ایٹمی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے ذخائر

نیویارک میں امریکی سائنسدانوں کی تنظیم ’’فیڈریشن آف امریکن سائنس دانوں‘‘ نے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کے حوالے سے نئی فہرست جاری کر دی ہے جس کے مطابق ایٹمی طاقت کے حامل ممالک کے پاس ہتھیاروں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ دنیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار روس کے پاس ہیں جن کی تعداد 7 ہزار ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ کے پاس 6800، فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 270، برطانیہ کے پاس 215، پاکستان کے پاس 140، بھارت کے پاس 130، اسرائیل کے پاس 80 اور شمالی کوریا کے پاس 60 ایٹمی ہتھیار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ’’ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار‘‘ بھی تیار کر رہا ہے جو سائز میں اس قدر چھوٹے ہیں کہ انہیں انتہائی آسانی سے میدان جنگ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس روایتی ایٹمی ہتھیار صرف شہروں یا دیگر بڑے انفراسٹرکچر پر ہی گرائے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکٹیکل ہتھیار جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے ذریعے بھی انتہائی مختصر نوٹس پراستعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ’’نیوکلیئر ٹرائی ایڈ‘‘ کی تیاری کے بھی قریب پہنچ چکا ہے جس سے وہ زمین، فضاء اور سمندر تینوں جگہوں سے ایٹمی میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ بھارت نے 1960ء کی دہائی میں اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر دیا تھا اور 80 کی دہائی میں ایٹمی طاقت بن چکا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو مجبوراً اپنا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی ترغیب ملی اور آج اس کے پاس بھارت سے زیادہ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

محمد ابراہیم

Advertisements

برطانیہ : دس لاکھ افراد کا بریگزٹ پر دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں بریگزٹ مخالفین کا بڑا مظاہرہ ہوا جہاں انہوں نے حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی سے یورپین یونین سے اخراج کے معاملے پر ایک مرتبہ پھر ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کر دیا۔ خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز ووٹ مارچ کا آغاز پارک لین اور دیگر مقامات سے ہوا اور برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچا جہاں آئندہ چند دنوں میں بریگزٹ پر حمتی فیصلہ ہو گا۔  مظاہرین نے یورپین یونین کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور یونین کے ساتھ برطانیہ کے طویل شراکت داری برقرار رکھنے کے مطالبے درج تھے۔ بریگزٹ مخالف مظاہرے میں برطانیہ بھر سے عوام موجود تھے جو وزیراعظم تھریسامے کو بریگزٹ سے دست بردار کرنے کے لیے پرعزم تھے۔

لبرل ڈیموکریٹ رہنما وینس نے مظاہرین کی تعداد حیران کن اور متحد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں پر ملک بھر زندگی کے ہر شعبے اور عمر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے اور ملک میں ہم 60 فیصد افراد بریگزٹ کو روکنے کے خواہاں ہیں۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کی تعداد کے حوالے سے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی گئی تاہم آزاد ذرائع کے مطابق بریگزیٹ پر دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کی تعداد 10 لاکھ تھی۔ دوسری جانب آن لائن پٹیشن میں 40 لاکھ سے زائد افراد نے آرٹیکل 50 کے خلاف ووٹ دیا تھا جو بریگزٹ معاملے کو مزید گھمبیر بنانے کا باعث بن گیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے گزشتہ روز اراکین پارلیمنٹ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ بریگزٹ معاہدے کو پارلیمنٹ میں نہ لائیں تاہم دیگر اراکین کا خیال تھا وہ اپنے معاہدے کو اس وقت پارلیمنٹ میں لائیں گی جب اس کی حمایت کرنے والے اراکین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ خیال رہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں وزیراعظم تھریسامے کے بریگزیٹ منصوبے کی مخالفت میں ووٹ پڑے تھے جس کے بعد انہیں اپنے منصوبے پر عمل درآمد میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور طے شدہ وقت تک بریگزٹ ممکن نہ ہو پایا۔ یورپی یونین اراکین نے برطانیہ کو علیحدگی کے لیے دو ڈیڈ لائن دی گئی تھیں اور 22 مئی تک بریگزٹ پر عمل درآمد کے لیے وقت دینے پر اتفاق کیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے اراکین پارلیمنٹ کو لکھے گئے خط کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت کا اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا۔

برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان کے مطابق یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے دو سال قبل طے کی گئی 29 مارچ کی تاریخ سے صرف 10 روز اور یورپی یونین کی اہم ترین کانفرنس سے 2 روز قبل تھریسا مے، یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو معاہدے میں تاخیر کے لیے خط لکھ رہی ہیں۔ یاد رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی خودمختاری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتدا میں معاشی مشکلات ضرور ہوں گی لیکن مستقبل میں اس کا فائدہ ہو گا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہو چکا ہو گا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں ہی خرچ ہو سکے گا۔

