو
 

ضروری نہیں کہ دنیا کے لیے جو اچھا ہو وہ فیس بک کے لیے بہتر ہو

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ ایک بار اپنے نجی حلقوں میں اعتراف کر چکے ہیں کہ ضروری نہیں کہ دنیا کے لیے جو اچھا ہو وہ فیس بک کے لیے بھی بہتر ہو۔ یہ انکشاف برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے فیس بک کی خفیہ ای میلز جاری کرنے پر سامنے آیا ہے۔ یہ ای میلز فیس بک سے قانونی جنگ میں مصروف ایک ایپ ڈویلپر نے اپنے قبضے میں کی تھی اور کیلیفورنیا کی عدالت نے ان کے شائع کرنے پر پابندی عائد کی تھی تاہم برطانوی پارلیمنٹ نے اپنا خصوصی استحقاق استعمال کر کے اسے جاری کر دیا۔ ان ای میلز سے فیس بک کی ایگزیکٹو کے اندرونی حلقوں کے بارے میں خفیہ معلومات سامنے آتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ مخالفین کے خلاف کتنی سخت سوچ رکھتے ہیں۔ 19 نومبر 2012 کو بھیجی گئی ایک ای میل میں مارک زکربرگ نے تھرڈ پارٹی ایپس کو پلیٹ فارم میں صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کے حوالے سے بات کی۔

انہوں نے لکھا ‘ جو دنیا کے لیے اچھا ہو سکتا ہے وہ ضروری نہیں کہ ہمارے لیے بھی اچھا ہو ماسوائے اس صورت میں جب لوگ فیس بک پر واپس شیئر کریں اور یہ مواد ہمارے نیٹ ورک کی قدر بڑھائے، تو میرے خیال میں پلیٹ فارم کا مقصد فیس بک پر شیئرنگ بڑھانا ہے’۔ اسی طرح 2016 میں فیس بک ایگزیکٹو اینڈریو بوس ورتھ نے اپنے ساتھیوں کے لیے تحریر ای میل میں فیس بک کی ترقی اور لوگوں کو ہر قیمت پر جوڑنے کا دفاع کیا، چاہے لوگ انتقال کر جائیں۔ مارک زکربرگ نے 2012 میں جیسے رویے کا اظہار کیا وہ ان تک ہی محدود نہیں، ایک ای میل میں فیس بک کی سی او او شیرل سینڈبرگ نے اپنے باس سے اتفاق کیا۔

جنوری 2013 کی ایک ای میل میں فیس بک کے ایک انجنیئر نے مارک زکربرگ سے رابطہ کر کے کہا کہ مخالف کمپنی ٹوئٹر نے اپنی وائن ویڈیو شیئرنگ ٹول کو متعارف کرایا ہے تاکہ صارفین کو فیس بک سے رابطہ کر سکے اور وہاں دوستوں کو تلاش کر سکے، اس انجنیئر نے وائن تک رسائی کو ختم کرنے کا مشورہ دیا ، جس کی اجازت مارک زکربرگ نے دی۔ یہ دستاویزات برطانوی پارلیمنٹ کی فیس بک کے حوالے سے قائم کمیٹی نے جاری کی ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ فیس بک کو ڈیٹا رسائی کا معاملہ ختم کرنا ہو گا۔ فیس بک نے فی الحال ان ای میلز کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

بشکریہ روزنامہ ڈآن اردو

طیب اردوان کی اہلیہ کے ہاتھوں مودی کی بے عزتی

ارجنٹائن میں جی 20 اجلاس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان کی اہلیہ ایمن اردوان کی بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو نظر انداز کرنے اور ان کی بے عزتی کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ ارجنٹائن میں دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں کی تنظیم جی 20 اجلاس ہوا، اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت 20 ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ ترک صدر اپنی اہلیہ ایمن اردوان کے ہمراہ اجلاس میں شریک ہوئے۔ دوران اجلاس فوٹو سیشن کے دوران ترک خاتون اول اور بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی۔ 

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اجلاس کے دوران فوٹو سیشن کے لیے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اور ترک خاتون اول ایمن اردوان ساتھ کھڑے ہیں تاہم جیسے ہی بھارتی وزیر اعظم نے ایمن اردگان کی طرف دیکھا ترک خاتون اول نے فوراً اپنا رخ دوسری طرف موڑ کر مودی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ ترک خاتون اول کی جانب سے اپنی بے عزتی کیے جانے پر مودی کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔ ایمن اردگان نے تو مودی کو نظر انداز کر دیا لیکن یہ منظر کیمرے کی آنکھ سے نہ چھپ سکا اور ترک خاتون اول کی بھارتی وزیر اعظم کو نظر انداز کرنے اوران کی بے عزتی کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