بشکریہ ڈان نیوز

پاکستانی قوم کے لیے مودی کا پیغام

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ یوم پاکستان کے موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستانی قوم کے لیے خیر سگالی کا پیغام بھیجا ہے۔ ایک ٹویٹ میں وزیرِ اعظم عمران خان نے لکھا کے انہیں نریندر مودی کا پیغام ملا ہے کہ ’میں پاکستان کے قومی دن کے موقع پر پاکستان کے عوام کو نیک خواہشات اور مبارکباد دیتا ہوں۔‘ عمران خان کے بقول مودی کے پیغام میں مزید کہا گیا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ بر صغیر کے لوگ دہشت اور تشدد سے پاک ماحول میں مل کر جمہوریت، امن، ترقی اور مستحکم خطے کے لیے کام کریں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم کی جانب سے انڈین وزیرِ اعظنم کا پیغام شئیر کرنے پر ٹوئٹر صارفین نے حیرت اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کئی لوگوں کے خیال میں عمران خان کی پالیسیوں کی وجہ سے نریندر مودی کو بلآخر گھٹنے ٹیکنے پڑے اور وہ پر امن انداز میں بات کر رہے ہیں۔ وہیں کئی لوگ اس بات پر غیر یقینی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ کئی لوگوں کے خیال میں مودی کا یہ پیغام دیانت داری پر مبنی نہیں ہے اور کئی اسے ایک اور انتخابی حربہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک ٹوئٹر صارف نجدہ نے عمران خان کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا ’چلیں اس نیک خواہشات کو قبول کر لیں اور انسانیت اور امن کے لیے دعاگو ہوں۔`

جبکہ ابو صارم کا خیال تھا کہ ’آب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔‘ کچھ ٹوئٹر ہینڈل سے، جن میں گبر اور ساجد سنی شامل ہیں، شک کا اظہار کرتے ہوئے مودی کے پیغام کا سکرین شاٹ دکھانے کی فرمائش کی گئی۔ ایک صارف راحیل خان نے خبر دار کیا کہ ’خیال رہے جبکہ پچھلی بار مودی کی جانب سے ایسا ہی پیغام آیا تو بالاک کوٹ والا حملہ کیا گیا اور ہمارے درخت قتل کیے گئے۔‘ فہد امازئی نے لکھا ’اچھی بات ھے بس کاش یہ بات ہم مودی کے اکاؤنٹ سے دیکھتے تو زیادہ اچھا ہوتا نہ آپ کو مودی کی ترجمانی کرنی پڑتی لیکن اچھا ہوا کم ازکم مودی نے آپ کی کال نہ اٹھانے کے بعد آپکو پیغام تو بھیجا۔‘ عمران ایوب نامی صارف بھی انڈین وزیرِ اعظم کے پیغام پر کچھ خاص مطمئن نظر نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا ’نہیں اس آدمی کا کوئی بھروسہ نہیں جو اپنے ملک کے فوجی مروا سکتا ہو الیکشن کے لیے اُس سے کوئی خیر کی توقع نہیں‘۔ ابرار رسول کے بقول یہ نریندر مودی کا الیکشن سٹنٹ ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کے لیے کیوں اہم ہیں؟

گولان کی پہاڑیاں شام اور اسرائیل کے درمیان تنازعے اور کشیدگی کا علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس متنازعہ علاقے پر اسرائیل نے سن 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ باون برسوں کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی مکمل جغرافیائی حاکمیت کو تسلیم کر لے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ علاقہ اسرائیلی ریاست کی سکیورٹی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اُدھر اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر کے اعلان کو پورِم کے مقدس تہوار پر رونما ہونے والا معجزہ قرار دیا ہے۔ گولان ہائٹس کے معاملے کو ایک دن قبل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ زیر بحث لائے تھے اور ٹرمپ کے اعلان کو اُس کا تسلسل خیال کیا گیا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق اس مناسبت سے واشنگٹن سے باضابطہ اعلان امکاناً نیتن یاہو کے اگلے ہفتے کے دوران شروع ہونے والے دورہٴ امریکا کے موقع پر ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس فیصلے سے اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات میں وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی پوزیشن کو یقینی طور پر تقویت حاصل ہو گی۔ دوسری جانب امریکی صدر کے بیان کی کئی عالمی لیڈروں نے مذمت کی ہے۔ روس نے اسے ایک غیر ذمہ دارانہ فعل قرار دیا ہے۔ اس دوران شامی حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گولان کی پہاڑیوں سے متعلق سابقہ موقف کو اچانک تبدیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس امریکی فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صیہونی قبضے کے ساتھ ساتھ جارحانہ اقدامات کی حمایت کا تسلسل ہے۔ عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ نے بھی شامی موقف کی حمایت کرتے ہوئے اس امریکی فیصلے کو بین الاقوامی قانون کی حدود سے تجاوز قرار دیا ہے۔ گولان کی پہاڑیوں کو قرب و جوار کے لیے پانی کا ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ انہی پہاڑیاں کے چشموں سے بہنے والا پانی دریائے اردن کے ساتھ بحیرہ گلیلی یا جھیل طبریا کو بھرتا ہے۔ یہ جھیل اس سارے علاقے میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ یہ سمندر نما جھیل خطے کی ستر فیصد آبادی کے پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ اس میں سے اسرائیل کی کل آبادی کا چالیس فیصد بھی مستفید ہوتا ہے۔

بشکریہ DW اردو

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو امن کے نوبل انعام کیلئے نامزد کرنے کی مہم کا آغاز

نیوزی لینڈ میں 2 مساجد پر دہشت گرد حملے کے بعد معاملے کو سنبھالنے پر نیوزلینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو امن کا نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کا مطالبہ سامنے آگیا ہے۔ نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو امن کے نابل انعام کے لیے نامزد کرنے سے متعلق 2 قراردادوں پر دستخطی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ ان قراردادوں میں ایک چینج ڈاٹ او آر جی کی جانب سے 4 دن پہلے شروع کی، جس پر 3 ہزار سے زائد دستخط ہو گئے ہیں جبکہ فرانسیسی ویب سائٹ آواز ڈاٹ او آر جی کی جانب سے دوسری پٹیشن پر ایک ہزار سے زائد دستخط ہو چکے ہیں۔

فرانسیسی صفحات کی جانب سے کہا گیا کہ ’کرائسٹ چرچ کے افسوس ناک واقعے پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے واضح اور پرامن ردعمل دیا، ہم چاہتے ہیں کہ آنے والے نوبل انعام کو وہ وصول کریں‘۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے بعد نیوزی لینڈ وزیر اعظم کے اقدامات پر دنیا بھر میں تعریف کی گئی تھی۔ ان کے اس اقدامات کا اعتراف کرتے ہوئے دبئی میں برج خلیفہ کو ان کی ایک باحجاب مسلم خاتون سے گلے ملتے ہوئے لی گئی تصویر سے روشن کیا گیا۔ یو اے ای کے وزیر اعظم شیخ محمد نے جیسنڈا آرڈرن کا ’مخلصانہ ہمدردی اور حمایت‘ پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا احترام جیت لیا۔

اس کے علاوہ گزشتہ شب نیو یارک ٹائمز میں ایک اداریے میں ان کے کردار کی تعریف کی گئی۔ واضح رہے کہ 15 مارچ کو جمعے کے روز 2 مساجد میں دہشت گرد حملے 50 افراد کی شہادت کے بعد جیسنڈا آرڈرن نے نیم خودکار ہتھیاروں پر پابندی کے اعلان کے ساتھ ساتھ مسلم کمیونٹی سے ہمدردرانہ رویے پر دنیا بھر کی توجہ حاصل کی تھی۔ نیویارک ٹائمز کے اداریے کا عنوان امریکا بھی جیسنڈا آرڈرن جیسے اچھے لیڈر کا مستحق ہے میں لکھا گیا کہ دنیا کو جیسنڈا آرڈرن سے سیکھنا چاہیے، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے خوف کا جواب دیا ہے‘۔ اداریے میں لکھا گیا کہ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے خاص طور پر گن کنٹرول سے متعلق مسئلے کو سنبھالا، انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب کی بات کو سنا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کچھ  دنوں میں حکومت فوجی طرز کے ہتھیاروں پر نئے قوانین متعارف کروائے گی۔

بشکریہ ڈان نیوز

فیس بک صارفین کے پاسورڈز تک کمپنی کے ملازمین کو رسائی کا انکشاف

اگر تو آپ فیس بک استعمال کرنا پسند کرتے ہیں تو اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ بنانے کے لیے پاسورڈ فوری بدل لیں۔ درحقیقت فیس بک کے کروڑوں صارفین کے پاسورڈ تک اس کمپنی کے ملازمین کو رسائی حاصل ہو چکی ہے۔ انٹرنیٹ سیکیورٹی محقق برائن کریبس نے پاسورڈ کے تحفظ پر فیس بک کی ناکامی کا انکشاف کیا جس سے 60 کروڑ صارفین کا ڈیٹا متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیس بک ذرائع نے انہیں اس سیکیورٹی ناکامی کے بارے میں بتایا جس سے ڈویلپرز کو ایسی اپلیکیشنز بنانے کا موقع ملا جو کہ پاسورڈ کو انکرپٹ کیے بغیر لاگ ان اور محفوظ کرتیں ہیں۔ اس انکشاف کے بعد فیس بک نے بھی اس کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے نیٹ ورک میں محفوظ پاسورڈ کے اس مسئلے کو دور کر دیا ہے۔ 

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق اس بارے میں فیس بک کے انجنیئر اسکاٹ رینفرو نے بتایا کہ اس بات میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس خامی کا ‘کوئی غلط استعمال’ نہیں ہوا۔ کمپنی کی جانب جاری بیان کے مطابق یہ مسئلہ جنوری میں معمول کے سیکیورٹی چیک اپ کے دوران سامنے آیا اور تحقیقات سے معلوم ہوا اس سے فیس بک لائٹ ایپ کے صارفین زیادہ متاثر ہوئے، جو ان ممالک میں زیادہ استعمال ہوتی ہے جہاں انٹرنیٹ اسپیڈ ناقص ہوتی ہے۔کمپنی اب ان تمام کروڑوں صارفین کو اس بارے میں آگاہ کرنا چاہتی ہے جن میں لاکھوں انسٹاگرام صارفین بھی شامل ہیں۔ مگر کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ صارفین کو پاسورڈ ری سیٹ کرنے کا اس وقت ہی کہے گی جب اسکی ٹاسک فورس یہ دریافت کرے گی کہ صارفین کے لاگ ان تفصیلات کا غلط استعمال ہوا ہے۔

بشکریہ ڈان نیوز

مہاتیر محمد اور طیب اردوان سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟

یومِ پاکستان کی پُر عزم اور پُر شکوہ تقریبات میں شرکت کے لیے ہمارے معزز مہمان ، ملائیشیا کے وزیر اعظم جناب مہاتیر محمد پاکستان تشریف لا چکے ہیں۔ ہم دل کی گہرائیوں سے انھیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے اس ہم منصب سے دِلی محبت کرتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے سے پہلے بھی جناب عمران خان بکثرت ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد اور ترک صدر طیب اردوان کے بارے میں رطب اللسان رہتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ اگر کبھی مجھے موقع ملا تو مَیں مہاتیر محمد اور طیب اردوان ایسی جرأتیں دکھاؤں گا اور پاکستان کو روشن کروں گا خوشحالی لاؤں گا کرپشن کا خاتمہ بھی کروں گا اور مالیاتی اداروں کی ڈکٹیشن لینے سے انکار کروں گا۔

خاتونِ اوّل، بشریٰ بی بی صاحبہ، نے بھی طیب اردوان کی تعریف کرتے ہُوئے تصدیق کی کہ اُن کے سرتاج وزیر اعظم بھی جناب اردوان کو بے حد پسند کرتے ہیں۔ انھوں نے ملک میں پارلیمانی کے بجائے، صدارتی طرزِ حکومت کو رواج دیا ہے ۔ اب جب کہ عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بن چکے ہیں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا وہ اب بھی مہاتیر محمد اور طیب اردوان کی پالیسیوں کے تتبع میں پاکستان کو آگے بڑھانے کا عندیہ رکھتے ہیں؟ اور یہ کہ وہ ان دونوں حکمرانوں سے کیا کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟

گزشتہ روز ایک خبر یوں شایع ہُوئی تھی: ’’ ترک صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکی نے آئی ایم ایف سے قرضے لینے کا رجسٹر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔ اپنی پارٹی کے27ویں مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہُوئے انھوں نے کہا کہ ترکی کا اقتصادی اشاریہ بہت سے ممالک سے زیادہ اچھی سطح پر ہے، اس لیے عالمی مالیاتی فنڈ ز ( آئی ایم ایف) کا رجسٹر ہمیشہ کے لیے ہم نے بند کر دیا ہے۔ ترک معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے۔ یہ قوم کے اعتماد اور پوری حکومتی ٹیم کی مشترکہ اور انتھک کاوشوں کا نتیجہ ہے۔‘‘ کیا ہمارے چیف ایگزیکٹو صاحب بھی اِسی طرح آئی ایم ایف کے بارے میں ایسا ہی کوئی اعلان کر سکتے ہیں؟۔

قوم حیران ہے کہ خان صاحب کا ہیرو ( طیب اردوان) آئی ایم ایف کو طلاق دینے کی باتیں کر رہا ہے اور خان صاحب کے وزیر خزانہ اُسی عالمی مالیاتی ادارے کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ’’دل پھر کُوئے ملامت کوجائے ہے/ پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہُوئے۔‘‘ ہمیں معلوم ہے کہ جبریہ حالات نے خان صاحب کو اپنے سابقہ اعلانات کے برعکس یہ قدم اُٹھانے پر مائل کیا ہے۔ ہماری معیشت ملائیشیا اور ترکی کی طرح مضبوط ہوتی تو شائد ہمارے وزیر اعظم صاحب بھی آئی ایم ایف کے سامنے یونہی سینہ تان سکتے۔

کہنا پڑے گا کہ ہمارے محبوب وزیر اعظم نے آئی ایم ایف کے پاس جا نے کا عندیہ دے کر دراصل اپنے ہیرو طیب اردوان کی جرأتوں کے برعکس فیصلہ کیا ہے۔ واقعہ بھی یہ ہے کہ طیب اردوان کا دل میں احترام اور اکرام رکھنے کے باوجود خان صاحب کئی معاملات میں پوری طرح اُن کے نقوشِ قدم پر نہیں چل سکتے۔ چلنا بھی نہیں چاہیے کہ ہمارے مسائل اور معاملات اُن سے مختلف ہیں۔ مثلاً: طیب اردوان جس ملک اور قوم کے سربراہ ہیں، اُس ملک اور قوم کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ جب کہ عمران خان صاحب جس ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں، وہ ملک اور اُس کے عوام اسرائیل کو ایک ناجائز، غاصب اور خائن ریاست سمجھتے ہیں۔

پاکستان کے پاسپورٹ پر واضح طور پر لکھا ہے کہ اس ملک کا کوئی شہری اسرائیل نہیں جا سکتا۔ ترکی میں مبینہ طور پر اِس وقت (بعض) اخبار نویسوں اور حکمرانوں کے درمیان تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔ جب کہ وزیر اعظم عمران خان کے ملک میں، الحمدللہ، خان صاحب اور پاکستان کی صحافتی برادری کے مابین کوئی کشیدگی ہے نہ تناؤ ۔ اس فرق کے باوجود ہم سب پاکستانی عوام ترکی اور طیب اردوان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ پیرس کی ’’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘‘ نے پاکستان کو دھمکایا تو اس آزمائشی موقع پر یہ صرف ترکی تھا جو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہُوا تھا۔