 

شامی بچے سے اسکول میں بدسلوکی نے برطانویی وزیر داخلہ کو بھی رُلا دیا

برطانیہ کے پاکستانی نژاد وزیر داخلہ ساجد جاوید نے ایک شامی بچے کے ساتھ اسکول میں نسل پرستانہ بدسلوکی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے نے انہیں اپنے بچپن میں ایسے ہی نسل پرستانہ واقعات یاد دلا دیے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک شامی پناہ گزین بچے جمال پر اسکول میں موجود دوسرے بچوں کی طرف سے تشدد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ساجد جاوید نے سخت برہمی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شامی بچی اسکول میں مقامی طلباء کے ہاتھوں مار پیٹ کا واقعہ انتہائی شرمناک ہے۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ایک فوٹیج میں اسکول میں ایک شامی بچے کو اس سے عمر اور حجم میں بڑے طالب علم کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کو دکھایا گیا تھا۔

اخبار “ڈیلی میل” کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح شامی بچے کو اسکول میں نسل پرستانہ بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔ جس طرح کےحالات کا سامنا ایک شامی بچے کو کرنا پڑا اسی طرح کا وہ بھی اپنے بچن میں سامنا کر چکے ہیں۔ انہیں‌ بھی ایک مقامی برطانوی لڑکے نے اسےطرح تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں ساجد جاوید نے کہا کہ اسکول میں بچے ان کے خلاف اس لیے ہوئے تھے کہ میں ایک ایشیائی تھا اور وہ یورپی گورے تھے۔ خیال رہے کہ 25 اکتوبر کر برطانیہ کے ایک اسکول میں ایک شامی بچے کو مقامی لڑکوں نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ایک پندرہ سالہ شامی بچے کو دوسرے لڑکے نے زمین پر پٹخ کر اس کی گردن دبانے کی کوشش کی اور اس کے چہرے اور جسم پر پانی پھینکا۔ یہ واقعہ ھاڈرسفیلڈ شہر کے ایک اسکول میں‌ پیش آیا تھا۔ 

شامی بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے والے لڑکے نے دھمکی دی کہ اگر اس نے شکایت کی تو اسے اسی طرح پانی میں ڈبو دے گا۔ ساجد جاوید نے متاثرہ شامی بچے اور ان کے والدین کو چائے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مہاجرین کی دوسری نسل سے تھے اور پاکستان سے ھجرت کر کے برطانیہ آ گئے تھے۔ ان کے بارے میں برطانوی رائے عامہ ایسے ہی نسل پرستانہ تھی جس طرح آج شامی بچے کے خلاف دیکھی گئی ہے۔ یہ واقعہ برطانویوں کی حقیقت کا عکاس ہے۔ خیال رہے کہ شامی بچہ جمال اپنے خاندان کے ہمراہ چھ سال قبل لبنان اور سنہ 2016ء کو برطانیہ منتقل ہو گیا تھا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں اس نے بتایا کہ وہ اس کی 13 سالہ ہمشیرہ کو الگ الگ مواقع پر نسل پرستانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

دبئی ۔ حسام عبد ربہ

 

مائیکل کوہن کے اعتراف جرم نے امریکی صدر ٹرمپ کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے

امریکی صدر کے وکیل مائیکل کوہن نے خود پر لگے الزامات قبول کر لئے ہیں جس کے بعد امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق جاری تحقیقات نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل مائیکل کوہن کی جانب سے خود پر عائد الزامات کو قبول کرنے کے بعد، روسی مداخلت سے متعلق خصوصی کونسل رابرٹ ملر کی قیادت میں جاری تحقیقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ اب قانونی ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا یہ تحقیقات اختتام کی جانب جا رہی ہیں، اور اگر ایسا ہے تو پھر صدر ٹرمپ اور ملک کے لئے اس کے کیا نتائج کیا ہوں گے۔ اپنے ٹویٹر پیغامات کے ایک سلسلے میں، صدر ٹرمپ نے خصوصی کونسل رابرٹ ملر اور اپنے ذاتی وکیل مائیکل پر تنقید کی۔

گزشتہ ہفتے نیو یارک میں، مائیکل کوہن نے یہ اقرار کیا کہ انہوں نے روس میں ایک تعمیراتی پروجیکٹ میں صدر ٹرمپ کی دلچسپی کے حوالے سے کانگریس سے جھوٹ بولا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب صدر ٹرمپ اپنی صدارتی مہم چلا رہے تھے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں اس چیز کی کوئی پراوہ نہیں کہ کوہن تفتیش کاروں کو مزید کیا بتائیں گے۔ ریاست ورجینیا سے ڈیموکریٹ جماعت کے سینیٹر، مارک وارنر کہتے ہیں کہ کوہن کے اعتراف کے بعد، روس سے متعلق تحقیقات، اس وقت کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے درمیان تعلقات کے قریب تر ہو جاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک اور مثال ہے کہ صدر کے قریب ترین ساتھیوں میں سے ایک نے روس اور روسیوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں جھوٹ بولا۔

ریاست نارتھ کیرولائینا سے ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رچرڈ سن 2016 کے انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق تحقیقات کرنے والی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ سینیٹر رچرڈ بر کا کہنا تھا کہ ہمارا مینڈیٹ یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہے ہم ایک واضح سچ کے قریب پہنچ جائیں۔ اور  یہ کام ہم قیاس آرائیوں کی بنیاد پر نہیں کر سکتے، یہ ہمیں حقائق کی بنیاد پر کرنا ہے۔ اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ قانونی ماہر، رِک سمنز کہتے ہیں کہ حالیہ پیش رفتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روس سے متعلق تحقیقات اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں توقع کرتا ہوں کہ آئندہ چند مہینوں کے دوران، کسی قسم کے نتائج سامنے آئیں گے۔

ملر صاحب کے پاس کوئی ٹائم لائن نہیں ہے، اور قانون انہیں اس کا پابند بھی نہیں بناتا، اس لئے ان پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ ہمیں بتائیں کہ وہ کہاں تک پہنچے ہیں، اس لیے یقین سے کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔ کوہن کی جانب سے الزام قبول کرنے اور ماضی میں دیگر افراد کے خلاف فرد جرم عائد ہونے کے بعد، روس سے متعلق تحقیقات کے مصدقہ ہونے میں اضافہ ہوا ہے، گو کہ صدر ٹرمپ اسے مسلسل یہ کہتے ہوئے مسترد کرتے آ رہے ہیں کہ یہ محض وقت کا زیاں ہے۔ اس بارے میں قانونی ماہر ڈگ سپینسر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں، یہ چیز تحقیقات کو مزید جواز فراہم کرتا ہے، اور درحقیقت اس معاملے میں بہت کچھ غیر واضح ہے، اس لئے تحقیقات کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں اس سے ان دعوؤں کی صداقت میں کمی ہوتی ہےکہ یہ محض چاند ماری ہے۔

قانونی تجزیہ کار، رِک سمنز کہتے ہیں کہ یہ تحقیقات کہاں جا رہی ہیں، اس بارے میں ملر نے چپ سادھی ہوئی ہے، لیکن سن 2019 ایک اہم سال ثابت ہو سکتا ہے۔ سمنز کہتے ہیں کہ انہوں نے ان دیگر گواہان کے ساتھ بہت سا کام کیا ہے جنہوں نے جھوٹ بولا، اور انہوں نے مہینوں ان پر کام کیا۔ اس لئے مجھے توقع ہے کہ وہ آئندہ چند مہینوں میں اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکالیں گے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ ڈیموکریٹ پارٹی نے ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے اور صدر ٹرمپ، سن 2020 میں اپنے دوبارہ انتخابات کے لئے تیاری کر رہے ہیں، تو یہ تحقیقات اپنے عروج اور اختتام کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

قطر کا ’اوپیک‘ کو چھوڑنے کا اعلان

قطر کے وزیر برائے توانائی سعد شریدہ الکعبی نے اعلان کیا ہے کہ قطر جنوری 2019 میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ( اوپیک) کا حصہ نہیں رہے گا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تیل پیدا کرنے والے 15 ممالک کی تنظیم کو چھوڑنے کے فیصلے کی تصدیق قطر کی سرکاری آئل کمپنی قطر پیٹرولیم کی جانب سے کی گئی تھی۔ دوحہ میں ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سعد شریدہ الکعبی کا کہنا تھا کہ ’اوپیک سے دستبردار ہونے کے فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ قطر آئندہ سالوں میں قدرتی گیس کی پیداوار کو 77 ملین ٹن سالانہ سے 110 ملین ٹن سالانہ بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے‘۔