ہمارے دو مشہور دوست ممالک نے تو پاکستان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پاکستان کے خلاف تازہ بھارتی جارحیت کے موقع پر ترکی ڈٹ کر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ عمران خان کا دَورئہ ترکی بھی ایک بار پھر ثابت کر گیا تھا کہ پاک، ترک تعلقات مثالی ہیں ۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم جناب مہاتیر محمد کو بھی ہمارے وزیر اعظم عمران خان دل سے چاہتے ہیں۔ مہاتیر محمد میں واقعی معنوں میں کئی ایسے خواص ہیں جو انھیں لائقِ احترام بناتے ہیں۔ انھوں نے محنت اور کمٹمنٹ سے اپنے ملک کو دُنیا کے محترم ممالک میں لا کھڑا کیا ہے۔ صنعت اور تعلیم کو جدید عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنا کر اپنے عوام کی غربت میں کمی اور خوشحالی میں اضافہ کیا ہے۔ ملائیشیا کو پہلے کی نسبت کئی گنا زیادہ صاف ، شفاف اور سرسبز بنایا ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے وزیر اعظم نے ’’ کلین اینڈ گرین پاکستان‘‘ کی طرف جو پہلا عملی قدم اُٹھایا ہے، دراصل اپنے ہیرو مہاتیر محمد کی پیروی ہے اور یہ پیروی مستحسن بھی ہے۔ مہاتیر محمد اپنے ملک کے سابق حکمرانوں اور اُن کے اہلِ خانہ کی اربوں ڈالر کی مبینہ کرپشن سامنے لا کر سخت احتساب کر رہے ہیں۔ سابق ملائشین وزیر اعظم ، نجیب رزاق، اور اُن کی اہلیہ، پتری زائنہ سکندر، دارو گیر کے کئی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ نجیب رزاق پر 32 اور اُن کی اہلیہ پر17 منی لانڈرنگ کے مقدمات چل رہے ہیں۔ عمران خان بھی بدعنوانوں کو اِسی اسلوب میں نشانہ عبرت بنا کر پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانا چاہتے ہیں۔ خان صاحب کے ان اقدامات کی بازگشت ملائیشیا تک بھی یقینا پہنچی ہو گی۔ اِسی لیے تو ڈاکٹر مہاتیر محمد صاحب ہمارے وزیر اعظم کو کئی بار تحسینی فون بھی کر چکے ہیں۔

دونوں نے ایک دوسرے کو انتخابات میں کامیابیاں سمیٹنے کی مبارکبادیں بھی دی تھیں۔ عمران خان ملائیشیا کا دَورہ کر چکے ہیں اور اب مہاتیر محمد پاکستان تشریف لائے ہیں۔ پاکستان اور ملائیشیا میں اچھے اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ ہمارے ایک ممتاز عالمِ دین پر جب بوجوہ پاکستان کی زمین تنگ ہو نے لگی تو انھیں بھی امان ملائیشیا ہی میں ملی۔ جناب عمران خان اور جناب ڈاکٹر مہاتیر محمد کی باہمی محبت ایک واقعہ ہے.

مگر سوال یہ ہے کہ مہاتیر محمد نے جس دانشمندی کے ساتھ اپنے ملک میں چینی سرمایہ کاری کے لیے چین کے سامنے جو انتہائی جائز اور دل کو لگنے والی شرائط رکھی ہیں. کیاعمران خان ایسی ہی دانشمندی کی چمک دکھا سکتے ہیں؟ چینی صحافیوں کی وساطت سے پاکستان کے بہترین دوست، چین، تک ایسی ہی خواہشات پہنچا سکتے ہیں؟ مہاتیر محمد نے جس شائستگی اور تہذیب سے چینیوں کے سامنے یہ شرائط رکھی ہیں، ہمارے سب حکام کو مہاتیر محمد کا چینی صحافیوں کو دیا گیا انٹرویو پڑھنا اور سننا چاہیے۔ عمران خان سمیت ہماری جملہ ہیتِ مقتدرہ اِس انٹرویو کے مندرجات سے کئی سبق سیکھ سکتے ہیں۔

تنویر قیصر شاہد

نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں قرآن کی تلاوت، وزیرِاعظم کا ‘السلامُ علیکم’ سے خطاب کا آغاز

نیوزی لینڈ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی اجلاس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا جبکہ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے سلام سے خطاب کا آغاز کیا۔ نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں اسپیکر ٹریور مالارڈ کی قیادت میں منعقد خصوصی اجلاس میں تمام مذاہب کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے کے بعد پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا آغاز قرآن پاک کی سورۃ البقرہ کی آیات 153-156 کی تلاوت سے ہوا۔ واضح رہے کہ سورۃ البقرہ کی ان آیات میں ایمان والوں کو صبر کی تلقین کی گئی ہے جبکہ اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ نہ کہنے کا حکم ہے، ان آیات میں جان و مال سے آزمائے جانے کا بھی ذکر ہے۔

قرآن پاک کی تلاوت کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اجلاس سے خطاب کا آغاز سلام سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی دہشت گرد کو اس دہشت گردی سے بہت سی چیزیں مطلوب تھیں وہ شہرت (بدنامی) کی تلاش میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ آپ مجھے کبھی اس (دہشت گرد) کا نام لیتے ہوئے نہیں سنیں گے، وہ ایک دہشت گرد ہے، مجرم ہے، وہ ایک انتہا پسند ہے لیکن جب میں اس کے حوالے سے بات کروں گی تو وہ بے نام ہو گا‘۔ جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ’ان کا نام لیں جنہیں اس حادثے میں کھو دیا نہ کہ اس شخص کا جو اس کا ذمہ دار ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ اسے شاید شہرت کی تلاش ہو گی لیکن ہم نیوزی لینڈ میں اسے کچھ نہیں دیں گے، اس کا نام بھی نہیں‘۔ 

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت متاثرین کا خیال اور سب کی حفاظت ضروری ہے‘۔ وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم آپ کا غم نہیں جان سکتے لیکن ہم ہر مرحلے پر آپ کا ساتھ دے سکتے ہیں، ہم محبت، مہمان نوازی سے آپ کا ساتھ دے سکتے ہیں اور دیں گے‘۔ نیوزی لینڈ کے نائب وزیراعظم اور وزیر برائےخارجہ امور ونسٹن پیٹرس نے اس مشکل گھڑی میں جیسنڈا آرڈرن کی کارکردگی کو سراہا۔ ونٹسن پیٹرس نے کہا کہ ’ان کی وضاحت، ہمدردی اور متحد قیادت ملک کو اس آزمائش کے حل میں مدد دے رہی ہے، ہم اس مثال پر عمل کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی لائی گئی اور یہ ایک بزدلانہ کام تھا۔

بشکریہ ڈان نیوز

بوسنیائی جنگ : جنگی مجرم راڈووان کراڈچچ جیل سے کبھی باہر نہیں آئے گا

نوے کی دہائی میں بوسنیا کی جنگ کے دوران بوسنیائی سربوں کی قیادت کرنے والے رہنما اور جنگی مجرم راڈووان کراڈچچ کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف ایک اپیل اقوام متحدہ کی ایک عدالت نے مسترد کر دی ہے۔ راڈووان کراڈچچ کے خلاف یہ مقدمہ انیس سو نوے کی دہائی میں بوسنیا کی جنگ کے دوران جنگی جرائم، قتل عام کے واقعات، بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق آج تک کے سب سے بڑے مقدمات میں سے ایک تھا ۔  کراڈچچ کو ماضی میں دی ہیگ میں اقوام متحدہ کی عدالت نے مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا تو سنا دی تھی لیکن کراڈچچ کی طرف سے اس سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی تھی۔ اب اس عالمی عدالت نے نہ صرف یہ اپیل مسترد کر دی ہے بلکہ مجرم کو سنائی گئی عمر قید کی سزا میں اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔

اس موقع پر ہالینڈ کے دارالحکومت دی ہیگ میں قائم اس عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ راڈووان کراڈچچ کے جرائم کو مد نظر رکھا جائے تو انہیں گزشتہ فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اب پہلے سے زیادہ اور 40 سال کی جو نئی سزائے قید سنائی گئی ہے، وہ بھی دراصل بہت کم ہے۔ اس کے برعکس خود راڈووان کراڈچچ نے، جن کی قیادت میں بوسنیائی سرب دستے بوسنیا کی جنگ کے دوران بوسنیائی مسلمانوں کے علاوہ بوسنیائی کروآٹ فورسز کے خلاف بھی لڑتے رہے تھے، کہا کہ وہ قریب ایک چوتھائی صدی پہلے بوسنیا کی جنگ کے دوران سریبرینتسا میں مسلمانوں کے قتل عام سمیت جنگی جرائم کی اخلاقی ذمے داری تو قبول کرتے ہیں لیکن ذاتی طور پر خود کو ان جنگی جرائم کا ذمے دار نہیں سمجھتے۔ کراڈچچ کی عمر اس وقت 73 برس ہے اور 40 سال قید کا مطلب ہے کہ ان کے لیے اب جیل سے زندہ باہر نکلنا ناممکن ہو گا۔ عدالت کے مطابق کراڈچچ بوسنیا کی جنگ کے دوران جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا لازمی حصہ رہے تھے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد خونریز ترین یورپی تنازعہ بوسنیا کی جنگ 1992 سے لے کر 1995 تک جاری رہی تھی اور وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد براعظم یورپ کی سب سے ہلاکت خیز اور خونریز‍ جنگ ثابت ہوئی تھی۔ اس جنگ میں ایک لاکھ سے زائد انسان ہلاک ہوئے تھے اور کئی ملین بے گھر بھی ہو گئے تھے۔ راڈووان کراڈچچ نے اپنے جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کی عدالت کے جس گزشتہ فیصلے کے خلاف یہ اپیل دائر کی تھی، وہ 2016 میں سنایا گیا تھا۔ بوسنیائی جنگ کے بعد کراڈچچ سربیا میں روپوش ہو گئے تھے اور انہیں 2008 میں سربیا ہی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تب وہ وہاں ایک تھیراپسٹ کے طور پر روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے۔

شاعر جو جنگی مجرم بن گیا
کراڈچچ کے بارے میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ بوسنیائی سرب سیاستدان ایک پیشہ ور ماہر نفسیات ہونے کے علاوہ ایک شاعر بھی تھے، پھر جنگ کے دوران وہ ’وارلارڈ‘ بن گئے تھے، اس کے بعد سربیا میں چھپ کر وہ کم از کم تیرہ برس تک ایک تھیراپسٹ کی زندگی گزارتے رہے تھے اور اب نسل کشی اور جنگی جرائم کے مرتکب سزا یافتہ مجرم کے طور پر وہ اپنی باقی ماندہ زندگی جیل میں گزاریں گے۔ کراڈچچ کی سزا کی توثیق اور اس میں اضافے کے آج کے عدالتی فیصلے کی بوسنیائی جنگ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین ، خاص کر سریبرینتسا میں مسلمانوں کے قتل عام جیسے واقعات کے ہلاک شدگان کے پسماندگان نے خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ’نفرت سے بھرے ایک مجرم کو اس کے کیے کا صلہ مل گیا ہے‘۔ بوسنیائی جنگ کے دوران سریبرینتسا میں بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی کے صرف ایک واقعے میں ہی جولائی 1995 میں کراڈچچ کے زیر کمان بوسنیائی سرب دستوں نے تقریباﹰ 8000 مسلمان مردوں اور نوجوان لڑکوں کا قتل عام کیا تھا۔