خیال رہے کہ قطر پہلا خلیجی ملک ہے جو تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم کو چھوڑ رہا ہے۔ الجزیرہ کی صحافی کارلوٹ بیلس کا کہنا تھا کہ قطر نے یہ فیصلہ 6 دسمبر کو اوپیک اجلاس کے آغاز سے چند دن پہلے لیا۔ کارلوٹ بیلس نے سعودی عرب، امریکا، متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) ، مصر اور بحرین کی جانب سے قطر پر سفارتی پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اوپیک سے نکلنے کے فیصلے کا قطر پر پابندیوں سے کوئی تعلق نہیں اور اس حوالے سے کئی مہینوں سے سوچ رہے ہیں‘۔ کارلوٹ بیلس نے بتایا کہ ’ قطری وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اوپیک سے نکلنے کا کام 6 دسمبر کو اوپیک اجلاس سے قبل ابھی اور شفاف طریقے سے ہو جائے‘۔

واضح رہے کہ 2013 سے اب تک قطر کی تیل کی پیداوار میں تیزی سے کمی آئی ہے، 2013 میں قطر میں تیل کی پیداوار 7 لاکھ 28 ہزار بیرل یومیہ سے 2017 میں 6 لاکھ 7 ہزار بیرل یومیہ تک جا پہنچی تھی جو کہ اوپیک کی مجموعی پیداوار کا 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ تاہم اسی عرصے میں اوپیک کی مجموعی پیداوار میں 30.7 ملین بیرل یومیہ سے 32.4 ملین بیرل یومیہ اضافہ ہوا تھا۔ قطر دنیا میں لیکویفائیڈ نیچرل گیس ( ایل این جی) کی سب سے زیادہ شرح 30 فیصد پیدا کرتا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اوپیک چھوڑنے کا فیصلہ ایک کاروباری فیصلہ ہے۔

سعد شریدہ الکعبی کا کہنا تھا کہ ’ اوپیک میں ہمارا کردار بہت کم ہے، میں ایک کاروباری شخص ہوں اور میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں ان چیزوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو ہماری قوت نہیں ‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہماری قوت قدرتی گیس ہےاور اس لیے ہم نے یہ فیصلہ لیا ہے‘۔ خیال رہے کہ قطر نے اوپیک کی تشکیل کے ایک سال بعد 1961 میں شمولیت اختیار کی تھی۔ چند روز قبل اوپیک اور روس نے آئندہ مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں زیادہ کمی نہ لانے کی کوششوں پر اتفاق کیا تھا۔ یاد رہے کہ رواں برس اکتوبر میں تیل کی قیمت 4 برس کی بلند ترین سطح 86 ڈالر تک جا پہنچی تھی لیکن اس کے بعد تیل کی قیمت دوبارہ 60 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

فرانس کی سڑکوں پر جنگ کا سماں, اتنے بڑے احتجاج کی وجہ کیا بنی؟

گزشتہ ہفتے فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت دیگر شہروں میں ’پیلی ویسٹ‘ پہنے مظاہرین کی پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد فرانسیسی صدر میخواں کو جی 20 سربراہی اجلاس چھوڑ کر وطن واپس آنا پڑا۔ لیکن اتنے بڑے احتجاج کی وجہ کیا بنی؟

ڈیزل فرانسیسی گاڑیوں میں عام طور پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ایندھن ہے اور گذشتہ 12 ماہ میں ڈیزل کی قیمت تقریباً 23 فیصد بڑھ گئی ہے۔ سنہ 2000 سے اب تک ایک لیٹر کی قیمت میں اوسطً 1.51 یورو کا اضافہ ہوا ہے جو ڈیزل کی اب تک کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔

ایندھن پر لگائے جانے والے ٹیکس اور اخراجاتِ زندگی میں اضافے کی وجہ سے برپا احتجاج میں 100 سے زیادہ افراد صرف پیرس میں زخمی ہو چکے ہیں۔

دارالحکومت میں ہونے والی جھڑپوں میں سیکورٹی فورسز کے 23 ارکان بھی زخمی ہوئے تھے اور تقریباً 400 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق دو ہفتے سے جاری ان مظاہروں میں تین افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ فرانس کے وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے تقریباً 136000 لوگوں نے مظاہرے میں حصہ لیا۔