بشکریہ DW اردو

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن سبقت لے گئیں

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنے ملک کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے حال ہی میں 50 مسلمانوں کی شہادت کے واقعے سے متعلق جو خطاب کیا وہ نہ صرف تاریخی بلکہ ایک ایسا موثر خطاب تھا جس نے براہ راست تمام صاحب احساس انسانوں کے دلوں پر اپنا نقش چھوڑ دیا، اس تقریر سے وزیر اعظم کی شخصیت ایک ایسی رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئی جو نہ صرف واضح سوچ رکھتی ہیں بلکہ مکمل طور پر بے غرض اور قابل رشک فہم و فراست کی مالک ہیں، اس حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں کہ اس سے قبل کسی وزیر اعظم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اس قدر فکر انگیز حکمت عملی پیش نہیں کی۔ اگر ان کے خطاب کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ اپنے اس خطاب میں وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے سیاستدانوں، عوام اور ذرائع ابلاغ سمیت ہر طبقے کو نہایت اہم پیغامات دئیے ہیں۔

وزیر اعطم نیوزی لینڈ کا پہلا پیغام، مسجد میں گھس کر نہتے مسلمانوں کو قتل کرنے والے شخص کی اس کارروائی کو انہوں نے انتہائی دوٹوک الفاظ میں دہشت گردی قرار دیا، اس شخص کو مہذب معاشرے کیلئے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کا نام نہیں لوں گی کیونکہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ عوام میں اس کی کوئی شناخت ہو، انہوں نے کہا کہ اس دہشت گرد نے جو سفاکانہ کارروائی کی اس سے وہ کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا، ان میں سے ایک مقصد شہرت حاصل کرنا بھی تھا خواہ یہ بدنامی ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ آپ میری زبان سے کبھی اس شخص کا نام نہیں سنیں گے، وہ ایک مجرم، انتہا پسند اور ایک دہشت گرد ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں، یہی وجہ ہے کہ میری گفتگو میں کبھی اس کا نام میری زبان پر نہیں آئے گا، وہ بے نام ہی رہے گا۔

وزیر اعظم جیسنڈا نے پرعزم لہجے میں مزید کہا کہ ہم اپنے ملک میں اس شخص کو کچھ نہیں دیں گے، یہاں تک کہ اسے اس کا نام بھی نہیں دیں گے۔ پارلیمنٹ سے اپنے فکر انگیز اور عزم و استقلال سے معمور خطاب میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے دوسرا اہم پیغام دیتے ہوئے اپنی قوم سے کہا کہ اس دلخراش واقعے کا ذکر کرتے ہوئے صرف ان لوگوں کے نام لئے جائیں جو اب موت کی آغوش میں جا چکے ہیں، لیکن کسی بھی صورت میں اس درندہ صفت شخص کا نام نہ لیں جس نے شہرت کی ہوس یا کسی اور منفی جذبے کے تحت اتنی بڑی تعداد میں بے گناہ انسانوں کو قتل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام ہم وطنوں سے درخواست کرتی ہوں کہ ایسے سنگدل مجرم کا نام لینے کے بجائے کہ جس نے اتنے سارے زندہ انسانوں کی زندگی کے چراغ گل کر دئیے ان بے خطا انسانوں کے نام لئے جائیں جو اس کی درندگی کا نشانہ بن کر ہم سب سے بہت دور جا چکے ہیں۔

جیسنڈا آرڈرن کے خطاب میں تیسرا پیغام ان کا یہ وعدہ تھا کہ اس غمناک واقعے سے جو لوگ براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہوئے ان سب کے ساتھ جلد از جلد انصاف کیا جائے گا، عدالتی کارروائی فوری شروع کرنے کیلئے ملکی قوانین کو بلا تاخیر متحرک کیا جائے گا۔ اپنی تقریر میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ نے چوتھا پیغام جدید دور کے ذرائع ابلاغ کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک واقعے پر سوشل میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہم اس کا پوری توجہ کے ساتھ جائزہ لیں گے، اس کے ساتھ ہی اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ ہم اس کے بارے میں کیا اقدامات کر سکتے ہیں، ہم اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر یہ بھی دیکھیں گے کہ بین الاقوامی سطح پر سوشل میڈیا نے کیا کردار ادا کیا، وزیر اعظم جیسندا کا واضح اشارہ اس جانب تھا کہ قاتل 17 منٹ تک اس خونریزی کو فیس بک پر نشر کرتا رہا، سوشل میڈٖیا کمپنیوں نے اس ویڈیو کو فوری نہیں ہٹایا بلکہ کچھ دیر بعد یہ کام کیا، لیکن اس ویڈیو کو دوبارہ اپ لوڈ کر کے اسی روز ٹویٹر اور یوٹیوب کو فراہم کر دیا گیا۔

وزیر اعظم نیوزی لینڈ نے مزید کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانوں کو تقسیم کرنے اور ان کے درمیان نفرت پھیلانے کا عمل کئی عشروں سے جاری ہے، لیکن اس عمل میں جو جدید طریقے، آلات اور انتظامی سہولتیں اب میسر ہیں وہ پہلے نہیں تھیں، انہوں نے کہا کہ ہم متعصبانہ اور انسان دشمن مواد کو پھیلانے والے ذرائع کو کھلی چھوٹ نہیں دے سکتے، یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ ان ذرائع پر خواہ کچھ بھی نشر ہوتا رہے ہم ان کے بارے میں خاموش رہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اس بات کو کبھی درست نہیں سمجھ سکتے کہ جو کچھ ان ذرائع ( سوشل میڈیا) پر شائع یا نشر ہو رہا ہے وہ ان ذرائع کی ذمے داری نہیں ہے.

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ ایسے مواد کو شائع اور نشر کرنے والے جان لیں کہ وہ پبلشر ہیں کوئی پوسٹ مین نہیں کہ ہر بات کی ذمے داری سے بری ہو جائیں، ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ آپ منافع تو سارا لے جائیں لیکن کوئی ذمے داری قبول نہ کریں‘‘ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے یہ بات کہہ کر دراصل ان لوگوں کو چیلنج دیا ہے جن کا موقف ہے کہ تمام ذرائع ابلاغ کو خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو ہر قسم کا مواد شائع اور نشر کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ جیسنڈا آرڈرن نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا اس کی تائید کرتے ہوئے انالیسا میریلی نے نیوز ویب سائٹ ’’ کوارٹز‘‘ میں شائع اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ 11 ستمبر 2001 سے قبل بہت کم لوگوں نے القاعدہ اور اسامہ بن لادن کا نام سنا تھا، اسی طرح 2013 کے دوران بوسٹن میں میراتھن ریس پر حملہ کرنے والے جوہر سارنیف کا نام بھی کوئی نہیں جانتا تھا، البتہ جب اس نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر بے قصور شہریوں کو نشانہ بنایا تو دنیا اس کے نام سے آشنا ہو گئی

انہوں نے مزید لکھا کہ ناروے کے دہشت گرد اینڈرز بریوک نے 2011 میں 80 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، اس شخص کو اور اس کے سفاکانہ جرم کو بڑے پیمانے پر شہرت ملی، اگر ایسا نہ ہوتا تو اس شخص کو جو ایک خطرناک مجرم تھا نہ یوں شہرت ملتی اور نہ ہی وہ سفید فام نسل پرست دہشت گردوں کیلئے ایک قابل تقلید مثال بن کر اس منفی سوچ اور طرز عمل کو پھیلانے میں مددگار بنتا، ہو سکتا ہے اینڈرز بریوک سے متاثر ہونے والے متعصب سفید فام لوگوں میں وہ مردود شخص بھی شامل ہو جس نے نیوزی لنڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملہ کر کے 50 بے گناہ انسانوں کی زندگی کے چراغ گل کر دئیے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے دہشت گردی جیسے نازک ترین اور خوفناک مسئلے پر پورے اعتماد، یقین اور عزم کے ساتھ دوٹوک انداز میں گفتگو کی، یہی نہیں بلکہ انہوں نے اس لعنت کی پرزور مذمت بھی کی ، اس کے علاوہ انہوں نے عالمی برادری اور تمام معاشروں کو بھی بیدار کرنے کی کوشش کی ہے ، ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ دہشت گردی کا مجرم خواہ کسی رنگ ، کسی نسل اور کسی عقیدے کا پیروکار ہو اس کی مذمت میں کسی مصلحت کا شکار نہ ہوا جائے ، ایسے ہر انسان دشمن شخص اور اس کی نفرت انگیز حرکت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت عالمی برادری کا اولین فریضہ ہونا چاہیے ۔

بشکریہ دنیا نیوز

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا خود کار ہتھیاروں پر پابندی کا اعلان

نیوزی لینڈ میں خودکار ہتھیاروں پر پابندی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم جیسنڈا آرڈن کا کہنا ہے کہ قانون سازی جلد کی جائے گی، یہ صرف کام کا آغاز ہے۔ مساجد میں فائرنگ کے بعد وزیر اعظم نے خود کار اور نیم خود کار رائفلز اور حملوں میں استعمال ہونے والے اسلحے کی فروخت پر بھی پابندی لگا دی۔ جیسنڈا آرڈن نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں جلد قانون سازی کی جائے گی، پولیس تفصیل ملنے کے بعد انہیں تباہ کر دے گی۔ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں شہدا کی تدفین کا سلسلہ بھی جاری ہے، کراچی کے رہائشی اریب کی نماز جنازہ میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

افغان شہریوں حاجی داؤد نبی اور مطیع اللہ صافی کی نماز جناہ بھی کرائسٹ چرچ میں ادا کی گئی۔ مساجد میں فائرنگ کے واقعے کے بعد نیوزی لینڈ کے شہری لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ولنگٹن کی وکٹوریہ یونیورسٹی کے طلبا نے 50 میٹر طویل دیوار پر تعزیتی پیغامات لکھ کر سانحہ کرائسٹ چرچ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ نیوزی لینڈ کے اداکار سیم نیل کا کہنا ہے کہ مساجد میں فائرنگ کی اطلاع مسلمان ٹیکسی ڈرائیور نے دی جسے سن کر وہ جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا اس مشکل گھڑی میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈن کا کردار قابل تحسین ہے۔